لندن میں حجاب پوش مسلمان خاتون کو ملک چھوڑنے کا طعنہ، نسل پرستی اور اسلام مخالف رویے کی پولیس تحقیقات شروع
کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں ویسٹرن یونیورسٹی کے کیمپس میں ایک مسلمان خاتون کو حجاب اتارنے کے لیے کہنے، مسلمانوں کے کینیڈا میں نہ ہونے کا دعویٰ کرنے اور پاکستانی ہونے کا طعنہ دینے والے شخص کے خلاف پولیس کی نفرت انگیز جرائم کی یونٹ نے تحقیقات شروع کر دی ہیں واقعے کی ویڈیو میں ایک شخص کو خواتین کے ساتھ بحث کرتے، حجاب کے خلاف بات کرتے اور نسل پرستانہ جملے کہتے سنا جا سکتا ہے واقعے کے وقت بچوں کی موجودگی کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے
موبائل فون سے بنائی گئی 2 منٹ 45 سیکنڈ کی ویڈیو میں ایک شخص کاروباری اداروں کے نشانات والی گاڑی میں بیٹھا ایک خاتون سے بحث کرتا دکھائی دیتا ہے، جو اس واقعے کی ویڈیو بنا رہی تھی خاتون کا کہنا تھا کہ وہ شخص اسے حجاب اتارنے کے لیے کہہ رہا ہے اور دعویٰ کر رہا ہے کہ مسلمان یہاں کے نہیں ہیں
ویڈیو میں خاتون اس شخص سے پوچھتی ہے کہ مسلمان کینیڈا میں کیوں نہیں رہ سکتے اس پر وہ شخص جواب دیتا ہے کہ وہ مغربی ثقافت کی نمائندگی نہیں کرتے جب خاتون پوچھتی ہے کہ عورت کو حجاب کیوں نہیں پہننا چاہیے تو وہ شخص کہتا ہے کہ یہ مسیحی اقدار کے خلاف ہے خاتون جواب دیتی ہے کہ حجاب پہننا اس کی اپنی مرضی ہے، لیکن وہ شخص کہتا ہے کہ یہ اس کا ملک ہے
بحث کے دوران جب دوسری خواتین نے مداخلت کرکے حجاب پہننے والی خاتون کا دفاع کیا تو اس شخص نے ایک خاتون کے پاکستانی ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ وہ یہاں کی نہیں ہے اس پر دوسری خاتون نے سوال اٹھایا کہ اسے کیسے معلوم کہ وہ پاکستانی ہے اور وہ اسے جانتا بھی ہے یا نہیں اس شخص نے جواب میں توہین آمیز زبان استعمال کی اور کہا کہ اس نے ان لوگوں کو یہاں آنے کے لیے نہیں کہا تھا
ویڈیو کے ایک اور حصے میں جب خواتین نے اسے نسل پرست کہا تو اس شخص نے جواب دیا کہ ہاں، وہ نسل پرست ہے اس کے یہ الفاظ ویڈیو میں واضح طور پر سنائی دیتے ہیں
خبر کے لیے اس شخص سے رابطہ کیا گیا تو اس نے اپنی شناخت صرف ٹام کے نام سے کرائی۔ اس کا کہنا تھا کہ واقعہ اس وقت شروع ہوا جب خاتون نے اسے درمیانی انگلی دکھائی تھی تاہم، اس وضاحت کے باوجود اس نے اعتراف کیا کہ اس کا رویہ نامناسب تھا
ٹام نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وہ قوم پرست ہے اور اس کے خیال میں کینیڈا کی تعمیر میں آئرش، اسکاٹش اور دیگر مغربی ثقافتوں کا بنیادی کردار رہا ہے اس نے دعویٰ کیا کہ مغربی ثقافت مسیحی اقدار پر قائم ہوئی تھی اور اسے محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ دور میں ان اقدار کو نظرانداز کیا جا رہا ہے
لندن کے ائمہ کی کونسل کے سربراہ عبد الفتاح توکل نے ویڈیو پر شدید تشویش کا اظہار کیا ان کا کہنا تھا کہ ویڈیو میں موجود گفتگو نسل پرستانہ، اسلام مخالف اور کئی اعتبار سے پریشان کن ہے انہوں نے خاص طور پر اس بات کو قابل تشویش قرار دیا کہ ایک مسلمان خاتون کو، جو حجاب پہنے ہوئے تھی، اس کے بچوں کے سامنے نشانہ بنایا گیا
نیشنل کونسل آف کینیڈین مسلمز نے بھی صوبائی اور وفاقی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اسلاموفوبیا کے خلاف مؤثر اقدامات کیے جائیں کونسل کے ترجمان اسٹیون ژو نے کہا کہ منتخب نمائندوں کو مسلم برادری کے ساتھ بیٹھ کر اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی تیار کرنی چاہیے
ویسٹرن یونیورسٹی نے اپنے ردعمل میں کہا کہ وہ نفرت اور امتیازی سلوک برداشت نہیں کرتی اور کیمپس سے وابستہ تمام افراد کے لیے محفوظ، باعزت اور معاون ماحول فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے یونیورسٹی کے مطابق وہ حکومت کی مختلف سطحوں اور لندن پولیس کے ساتھ مل کر نفرت اور امتیازی سلوک کے خلاف اقدامات کر رہی ہے یونیورسٹی نے متاثرہ افراد اور دیگر شہریوں پر زور دیا کہ وہ کیمپس میں نفرت یا امتیازی سلوک سے متعلق شکایات متعلقہ حفاظتی ادارے یا انسانی حقوق کے دفتر میں درج کرائیں
پولیس کی نفرت انگیز جرائم کی یونٹ کی تحقیقات کا علم ہونے کے بعد ٹام نے اپنے رویے پر معذرت کی اس نے کہا کہ اس نے برا کام کیا اور وہ اسے تسلیم کرتا ہے جب اس سے پوچھا گیا کہ کیا وہ خود پولیس کے سامنے پیش ہوگا تو اس نے کہا کہ غالباً وہ پولیس سے رابطہ کرے گا تاکہ معاملہ آسانی سے آگے بڑھ سکے اس نے یہ بھی کہا کہ اسے اپنے عمل کے نتائج بھگتنا ہوں گے
ویڈیو میں نظر آنے والی خواتین نے اپنی شناخت ظاہر کرنے سے انکار کیا اور انٹرویو دینے پر بھی رضامند نہیں ہوئیں پولیس کی تحقیقات جاری ہیں اور تاحال کسی عدالتی فیصلے کا ذکر نہیں کیا گیا
یہ واقعہ کینیڈا میں مذہبی آزادی، حجاب پہننے کے حق اور مسلمانوں کے خلاف تعصب کے مسئلے کو دوبارہ نمایاں کرتا ہے۔ کینیڈا میں مختلف مذاہب اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین اور ادارہ جاتی طریقہ کار موجود ہیں ایسے واقعات میں پولیس کی تحقیقات، متاثرہ افراد کی شکایات اور قانونی کارروائی اس بات کا تعین کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کہ آیا کسی عمل نے قانون کی خلاف ورزی کی ہے





