آزاد کشمیر کے سدھنوتی میں امن مارچ، فوری انتخابات اور رکاوٹیں ختم کرنے کا مطالبہ
آزاد جموں و کشمیر کے ضلع سدھنوتی کے صدر مقام پلندری میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے بڑی تعداد میں افراد نے امن مارچ کیا اور خطے میں بدامنی اور راستوں کی بندش ختم کرنے کے ساتھ پونچھ اور سدھنوتی کی سات نشستوں پر فوری انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا
پبلک الائنس فورم سدھنوتی کے زیر اہتمام مارچ کوٹلی چوک سے شروع ہوا اور مختلف سڑکوں سے ہوتا ہوا کچہری چوک پہنچا، جہاں جلسہ کیا گیا شرکا نے آزاد کشمیر اور پاکستان کے پرچم اٹھا رکھے تھے جبکہ بینرز پر امن کے قیام، بدامنی اور لاقانونیت کے خاتمے کے مطالبات درج تھے
مارچ میں مسلم لیگ ن، پیپلز پارٹی، مسلم کانفرنس، جمعیت علمائے اسلام، جموں و کشمیر پیپلز پارٹی، استحکام پاکستان پارٹی اور تحریک انصاف کے نمائندوں کے علاوہ تاجر، وکلا، ٹرانسپورٹرز، سول سوسائٹی کے نمائندے، ماہرین تعلیم اور سابق فوجی بھی شریک ہوئے
شرکا نے مشترکہ اعلامیے میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ حالیہ انتخابات کے دوران امن و امان کی صورتحال کے باعث پونچھ اور سدھنوتی کی جن سات نشستوں پر پولنگ نہیں ہوسکی، وہاں فوری طور پر انتخابات کرائے جائیں
انہوں نے حکومت اور مظاہرین کی جانب سے آزاد کشمیر کے اندر اور پاکستان سے آنے والے راستوں پر قائم تمام رکاوٹیں فوری ختم کرنے کا بھی مطالبہ کیا تاکہ لوگوں کی آمد و رفت بحال ہو اور ضروری اشیا کی فراہمی میں مشکلات ختم ہوں
شرکا نے سدھنوتی اور پونچھ میں سفری اور تعلیمی سہولیات بحال کرنے، آزاد کشمیر بھر میں انٹرنیٹ سروس فوری بحال کرنے اور پاکستان سے خوراک سمیت دیگر ضروری اشیا کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ بھی کیا
اعلامیے میں آٹا ملوں کے لیے گندم کی مناسب فراہمی، پٹرول کی مسلسل دستیابی اور بیرون ملک سفر کرنے والے افراد کے لیے ضروری دستاویزات کی کارروائی آسان بنانے کا مطالبہ بھی کیا گیا
شرکا نے راولاکوٹ سے تعلیمی اور انتظامی اداروں کی ممکنہ منتقلی کی اطلاعات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور حکام سے مطالبہ کیا کہ ایسا کوئی اقدام نہ کیا جائے جس سے علاقے کے عوام میں مزید بے چینی پیدا ہو
مارچ کے شرکا نے اعلان کیا کہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور امن و امان کی بحالی کو اولین ترجیح بنایا جانا چاہیے
حالیہ آزاد کشمیر انتخابات میں پونچھ ڈویژن کی بعض نشستوں پر امن و امان کے مسائل کے باعث پولنگ مقررہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوسکی تھی انتخابات مختلف مراحل میں مکمل کیے گئے تھے جبکہ بعض سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی عمل میں دھاندلی اور بے ضابطگیوں کے الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں





