Chief Editor : Mohammad Afaq Farooqi
Contributing Editor : Ahmad Waqas Riaz

ٹرمپ کی انتخابی مشکلات کا ملبہ کینیڈا پر ڈالنے کی تیاری؟ امریکی سفیر کا بند کمرے کے اجلاس میں انتباہ، مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست پر کینیڈا کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے کا خدشہ

ٹرمپ کی انتخابی مشکلات کا ملبہ کینیڈا پر ڈالنے کی تیاری؟ امریکی سفیر کا بند کمرے کے اجلاس میں انتباہ، مڈٹرم انتخابات میں ریپبلکنز کی شکست پر کینیڈا کو ذمہ دار ٹھہرائے جانے کا خدشہ

اوٹاوا: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے کینیڈا میں سفیر پیٹ ہوئکسٹرا نے خبردار کیا ہے کہ اگر نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچا تو امریکہ میں بعض حلقے اس کا ذمہ دار کینیڈا کو ٹھہرا سکتے ہیں امریکی حکام پہلے ہی کینیڈین سیاست دانوں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے اور انہیں امریکی انتخابات میں مبینہ مداخلت کے تناظر میں دیکھنے کی بات کر چکے ہیں اس تنازع نے دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے کشیدہ تجارتی تعلقات میں مزید تناؤ پیدا کر دیا ہے
ہوئکسٹرا کے اعتراضات کا بنیادی تعلق کینیڈا کی جانب سے امریکی محصولات کے جواب میں جوابی محصولات عائد کرنے اور ٹرمپ حکومت کی تجارتی پالیسی پر تنقید سے ہے ان کے مطابق کینیڈا کے بعض اقدامات کو امریکی انتخابی سیاست پر اثر انداز ہونے کی کوشش سمجھا جا سکتا ہے
امریکی سفیر نے اونٹاریو حکومت کی جانب سے 2025 میں امریکہ میں نشر کیے گئے ایک اشتہار کا حوالہ بھی دیا، جس میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے آزاد تجارت اور محصولات کے خلاف بیانات شامل تھے اس اشتہار کے بعد ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ تجارتی مذاکرات روک دیے تھے ہوئکسٹرا نے کینیڈا کی وزیر صنعت میلانی جولی کے ان بیانات پر بھی اعتراض کیا جن میں امریکی ریاستوں پر جوابی محصولات کے ذریعے سیاسی دباؤ ڈالنے کا ذکر کیا گیا تھا
امریکی سفیر نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے کینیڈین سرگرمیوں کو انتخابی مداخلت قرار دیا تو امریکہ جواب دے سکتا ہے تاہم انہوں نے ان الزامات کے حق میں کوئی واضح ثبوت پیش نہیں کیا کہ کینیڈا کی حکومت امریکی انتخابات میں غیر قانونی مداخلت کر رہی ہے
کینیڈا کی وزیر صنعت میلانی جولی نے امریکی سفیر کے الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کینیڈا امریکی انتخابات میں مداخلت نہیں کرتا اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے انہوں نے واضح کیا کہ امریکہ کے دوروں کے دوران ان کی توجہ امریکی کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں کو کینیڈا میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے پر رہی ہے
جولی کے مطابق وہ امریکی ڈیموکریٹک اور ریپبلکن دونوں جماعتوں سے تعلق رکھنے والے سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات سے ملاقاتیں کرتی رہی ہیں ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کرنا ان کی سرکاری ذمہ داری کا حصہ ہے، اسے انتخابی مداخلت قرار دینا درست نہیں
وزیراعظم مارک کارنی نے بھی امریکی الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ کینیڈا اپنے قومی مفادات کا تحفظ کرے گا انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے کینیڈا تیار ہے، لیکن اس کے لیے واشنگٹن کو بھی سنجیدگی اور منصفانہ رویے کا مظاہرہ کرنا ہوگا
3 نومبر کے انتخابات کیوں اہم ہیں؟
امریکہ میں 3 نومبر کو ہونے والے وسط مدتی انتخابات میں ایوان نمائندگان کی تمام نشستوں اور سینیٹ کی تقریباً ایک تہائی نشستوں پر مقابلہ ہوگا اس وقت ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کا چیلنج درپیش ہے اگر ڈیموکریٹس کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو ٹرمپ حکومت کے قانون سازی کے منصوبوں اور انتظامی فیصلوں پر نگرانی بڑھ سکتی ہے
تجارتی محصولات، مہنگائی اور روزمرہ اشیا کی قیمتیں انتخابی بحث کے اہم موضوعات ہیں کینیڈا اور امریکہ کی معیشتیں ایک دوسرے سے گہرے طور پر منسلک ہیں، خصوصاً گاڑیوں، توانائی، لکڑی، زرعی مصنوعات اور صنعتی پرزہ جات کی تجارت میں امریکی محصولات نے دونوں ملکوں کے کاروبار اور سرحد پار سپلائی چین کو متاثر کیا ہے
کینیڈا کے جوابی محصولات اور امریکی ریاستوں پر ممکنہ معاشی دباؤ کی بحث اس لیے بھی اہم ہے کہ بعض ریاستوں میں کینیڈا کے ساتھ تجارت مقامی صنعتوں اور روزگار کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے تاہم تجارتی پالیسی پر اثر انداز ہونے کی کوشش اور کسی ملک کے انتخابی عمل میں غیر قانونی مداخلت دو الگ معاملات ہیں امریکی سفیر کے الزامات کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کینیڈا نے امریکی انتخابات میں مداخلت کی ہے
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں وزیراعظم کارنی نے اگست میں امریکی مذاکرات کاروں کی نئی شرائط کو غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے مذاکراتی ٹیم واپس بلا لی تھی دوسری طرف ٹرمپ حکومت کینیڈا کی تجارتی پالیسی اور امریکی منڈی تک رسائی کے معاملے پر دباؤ برقرار رکھے ہوئے ہے
اس صورت حال میں کینیڈا کے لیے ایک طرف اپنے کاروبار، ملازمتوں اور برآمدات کا تحفظ اہم ہے تو دوسری طرف امریکہ کے ساتھ طویل مدتی تجارتی تعلقات برقرار رکھنا بھی ضروری ہے اگر انتخابی سیاست کو تجارتی اختلافات کے ساتھ جوڑ دیا گیا تو مذاکرات مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں
امریکی سفیر کے بیان کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ واشنگٹن میں بعض حلقے ممکنہ انتخابی نقصان کے لیے کینیڈا کو ذمہ دار ٹھہرانے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں تاہم ریپبلکن پارٹی کی انتخابی کارکردگی کا فیصلہ امریکی ووٹرز کریں گے، اور نتائج کو کینیڈا کی مبینہ مداخلت سے جوڑنے کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوں گے فی الحال دونوں حکومتوں کے درمیان اصل اختلاف اس بات پر ہے کہ کینیڈا کی جوابی تجارتی پالیسی اور امریکی حکومت پر تنقید کو جائز سفارتی و معاشی اقدامات سمجھا جائے یا انتخابی سیاست میں مداخلت

قومی خبریں سے مزید