پاکستان میں میٹا اسمارٹ گلاسز، خفیہ ریکارڈنگ سے خواتین کی پرائیویسی کو نیا خطرہ

پاکستان میں میٹا اسمارٹ گلاسز، خفیہ ریکارڈنگ سے خواتین کی پرائیویسی کو نیا خطرہ

پاکستان میں کیمرے، مائیکروفون اور مصنوعی ذہانت سے لیس میٹا اسمارٹ گلاسز کی آن لائن فروخت نے خفیہ ویڈیو ریکارڈنگ اور پرائیویسی کے تحفظ سے متعلق نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں
عام چشموں جیسے دکھائی دینے والے ان اسمارٹ گلاسز میں کیمرہ نصب ہے، جس کے ذریعے پہننے والا اپنے سامنے موجود مناظر کو نسبتاً خاموشی سے ریکارڈ کر سکتا ہے اگرچہ کیمرہ فعال ہونے پر ایک چھوٹی روشنی جلتی ہے، تاہم دور سے دیکھنے والے شخص کے لیے یہ واضح نہیں ہوتا کہ اس کی ویڈیو بنائی جا رہی ہے
پاکستان میں یہ ٹیکنالوجی خاص طور پر خواتین کے لیے تشویش کا باعث بن سکتی ہے، جہاں کسی تصویر یا ویڈیو کو سیاق و سباق سے ہٹا کر بلیک میلنگ، ہراسانی یا بدنامی کے لیے استعمال کیے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں
میٹا نے پاکستان میں ان گلاسز کی باضابطہ فروخت شروع نہیں کی، تاہم مختلف آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے یہ ملک میں دستیاب ہیں اور بعض ویب سائٹس پر ان کی قیمت ایک لاکھ روپے سے زائد بتائی گئی ہے
ماہرین اور حقوق کے کارکنوں کے مطابق اس ٹیکنالوجی کے مثبت استعمال بھی موجود ہیں، لیکن کسی کی اجازت کے بغیر اس کی ریکارڈنگ کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا پاکستان میں پہلے سے موجود سائبر کرائمز اور غیر رضامندانہ طور پر تصاویر و ویڈیوز پھیلانے کے مسائل کے باعث اس ٹیکنالوجی کے غلط استعمال سے متاثرہ افراد کے لیے قانونی تحفظ کا سوال مزید اہم ہو گیا ہے
ضرورت اس امر کی ہے کہ اسمارٹ گلاسز جیسی نئی ٹیکنالوجی کے عام ہونے سے پہلے پرائیویسی، رضامندی اور خفیہ ریکارڈنگ سے متعلق واضح قوانین اور مؤثر حفاظتی اقدامات یقینی بنائے جائیں، تاکہ جدید ٹیکنالوجی کسی کی عزت، آزادی اور نجی زندگی کے لیے خطرہ نہ بن سکے

قومی خبریں سے مزید