اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوان جیت گئے تو کیا ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی واپس لی جا سکتی ہے؟ قانون کیا کہتا ہے اور آئی سی ای کا مستقبل کیا ہوگا؟

اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوان جیت گئے تو کیا ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی واپس لی جا سکتی ہے؟ قانون کیا کہتا ہے اور آئی سی ای کا مستقبل کیا ہوگا؟
تحقیق ،رپورٹ : آفاق فاروقی
نومبر 2026 کے وسط مدتی انتخابات میں اگر ڈیموکریٹک پارٹی ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں اکثریت حاصل کر لیتی ہے تو واشنگٹن میں طاقت کا توازن ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف ڈرامائی طور پر تبدیل ہو جائے گا، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہوگا کہ ٹرمپ کی امیگریشن پالیسی اگلے ہی دن ختم ہو جائے گی یا ICE ملک بھر میں گرفتاریاں اور ملک بدریاں بند کر دے گی
اصل صورت حال اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے، کیونکہ امریکی آئین میں امیگریشن کے حوالے سے اختیارات صدر اور کانگریس کے درمیان تقسیم ہیں،کانگریس قانون بناتی ہے اور وفاقی اداروں کے لیے رقم منظور کرتی ہے، جبکہ صدر اور انتظامیہ موجودہ قوانین کو نافذ کرتے ہیں،آئین کانگریس کو وفاقی اخراجات پر بنیادی اختیار دیتا ہے، جسے عام طور پر ’’پاور آف دی پرس‘‘ کہا جاتا ہے
اس لیے اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوانوں پر قبضہ کر لیتے ہیں تو ان کے پاس ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی کو روکنے کا سب سے طاقتور ذریعہ قانون سازی اور مالی اختیارات ہوں گے،لیکن یہاں ایک بڑی رکاوٹ پہلے ہی پیدا ہو چکی ہے
جون 2026 میں ریپبلکن اکثریت والی کانگریس نے تقریباً 70 ارب ڈالر کا ’’سیکیور امریکا ایکٹ‘‘ منظور کیا، جس پر صدر ٹرمپ نے 10 جون کو دستخط کر دیے،اس قانون نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ یعنی ICE کے لیے تقریباً 38 ارب ڈالر، کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے لیے تقریباً 26 ارب ڈالر اور محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے لیے مزید رقم فراہم کی، اور یہ فنڈنگ ستمبر 2029 تک جاری رہنے کے لیے منظور کی گئی ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ڈیموکریٹس نومبر میں دونوں ایوان جیت بھی جاتے ہیں تو وہ یکم جنوری 2027 کو بیٹھتے ہی یہ نہیں کہہ سکتے کہ ’’ICE کی رقم ختم‘‘ اور اگلے دن ICE کام بند کر دے،جو رقم کانگریس پہلے ہی قانون کے ذریعے منظور کر چکی ہے، اسے صرف ایک سیاسی قرارداد سے ختم نہیں کیا جا سکتا
تاہم ڈیموکریٹس کے پاس ایک بہت اہم راستہ موجود ہوگا،وہ نیا قانون منظور کر کے پہلے منظور شدہ فنڈنگ میں تبدیلی یا کمی کر سکتے ہیں،کانگریس کو وفاقی اخراجات منظور کرنے کا آئینی اختیار حاصل ہے اور موجودہ قانون بھی اس اصول پر قائم ہے کہ ایگزیکٹو شاخ کانگریس کی منظور شدہ رقم کو اپنی مرضی سے روک یا تبدیل نہیں کر سکتی
لیکن یہاں بھی صدر ٹرمپ رکاوٹ بن سکتے ہیں،اگر ڈیموکریٹک کانگریس کوئی ایسا بل منظور کرتی ہے جسے ٹرمپ مسترد کر دیتے ہیں تو اسے قانون بنانے کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی تاکہ صدارتی ویٹو ختم کیا جا سکے،موجودہ سیاسی ماحول میں ایسی دو تہائی اکثریت حاصل کرنا انتہائی مشکل ہوگا
چنانچہ سب سے زیادہ عملی راستہ یہ ہوگا کہ ڈیموکریٹس آئندہ بجٹ اور سالانہ اخراجاتی قوانین کے ذریعے ICE اور دیگر امیگریشن اداروں کے لیے رقم کے استعمال پر نئی شرائط عائد کریں،کانگریس یہ طے کر سکتی ہے کہ مخصوص رقم کس مقصد کے لیے استعمال ہوگی اور بعض سرگرمیوں کے لیے رقم روک سکتی ہے،یہی وہ نکتہ ہے جہاں کانگریس صدر کی پالیسی کو کافی حد تک محدود کرنے کی طاقت رکھتی ہے
لیکن ICE کو مکمل طور پر ختم کرنا ایک الگ معاملہ ہے آئس ایک وفاقی ادارہ ہے اور امیگریشن قانون کے نفاذ کی ذمہ داری محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے تحت موجود قانونی ڈھانچے کا حصہ ہے،وفاقی قانون ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سیکریٹری کو امیگریشن قوانین کے انتظام اور نفاذ کی ذمہ داری دیتا ہے،اسی طرح وفاقی قانون امیگریشن حکام کو بعض غیر ملکیوں کو گرفتار کرنے، حراست میں رکھنے اور قانونی شرائط پوری ہونے پر ملک بدر کرنے کے اختیارات دیتا ہے
اس کا مطلب یہ ہے کہ صرف ایوان اور سینیٹ میں ڈیموکریٹک اکثریت آنے سے ICE کا قانونی وجود ختم نہیں ہوگا
اگر ڈیموکریٹس چاہتے ہیں کہ ICE کی موجودہ کارروائیوں کا دائرہ بنیادی طور پر تبدیل ہو تو انہیں قانون تبدیل کرنا ہوگا،وہ قانون کے ذریعے یہ طے کر سکتے ہیں کہ ICE کن لوگوں کو ترجیح دے، کن حالات میں گرفتاری ہو، حراست کے لیے کیا شرائط ہوں، وفاقی ایجنٹوں کی نگرانی کیسے کی جائے، جسمانی کیمرے لازمی ہوں یا نہیں، اور عدالتی وارنٹ کے حوالے سے کیا تقاضے ہوں
اس کے علاوہ کانگریس نگرانی کے اختیارات بھی استعمال کر سکتی ہے،سینیٹ کی کمیٹیاں انتظامیہ کے اعلیٰ عہدیداروں کو طلب کر سکتی ہیں، تحقیقات کر سکتی ہیں، دستاویزات طلب کر سکتی ہیں اور ICE اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے اخراجات اور کارروائیوں کی جانچ کر سکتی ہیں،کانگریس کے پاس تقرریوں کی توثیق کے ذریعے بھی اثرانداز ہونے کی طاقت ہے، خاص طور پر سینیٹ کے ذریعے
تاہم سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا ڈیموکریٹس ٹرمپ کے موجودہ ایگزیکٹو آرڈرز اور انتظامی پالیسیوں کو ختم کر سکتے ہیں؟
اس کا جواب کئی صورتوں میں ’’ہاں‘‘ ہے، مگر اس کے لیے ہمیشہ کانگریس کے ووٹ کی ضرورت نہیں ہوگی،بہت سی امیگریشن پالیسیاں انتظامی احکامات، محکمانہ ہدایات اور وفاقی قواعد کے ذریعے نافذ کی جاتی ہیں،اگر آئندہ صدر ڈیموکریٹ ہو تو وہ ان میں سے بہت سی پالیسیوں کو اپنے نئے احکامات کے ذریعے واپس لے سکتا ہے،لیکن جب تک ٹرمپ صدر ہیں، ڈیموکریٹک کانگریس خود صدر کے انتظامی احکامات کو محض قرارداد کے ذریعے منسوخ نہیں کر سکتی
