ناسا کی نئی خلائی دوربین نے کائنات کے راز کھولنے کا سفر شروع کردیا، رومن مشن سے تاریک مادے، تاریک توانائی اور نئی دنیاؤں کی تلاش

ناسا کی نئی خلائی دوربین نے کائنات کے راز کھولنے کا سفر شروع کردیا، رومن مشن سے تاریک مادے، تاریک توانائی اور نئی دنیاؤں کی تلاش

امریکی خلائی ادارے ناسا کی نئی نینسی گریس رومن خلائی دوربین نے کامیاب پرواز کے بعد کائنات کے سب سے بڑے معموں کو حل کرنے کے لیے اپنا تاریخی سفر شروع کردیا ہے۔ یہ دوربین اتوار 30 اگست کو اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے روانہ ہوئی اور تقریباً 31 منٹ بعد راکٹ سے کامیابی کے ساتھ الگ ہوگئی۔

تقریباً 4 ارب ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والی یہ دوربین اب زمین سے تقریباً 10 لاکھ میل دور سورج اور زمین کے درمیان ایک مخصوص مقام، جسے ایل 2 کہا جاتا ہے، کی جانب بڑھ رہی ہے۔ وہاں پہنچنے میں تقریباً 3 ماہ لگیں گے، جس کے بعد ناسا اس کے آلات کو فعال، جانچ اور درست کرنے کا مرحلہ شروع کرے گا۔

رومن دوربین کا سب سے بڑا مقصد کائنات کے ان رازوں کو سمجھنا ہے جنہوں نے کئی دہائیوں سے سائنس دانوں کو الجھا رکھا ہے۔ ان میں تاریک توانائی اور تاریک مادہ سرفہرست ہیں۔ سائنس دان یہ جاننا چاہتے ہیں کہ کائنات مسلسل تیزی سے پھیل کیوں رہی ہے اور وہ پراسرار قوت کیا ہے جو اس پھیلاؤ کو تیز کر رہی ہے۔

رومن دوربین کا ایک اور اہم مشن ہماری کہکشاں اور اس سے باہر موجود سیاروں کی تلاش ہے۔ سائنس دانوں کو توقع ہے کہ یہ دوربین ہزاروں نئے سیارے دریافت کرے گی اور ایسے سیاروی نظاموں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی جو ہماری زمین اور نظام شمسی سے مشابہ ہو سکتے ہیں۔

رومن کی خاص طاقت اس کا وسیع منظرنامہ ہے۔ اس کا کیمرہ ہبل دوربین کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ وسیع علاقے کو ایک وقت میں دیکھ سکتا ہے، جبکہ آسمان کا سروے بھی ہبل کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیزی سے کرے گا۔ اس صلاحیت سے سائنس دان اربوں ستاروں اور کہکشاؤں کا وسیع نقشہ تیار کرنے کے قابل ہوں گے۔

یہ دوربین ہبل اور جیمز ویب دوربین کی جگہ لینے کے بجائے ان کے کام کو آگے بڑھائے گی۔ جیمز ویب دوربین انتہائی گہرائی میں محدود علاقوں کا مشاہدہ کرنے کے لیے مشہور ہے، جبکہ رومن ایک بہت بڑے علاقے کو تیزی سے اسکین کرے گی۔ اس طرح دونوں دوربینیں مل کر کائنات کی ساخت اور ارتقا کی زیادہ مکمل تصویر فراہم کرسکتی ہیں۔

رومن مشن کی ابتدائی مدت 5 سال مقرر کی گئی ہے، تاہم لانچ کے غیر معمولی طور پر کامیاب رہنے کے باعث دوربین کے پاس اضافی ایندھن بچ جانے کی توقع ہے۔ ناسا کے مطابق اس اضافی ایندھن سے مشن کو 10 سال تک بڑھانے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے۔

اب رومن دوربین کے سامنے اگلا بڑا مرحلہ اس کی طویل خلائی مسافت اور پھر آلات کی تیاری ہے۔ اگر تمام نظام توقع کے مطابق کام کرتے رہے تو یہ مشن 2027 میں کائنات کے مشاہدات کا باقاعدہ آغاز کرے گا اور ممکنہ طور پر ایسے انکشافات سامنے لائے گا جو انسان کے کائنات کو سمجھنے کے انداز کو بدل سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید