اوہائیو کی سڑکوں تک پہنچ گئی مغربی کنارے کی جنگ، فلسطینی نژاد امریکی خاندان آبائی گھروں کے خوف میں مبتلا

اوہائیو کی سڑکوں تک پہنچ گئی مغربی کنارے کی جنگ، فلسطینی نژاد امریکی خاندان آبائی گھروں کے خوف میں مبتلا

ٹولیڈو، اوہائیو: غزہ کی جنگ اور مقبوضہ مغربی کنارے میں بڑھتا تشدد ہزاروں میل دور امریکہ کے شہر ٹولیڈو میں بھی محسوس کیا جا رہا ہے، جہاں ایک مضبوط عرب امریکی برادری کئی دہائیوں سے آباد ہے
ٹولیڈو کے مضافات میں اپنے دفتر سے تھامین ’’ٹم‘‘ ریدی اپنے موبائل فون پر اپنے بھائی لوی کے گھر کے باہر کا منظر براہِ راست دیکھتے ہیں،یہ منظر امریکہ سے ہزاروں میل دور مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع اس خاندان کے آبائی گھر کا ہے، جہاں خوف نے روزمرہ زندگی کو گھیر رکھا ہے
رپورٹ کے مطابق رواں ماہ لوی ریدی اپنے آبائی علاقے قصریٰ پہنچے، جو نابلس کے جنوب میں واقع ہے،ان کی وہاں واپسی اس وقت ہوئی جب اسرائیلی آباد کاروں کے ہاتھوں ان کی جائیداد کو نقصان پہنچنے یا تباہ کیے جانے کا خطرہ پیدا ہوگیا تھا
لوی کی والدہ اور خاندان کے دیگر افراد پہلے ہی وہاں رہ رہے ہیں اور مسلسل حملوں کے خوف میں زندگی گزار رہے ہیں،امریکہ میں موجود ان کے رشتہ دار فون کی اسکرین کے ذریعے دور بیٹھے اس صورتحال کو دیکھنے اور اپنے خاندان سے رابطہ رکھنے پر مجبور ہیں
ٹولیڈو میں آباد عرب امریکی برادری کے لیے یہ تنازع کسی دور دراز خطے میں جاری جنگ نہیں رہا،غزہ اور مغربی کنارے کی خبریں براہِ راست ان خاندانوں کے گھروں، رشتوں اور آبائی زمینوں سے جڑ گئی ہیں
ٹولیڈو کی عرب امریکی آبادی کی جڑیں کئی دہائیوں پرانی ہیں،بہت سے خاندان فلسطین، لبنان، یمن اور دیگر عرب علاقوں سے ہجرت کرکے یہاں آباد ہوئے اور شہر کی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی کا اہم حصہ بن گئے،اب مشرق وسطیٰ میں جاری بحران نے اس برادری کے اندر سیاسی غصے اور بے چینی کو بھی نمایاں کردیا ہے
لوی کے خاندان کا معاملہ اس وسیع تر صورتحال کی ایک ذاتی تصویر پیش کرتا ہے،ایک طرف امریکہ میں موجود خاندان اپنے معمولات جاری رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور دوسری طرف آبائی وطن میں موجود رشتہ دار اپنی زمین، گھروں اور جانوں کے تحفظ کے بارے میں فکر مند ہیں
تھامین ریدی کے لیے موبائل فون محض رابطے کا ذریعہ نہیں بلکہ اپنے بھائی اور خاندان کی حفاظت پر نظر رکھنے کی ایک کھڑکی بن گیا ہے،جب وہ اپنے بھائی کے گھر کے باہر کا براہِ راست منظر دیکھتے ہیں تو فاصلے کا احساس ختم ہوجاتا ہے
غزہ میں جنگ اور مغربی کنارے میں تشدد نے امریکہ کے اندر فلسطینی اور عرب امریکی برادریوں میں یہ احساس مزید گہرا کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی سیاست ان کی اپنی زندگی سے الگ نہیں
ٹولیڈو کی گلیوں میں ہونے والی سیاسی سرگرمیوں، احتجاجی مظاہروں اور کمیونٹی اجتماعات میں اب فلسطین کا مسئلہ نمایاں ہے،مگر اس شہر کے بہت سے خاندانوں کے لیے یہ صرف سیاسی موقف کا سوال نہیں بلکہ ان کے والدین، بہن بھائیوں، آبائی گھروں اور زمینوں کا معاملہ ہے
ہزاروں میل کا فاصلہ اس خاندان کے خوف کو ختم نہیں کرسکا؛ مغربی کنارے میں ہونے والا ہر حملہ ٹولیڈو میں کسی نہ کسی گھر کے دروازے تک پہنچ جاتا ہے

قومی خبریں سے مزید