راولپنڈی میں فوج کی آمد پر پینک نہ کریں، ابھی مارشل لا نہیں آیا ، سیلابی ہنگامی صورتحال ہے

راولپنڈی میں فوج کی آمد پر پینک نہ کریں، ابھی مارشل لا نہیں آیا ، سیلابی ہنگامی صورتحال ہے

راولپنڈی میں شدید بارش اور شہری سیلاب کے بعد پاک فوج کے دستوں کی امدادی کارروائیوں میں شرکت کی خبریں سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر بعض حلقوں کی جانب سے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ شاید شہر میں کوئی غیر معمولی سیاسی یا سکیورٹی صورتحال پیدا ہوگئی ہے،ایسی قیاس آرائیوں کی فی الحال کوئی بنیاد نہیں
حقیقت یہ ہے کہ راولپنڈی میں آج تقریباً 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی، جو ضلعی انتظامیہ کے مطابق گزشتہ 3 سال کے دوران شہر میں ہونے والی سب سے زیادہ بارش ہے،نالہ لئی میں کٹاریاں کے مقام پر پانی کی سطح تقریباً 29 فٹ اور گوالمنڈی کے مقام پر تقریباً 24 فٹ تک پہنچ گئی، جس کے باعث نشیبی علاقوں میں پانی داخل ہوا اور بعض آبادیوں کے انخلا کی ہدایات جاری کرنا پڑیں
ایسی صورتحال میں پاک فوج کا سول انتظامیہ کی مدد کے لیے سامنے آنا کوئی نئی یا غیر معمولی بات نہیں،پاکستان میں سیلاب، زلزلے، بڑے حادثات اور قدرتی آفات کے دوران فوج اکثر سول انتظامیہ اور امدادی اداروں کے ساتھ مل کر ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں حصہ لیتی رہی ہے
آج بھی ضلعی انتظامیہ کے مطابق پاک فوج، ریسکیو 1122، رینجرز اور دوسرے متعلقہ ادارے ہنگامی کارروائیوں میں سول انتظامیہ کی معاونت کر رہے ہیں،111 بریگیڈ ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں ہے اور ضرورت پڑنے پر مزید مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے
یعنی یہاں معاملہ حکومت کی تبدیلی، کرفیو یا مارشل لا کا نہیں بلکہ شہری سیلاب سے نمٹنے کا ہے
راولپنڈی میں سیلابی صورتحال اتنی شدید ہے کہ واسا نے بارش کی ہنگامی صورتحال نافذ کردی، نشیبی علاقوں میں بھاری مشینری پہنچائی گئی، نالہ لئی کی مسلسل نگرانی شروع کی گئی اور خطرے کے پیش نظر بعض علاقوں کے رہائشیوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان میں جب قدرتی آفت آتی ہے تو سول انتظامیہ کے ساتھ فوج کی مدد لینے کا ایک باقاعدہ اور پرانا طریقۂ کار موجود ہے،اس کی وجہ یہ ہے کہ فوج کے پاس ایسی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر بڑی تعداد میں افرادی قوت، گاڑیاں، کشتیوں، انجینئرنگ وسائل اور منظم کمانڈ کا نظام موجود ہوتا ہے
اس لیے سوشل میڈیا پر فوجی گاڑیوں یا اہلکاروں کی تصاویر دیکھ کر فوراً یہ نتیجہ نکال لینا کہ ’’مارشل لا لگنے والا ہے‘‘، ’’کرفیو لگ رہا ہے‘‘ یا ’’کوئی بڑا سیاسی ایکشن ہونے والا ہے‘‘ صرف عوامی گپ شپ ہے ، اس کے سوا کچھ نہیں
پاکستانیوں میں سیاسی تاریخ کے باعث اس قسم کے خدشات ضرور پائے جاتے ہیں، لیکن ہر مرتبہ فوج کا کسی شہر میں نظر آنا مارشل لا یا سیاسی مداخلت کی علامت نہیں ہوتا،قدرتی آفت کے دوران فوج کا سول انتظامیہ کی مدد کرنا ایک بالکل مختلف معاملہ ہے
بلکہ اس واقعے سے ایک دوسرا اور زیادہ بنیادی سوال ضرور پیدا ہوتا ہے،آخر ہر بڑے سیلاب، زلزلے یا قدرتی آفت میں سول انتظامیہ کو فوج کی مدد کیوں درکار پڑتی ہے؟
یہ سوال فوج کی موجودگی سے زیادہ اہم ہے
ریاست کے شہری اداروں، بلدیاتی نظام، نکاسی آب، ریسکیو اداروں اور ہنگامی انتظامی صلاحیت کو اتنا مضبوط ہونا چاہیے کہ معمول اور ہنگامی دونوں حالات میں وہ اپنی ذمہ داریاں مؤثر طور پر ادا کرسکیں،آج راولپنڈی میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش نے ایک مرتبہ پھر شہری منصوبہ بندی اور نکاسی آب کے نظام کی کمزوریوں کو نمایاں کردیا ہے
لیکن اس وقت سوشل میڈیا پر فوج کی آمد کو مارشل لا یا کرفیو سے جوڑنا حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا
لہٰذا پینک نہ کریں اور پینک نہ پھیلائیں
فوج راولپنڈی میں اس وقت سیلابی ہنگامی صورتحال میں سول انتظامیہ کی مدد کے لیے موجود ہے،دستیاب تازہ اطلاعات میں کسی کرفیو یا مارشل لا کے نفاذ کی اطلاع نہیں ہے،شہریوں کو افواہوں کے بجائے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ سرکاری اداروں کی ہدایات پر عمل کرنا چاہیے

قومی خبریں سے مزید