یہاں عدالتیں بھی اہم کردار ادا کریں گی،اگر ٹرمپ انتظامیہ کسی ایسے اقدام کی طرف جاتی ہے جسے عدالت غیر قانونی قرار دے، تو عدالتیں اس پالیسی کو روک سکتی ہیں،موجودہ دور میں امیگریشن سے متعلق متعدد انتظامی اقدامات پہلے ہی قانونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں
ملک بدری کے معاملے میں بھی یہی فرق انتہائی اہم ہے،وفاقی قانون بعض غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے،اگر کسی شخص کے خلاف حتمی ملک بدری کا حکم موجود ہے تو قانون اس کی ملک بدری کا طریقہ کار فراہم کرتا ہے،امیگریشن جج ملک بدری کے معاملات طے کرتے ہیں اور بعض حالات میں حراست اور ملک بدری وفاقی قانون کے تحت جاری رہ سکتی ہے
لہٰذا اگر 2027 میں ڈیموکریٹس دونوں ایوان جیت بھی جاتے ہیں تو پہلے سے موجود حتمی ملک بدری کے احکامات خود بخود ختم نہیں ہوں گے
البتہ وہ یہ ضرور کر سکتے ہیں کہ آئندہ بجٹ میں ملک بدری کے لیے مخصوص رقم کم کریں، ICE کی ترجیحات تبدیل کرنے کے لیے قانون بنائیں، گرفتاریوں کے طریقہ کار پر نئی پابندیاں لگائیں، حراستی مراکز کے لیے شرائط مقرر کریں اور وفاقی ایجنٹوں کے لیے نگرانی اور جواب دہی کے نئے اصول نافذ کریں
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے امیگریشن کے لیے جو بہت بڑی رقم حاصل کی ہے وہ عام سالانہ بجٹ سے مختلف ہے،2026 کے سیکیور امریکا ایکٹ نے ICE اور سرحدی نفاذ کے لیے 2029 تک طویل مدتی فنڈنگ فراہم کر دی ہے،یہی وجہ ہے کہ مستقبل کی ڈیموکریٹک کانگریس کے لیے مسئلہ صرف سالانہ بجٹ روکنے کا نہیں بلکہ پہلے سے منظور شدہ رقم کو قانونی طور پر تبدیل کرنے کا بھی ہوگا
اس کے باوجود کانگریس کے پاس ایک بہت طاقتور ہتھیار باقی رہتا ہے: ’’پاور آف دی پرس‘‘کانگریس مستقبل کے اخراجات کو محدود کر سکتی ہے اور یہ شرط عائد کر سکتی ہے کہ مخصوص رقم مخصوص مقاصد کے علاوہ استعمال نہ ہو،سپریم کورٹ کے فیصلوں اور وفاقی مالیاتی قانون کے تحت ایگزیکٹو شاخ عام طور پر کانگریس کی منظور کردہ رقم کو محض سیاسی اختلاف کی بنیاد پر روک نہیں سکتی
امیگریشن کے علاوہ ڈیموکریٹک اکثریت ٹرمپ کی کئی دوسری پالیسیوں کو بھی چیلنج کر سکتی ہے
سب سے پہلے ٹرمپ کے ٹیرف ہیں،کانگریس نئے قوانین کے ذریعے صدر کے ٹیرف اختیار کو محدود کرنے کی کوشش کر سکتی ہے، اگرچہ اس معاملے میں صدارتی اختیارات اور موجودہ تجارتی قوانین کا پیچیدہ قانونی ڈھانچہ سامنے آئے گا
دوسرا بڑا میدان وفاقی اداروں کی تنظیم نو ہے،ٹرمپ انتظامیہ نے کئی اداروں کو چھوٹا کرنے، پروگرام ختم کرنے اور وفاقی ملازمتوں میں کمی کی کوشش کی ہے،کانگریس اخراجات اور قانونی اختیارات کے ذریعے ان تبدیلیوں کو محدود کر سکتی ہے، خاص طور پر وہاں جہاں کسی ادارے یا پروگرام کا وجود قانون کے ذریعے قائم کیا گیا ہو
تیسرا میدان سماجی اور شہری حقوق کی پالیسیاں ہوں گی،ڈیموکریٹس قانون سازی کے ذریعے وفاقی امتیازی سلوک کے قوانین، ووٹنگ کے حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیاتی تحفظ اور بعض سماجی پروگراموں کے لیے قانونی تحفظ مضبوط کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں
