امریکہ میں کالج کی سالانہ لاگت 100,000 ڈالر سے تجاوز کر گئی، مگر زیادہ تر خاندان اتنی رقم ادا نہیں کرتے
امریکہ میں اعلیٰ تعلیم کی بڑھتی ہوئی قیمت نے ایک نئی حد عبور کر لی ہے،اب کم از کم 15 کالج اور جامعات ایسے ہیں جہاں ایک طالب علم کے لیے ایک سال کی مجموعی تعلیمی لاگت، جس میں ٹیوشن، رہائش، کتابیں اور دیگر فیسیں شامل ہیں، 100,000 ڈالر سے زیادہ ہو چکی ہے،ایک سال پہلے ایسے اداروں کی تعداد صرف 2 تھی
پرنسٹن ریویو کے اعداد و شمار کے مطابق کم از کم مزید 9 کالج اس حد کے بالکل قریب پہنچ چکے ہیں، جبکہ اعلیٰ تعلیم کے ماہرین کا کہنا ہے کہ 100,000 ڈالر سالانہ کی قیمت مستقبل میں مزید جامعات کے لیے معمول بنتی جائے گی
یہ اعداد و شمار بظاہر اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ امریکہ میں اعلیٰ تعلیم عام خاندانوں کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہے،تاہم کالج کی قیمتوں کی حقیقت صرف اس رقم سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے جو یونیورسٹی اپنی ویب سائٹ یا داخلہ بروشر میں ظاہر کرتی ہے
جامعات کی جانب سے شائع کی جانے والی رقم کو عموماً ’’اسٹیکر پرائس‘‘ کہا جاتا ہے،اس میں ٹیوشن کے ساتھ رہائش، کھانا، کتابیں، فیس اور دیگر اخراجات شامل ہوتے ہیں،لیکن زیادہ تر طلبہ اس پوری رقم کے عوض تعلیم حاصل نہیں کرتے
جامعات مختلف شکلوں میں مالی امداد، وظائف اور فیس میں رعایت فراہم کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں طالب علم کی حقیقی ادائیگی اعلان کردہ قیمت سے خاصی کم ہو سکتی ہے،تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اگرچہ کالج جانے کی مجموعی قیمت مسلسل بڑھ رہی ہے، لیکن مالی امداد کو شامل کرنے کے بعد بہت سے خاندانوں کی حقیقی ادائیگی میں گزشتہ برسوں کے دوران بہت زیادہ اضافہ نہیں ہوا بلکہ بعض خاندانوں کے لیے یہ معمولی طور پر کم بھی ہوئی ہے
یہ فرق امریکی اعلیٰ تعلیم کے بحران کو سمجھنے کے لیے انتہائی اہم ہے،ایک طرف 100,000 ڈالر سالانہ کی قیمت ایک ایسی تصویر پیش کرتی ہے جس میں کالج صرف امیر خاندانوں کے لیے قابل استطاعت نظر آتا ہے،دوسری طرف مالی امداد کے بعد ادا کی جانے والی اصل رقم کئی طلبہ کے لیے اس سے کہیں کم ہوتی ہے
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اعلیٰ تعلیم سستی ہو گئی ہے،کالج کی مجموعی قیمت میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے تعلیمی اخراجات اب بھی ایک بڑا مالی بوجھ ہیں،جن طلبہ کو خاطر خواہ مالی امداد نہیں ملتی، ان کے لیے ٹیوشن، رہائش، خوراک اور دیگر اخراجات کا مجموعہ واقعی بہت بھاری ہو سکتا ہے
100,000 ڈالر کی حد عبور کرنے والی جامعات کی بڑھتی ہوئی تعداد اس بات کی علامت بھی ہے کہ امریکی اعلیٰ تعلیم کا مالی ماڈل کس قدر مہنگا ہو چکا ہے،یونیورسٹیوں کے اخراجات، اعلیٰ معیار کی فیکلٹی، تحقیق، رہائشی سہولیات، انتظامی اخراجات اور طلبہ کو فراہم کی جانے والی مختلف خدمات سب مجموعی قیمت پر اثر انداز ہوتی ہیں
اس صورتحال میں اصل سوال صرف یہ نہیں کہ ’’کالج کی قیمت کتنی ہے؟‘‘ بلکہ یہ بھی ہے کہ ’’طالب علم آخر میں کتنی رقم ادا کرتا ہے، اسے کتنی مالی امداد ملتی ہے اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کے ذمے کتنا قرض رہ جاتا ہے” ؟
چنانچہ 100,000 ڈالر کا عدد ایک اہم علامت ضرور ہے، لیکن اسے امریکی اعلیٰ تعلیم کی حقیقی قیمت سمجھنا گمراہ کن ہو سکتا ہے،اصل بحران ان خاندانوں کے لیے ہے جنہیں بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مقابلے میں اتنی مالی امداد نہیں ملتی کہ وہ تعلیم کے اخراجات برداشت کر سکیں
امریکی اعلیٰ تعلیم میں اب ایک عجیب تضاد سامنے آ رہا ہے،یونیورسٹیوں کی اعلان کردہ قیمتیں تیزی سے 100,000 ڈالر سالانہ کی حد عبور کر رہی ہیں، لیکن مالی امداد کے بعد بہت سے طلبہ کی اصل ادائیگی اس رقم سے کہیں کم ہے،اس کے باوجود قیمتوں میں مسلسل اضافہ اس سوال کو مزید اہم بنا رہا ہے کہ امریکی کالج کی تعلیم آخر کب تک عام متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے قابل استطاعت رہ سکے گی





