وزیردفاع ہیگسیتھ سے کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول مستعفی

وزیردفاع ہیگسیتھ سے کئی ماہ کی کشیدگی کے بعد امریکی آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول مستعفی

واشنگٹن: امریکی فوج میں ایک اور بڑا انتظامی دھچکا سامنے آیا ہے اور آرمی سیکریٹری ڈین ڈرسکول نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کے ساتھ کئی ماہ سے جاری کشیدگی کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اپنا استعفیٰ پیش کر دیا ہے،ڈرسکول آئندہ چند روز میں پینٹاگون سے رخصت ہو جائیں گے
ڈرسکول کی رخصتی ایسے وقت ہوئی ہے جب ٹرمپ انتظامیہ میں اعلیٰ فوجی قیادت میں مسلسل بڑے پیمانے پر تبدیلیاں جاری ہیں،ان کے اور ہیگسیتھ کے درمیان اختلافات فوج کی مستقبل کی سمت، فوجی تیاری، جدید کاری اور اعلیٰ فوجی افسران کی تبدیلیوں سمیت متعدد معاملات پر سامنے آتے رہے ہیں
ڈرسکول سابق آرمی چیف جنرل رینڈی جارج کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے تھے،ہیگسیتھ نے رواں سال اپریل میں جنرل جارج کو اچانک عہدے سے ہٹا دیا تھا، جس کے بعد جنرل کرسٹوفر لینیو کو قائم مقام آرمی چیف مقرر کیا گیا،جون میں امریکی فوج کی یورپ اور افریقہ میں کمان کرنے والے جنرل کرسٹوفر ڈوناہو بھی اچانک اپنے عہدے سے الگ ہوگئے
ڈرسکول کی رخصتی کے بعد امریکی فوج کی اعلیٰ قیادت میں صورت حال مزید غیر معمولی ہوگئی ہے،جنرل کرسٹوفر لینیو اس وقت قائم مقام آرمی چیف ہیں، جبکہ ڈرسکول کے جانے کے بعد مائیک اوباڈل فوج کے اعلیٰ ترین سویلین عہدیدار ہوں گے
ڈرسکول 2025 میں آرمی سیکریٹری مقرر ہوئے تھے اور اس وقت ان کی عمر صرف 38 سال تھی، جس سے وہ امریکی تاریخ کے کم عمر ترین آرمی سیکریٹری بنے،،وہ عراق جنگ کے سابق فوجی، ٹیکنالوجی سرمایہ کار اور نائب صدر جے ڈی وینس کے سابق مشیر بھی رہے ہیں
آرمی سیکریٹری کی حیثیت سے ڈرسکول نے فوج میں ڈرونز اور انسدادِ ڈرون ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی، فوجی تیاری بہتر بنانے اور دفاعی سازوسامان کی خریداری میں غیر ضروری تاخیر ختم کرنے پر زور دیا،وہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے امریکی سفارتی کوششوں میں بھی غیر معمولی طور پر نمایاں کردار ادا کر چکے تھے
رائٹرز کے مطابق ڈرسکول نے فوج کی تبدیلی اور جنگی تیاری کے حوالے سے اپنے تحفظات بھی ظاہر کیے تھے، جبکہ ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ہیگسیتھ طویل عرصے سے انہیں عہدے سے ہٹانا چاہتے تھے،تاہم وائٹ ہاؤس نے ان کے استعفے کی کوئی مخصوص وجہ بیان نہیں کی اور ڈرسکول کی خدمات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹرمپ کے دفاعی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کیا
ڈرسکول کا استعفیٰ پینٹاگون میں جاری طاقت کی کشمکش اور اعلیٰ فوجی قیادت میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں کو مزید نمایاں کرتا ہے،ان کی رخصتی کے بعد امریکی فوج کی قیادت میں ایک اہم سویلین عہدہ خالی ہوگا، جبکہ فوج پہلے ہی مستقل آرمی چیف کے بغیر کام کر رہی ہے

قومی خبریں سے مزید