پاکستان کا بجٹ غذائیت بخش خوراک کو عوام کی پہنچ سے دور کر رہا ہے

پاکستان کا بجٹ غذائیت بخش خوراک کو عوام کی پہنچ سے دور کر رہا ہے

اسلام آباد: پاکستان میں مہنگائی اور گھریلو آمدنی پر بڑھتے دباؤ کے باعث غذائیت سے بھرپور خوراک عام لوگوں کے لیے مزید مہنگی اور مشکل ہوتی جا رہی ہے بجٹ میں ٹیکسوں اور محصولات کے اثرات نے خوراک کی قیمتوں پر بھی دباؤ بڑھایا ہے، جس کے نتیجے میں کم آمدنی والے گھرانے اپنی خوراک کے معیار پر سمجھوتہ کرنے پر مجبور ہیں
رپورٹ کے مطابق جب گھرانے محدود آمدنی میں خوراک، رہائش، بجلی، تعلیم اور دیگر بنیادی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو غذائیت بخش اشیا اکثر ان کی ترجیحات میں پیچھے چلی جاتی ہیں پھل، سبزیاں، دودھ، انڈے، گوشت اور دیگر غذائیت سے بھرپور غذائیں مہنگی ہونے کے باعث بہت سے خاندان انہیں کم مقدار میں خریدنے یا مکمل طور پر چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں
ماہرین کے مطابق صرف پیٹ بھرنے کے لیے مناسب مقدار میں خوراک دستیاب ہونا کافی نہیں بلکہ صحت مند زندگی کے لیے متوازن اور غذائیت سے بھرپور خوراک بھی ضروری ہے کم آمدنی والے خاندانوں میں اگر غذائیت بخش غذاؤں کا استعمال مسلسل کم ہو تو بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما، مدافعتی نظام اور مجموعی صحت متاثر ہو سکتی ہے
پاکستان میں خوراک کی قیمتوں میں اضافہ پہلے ہی کم آمدنی والے طبقے کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے بجٹ میں ایسے اقدامات جو خوراک کی لاگت میں مزید اضافہ کریں، اس مسئلے کو زیادہ سنگین بنا سکتے ہیں
رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ حکومت کو بجٹ اور معاشی پالیسیوں میں صرف خوراک کی دستیابی نہیں بلکہ سستی اور معیاری غذائیت تک عام شہریوں کی رسائی کو بھی اہم ترجیح بنانا چاہیے، کیونکہ غذائی قلت اور ناقص خوراک کے اثرات طویل مدت میں صحت، تعلیم اور ملکی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید