جج نے چارلی کرک کے قتل کا مقدمہ باقاعدہ سماعت کے لیے بھیج دیا، ملزم کو سزائے موت کا سامنا
امریکی ریاست یوٹاہ کے ایک جج نے قدامت پسند سیاسی کارکن چارلی کرک کے قتل کے الزام میں گرفتار ٹائلر رابنسن کے خلاف مقدمہ باقاعدہ سماعت کے لیے بھیج دیا ہے،جرم ثابت ہونے کی صورت میں رابنسن کو سزائے موت دی جا سکتی ہے
یوٹاہ ڈسٹرکٹ جج ٹونی گراف نے منگل کو استغاثہ کا مؤقف تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ملزم کے خلاف شواہد انتہائی مضبوط ہیں،استغاثہ کے مطابق رابنسن نے گزشتہ ستمبر میں یوٹاہ کے شہر اوریم میں ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کے دوران کرک کو گردن میں ایک گولی مار کر قتل کیا تھا،کرک صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی تھے
جج کے فیصلے کے بعد رابنسن کے ایک وکیل نے اس کی جانب سے عدمِ جرم کا اقرار داخل کیا
رابنسن کے وکلا نے مقدمہ چلانے سے روکنے کی کوشش کی تھی اور متبادل طور پر مطالبہ کیا تھا کہ سزائے موت کا امکان ختم کیا جائے،ان کا مؤقف تھا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ کرک پر فائرنگ سے اردگرد موجود دوسرے افراد کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہوا تھا،یوٹاہ کے قانون کے تحت دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالنا ایسا اضافی عنصر ہے جو کسی ملزم کو سزائے موت کا اہل بنا سکتا ہے
چارلی کرک کے خاندان نے جج کے فیصلے کو انصاف کے حصول کی کوشش میں ایک اہم قدم قرار دیا
خاندان نے اپنے بیان میں کہا کہ مقدمے کی کارروائی کا ہر مرحلہ اس نقصان کا بوجھ لیے ہوئے ہے جو چارلی کے قتل نے ان کے خاندان کو پہنچایا، خصوصاً ان کے بچوں کے لیے جو اپنے والد کے بغیر بڑے ہوں گے





