ٹرمپ کا ’’امریکی خلائی اکیڈمی‘‘ قائم کرنے کا اعلان، کیا ہے یہ منصوبہ ،اور امریکا کے لیے کیوں اہم؟
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی خلائی اکیڈمی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، تاہم یہ ادارہ فی الحال صرف ایک منصوبہ ہے،ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نئی صدارتی کمیشن کو ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس مجوزہ ادارے کے خدوخال، دائرۂ کار اور مستقبل کے کردار کا تعین کرے
مجوزہ خلائی اکیڈمی کا مقصد امریکا میں خلائی شعبے کے لیے اعلیٰ تربیت یافتہ افرادی قوت تیار کرنا اور خلائی تحقیق، ٹیکنالوجی اور قومی سلامتی سے متعلق مہارتوں کو فروغ دینا ہو سکتا ہے
یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور چین کے درمیان خلائی ٹیکنالوجی اور تحقیق کے میدان میں مقابلہ تیزی سے بڑھ رہا ہے،مصنوعی سیاروں، چاند کی تلاش، خلائی مواصلات اور دفاعی صلاحیتوں میں برتری اب صرف سائنسی کامیابی نہیں بلکہ قومی طاقت کا بھی اہم حصہ سمجھی جاتی ہے
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ مجوزہ ادارہ کسی نئی یونیورسٹی کی شکل اختیار کرے گا، موجودہ فوجی یا تعلیمی اداروں کے ساتھ منسلک ہوگا یا خلائی شعبے کے لیے خصوصی تربیتی مرکز کے طور پر کام کرے گا،صدارتی کمیشن اسی بنیادی سوال کا جائزہ لے گا کہ امریکی خلائی اکیڈمی عملی طور پر کیا شکل اختیار کرے گی اور اسے کس طرح چلایا جائے گا
اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ امریکا کی خلائی پالیسی میں ایک اہم ادارہ جاتی تبدیلی ثابت ہو سکتا ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب واشنگٹن مستقبل کی خلائی دوڑ میں اپنی برتری برقرار رکھنے کے لیے نئی صلاحیتیں پیدا کرنے پر زور دے رہا ہے