چوتھا میدان صحت اور سماجی بہبود ہوگا،کانگریس بجٹ اور قانون سازی کے ذریعے میڈیکیئر، میڈیکیڈ، غذائی امداد، رہائش اور دیگر وفاقی پروگراموں کے لیے رقم اور قواعد تبدیل کر سکتی ہے،تاہم ہر تبدیلی کے لیے صدر کی منظوری درکار ہوگی، جب تک کہ دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت حاصل نہ ہو
پانچواں بڑا میدان ٹرمپ انتظامیہ کی نگرانی ہوگا،اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوان جیت جاتے ہیں تو کانگریس کی کمیٹیاں انتظامیہ کے اقدامات کی تحقیقات میں بہت زیادہ طاقت حاصل کر لیں گی،وفاقی اخراجات، ICE کی کارروائیاں، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی، محکمہ انصاف، وفاقی تقرریاں، ٹیرف، سرکاری اداروں کی تنظیم نو اور ایگزیکٹو اختیارات سب کانگریسی تحقیقات کے دائرے میں آ سکتے ہیں
لیکن اس پورے منظرنامے میں ایک بنیادی حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،2027 میں ڈیموکریٹس کے پاس کانگریس ہو سکتی ہے، مگر وائٹ ہاؤس ٹرمپ کے پاس رہے گا
اس لیے طاقت کا مکمل الٹ پھیر نہیں ہوگا،صدر کے پاس ویٹو کا اختیار برقرار رہے گا، انتظامیہ موجودہ وفاقی قوانین نافذ کرتی رہے گی اور ICE قانونی طور پر موجود رہے گی،ڈیموکریٹس ہر ٹرمپ پالیسی کو یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کر سکیں گے
اصل تبدیلی یہ ہوگی کہ ٹرمپ کے لیے اپنی پالیسی کو اسی رفتار اور آزادی سے آگے بڑھانا بہت مشکل ہو جائے گا
خاص طور پر امیگریشن کے معاملے میں ڈیموکریٹک کانگریس تین سطحوں پر دباؤ ڈال سکتی ہے،فنڈنگ، قانون سازی اور نگرانی،وہ ICE کی موجودہ ترجیحات پر پابندیاں عائد کر سکتی ہے، نئی گرفتاری اور حراست کی شرائط مقرر کر سکتی ہے، اخراجات کو مخصوص مقاصد سے مشروط کر سکتی ہے اور انتظامیہ کو مسلسل کانگریسی تحقیقات کا سامنا کروا سکتی ہے
لیکن جب تک ٹرمپ صدر ہیں، یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ’’ڈیموکریٹس دونوں ایوان جیت گئے تو ڈی پورٹیشن ختم ہو جائے گی”زیادہ درست بات یہ ہوگی کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ کی بڑے پیمانے پر ملک بدری کی مہم کو قانونی، مالی اور انتظامی طور پر شدید محدود کر سکتے ہیں، لیکن اسے مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے یا تو صدر کی رضامندی، دو تہائی کانگریسی اکثریت، عدالتوں کا فیصلہ، یا اگلے صدارتی انتخابات میں وائٹ ہاؤس کی تبدیلی درکار ہوگی
اور موجودہ صورتحال میں سب سے بڑی قانونی رکاوٹ یہی ہے کہ ٹرمپ نے ICE اور سرحدی نفاذ کے لیے 2029 تک بھاری فنڈنگ پہلے ہی قانون کا حصہ بنا دی ہے،اس لیے 2026 کے انتخابات کے بعد اگر ڈیموکریٹس دونوں ایوان جیتتے ہیں تو جنگ ختم نہیں ہوگی؛ بلکہ اصل جنگ کانگریس اور وائٹ ہاؤس کے درمیان ’’اختیار کس کے پاس ہے اور پیسہ کون دے گا‘‘ کے سوال پر شروع ہوگی

قومی خبریں سے مزید