بشکیک میں مودی کی تین بڑی ملاقاتیں، ایران جنگ نے روس، چین اور بھارت کو ایک ہی سفارتی میز پر لا کھڑا کیا
بشکیک: کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک میں ہونے والی شنگھائی تعاون تنظیم کی سربراہی کانفرنس اس وقت محض ایک علاقائی اجلاس نہیں رہی،یہاں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، چینی صدر شی جن پنگ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ متوقع اور طے شدہ ملاقاتیں ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچ چکی ہے، آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے لیے بحران کا مرکز بن چکی ہے اور واشنگٹن ایران پر فوجی دباؤ کے ساتھ نئی معاشی پابندیاں بھی سخت کر رہا ہے
مودی کے لیے بشکیک کا یہ اجلاس اس لحاظ سے غیر معمولی ہے کہ انہیں ایک ہی جگہ تین ایسے رہنماؤں سے بات کرنی ہے جو موجودہ عالمی طاقت کے توازن میں امریکا کے مقابل مختلف مگر باہم جڑے ہوئے کردار ادا کر رہے ہیں،روس یوکرین جنگ اور مغرب سے کشیدگی کے باعث چین پر زیادہ انحصار کر رہا ہے، چین عالمی سیاست میں امریکی اثر و رسوخ کا متبادل مرکز بننے کی کوشش کر رہا ہے، جبکہ ایران براہ راست امریکا کے ساتھ تصادم میں ہے
بھارت ان تینوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے، لیکن ساتھ ہی امریکا کے ساتھ بھی اپنی اسٹریٹیجک شراکت داری برقرار رکھنا چاہتا ہے،یہی وجہ ہے کہ مودی کی بشکیک سفارت کاری کو نئی دہلی کی توازن قائم رکھنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے
پیوٹن سے ملاقات: تجارت، توانائی اور روس سے تعلقات کا اگلا مرحلہ
مودی اور پیوٹن کی دوطرفہ ملاقات باقاعدہ طور پر طے شدہ ہے،بھارتی وزارت خارجہ کے مطابق دونوں رہنما بھارت روس تعلقات کے پورے دائرے کا جائزہ لیں گے،یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، توانائی، کھاد اور دفاعی تعاون بدستور بنیادی ستون ہیں،چند روز قبل بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے بھی ماسکو میں پیوٹن سے ملاقات کی تھی اور مودی کی طرف سے انہیں نیک خواہشات پہنچائی تھیں
پیوٹن کے ساتھ مودی کی گفتگو میں سب سے اہم سوال یہ ہوگا کہ روس اور بھارت اپنے اقتصادی تعلقات کو کس طرح مزید آگے بڑھاتے ہیں،مغربی پابندیوں کے باوجود بھارت روسی توانائی کا ایک اہم خریدار رہا ہے اور روس بھارت کے لیے توانائی اور کھاد کا اہم ذریعہ ہے،دونوں ملک دفاعی تعاون کو بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں
لیکن اس ملاقات کے پیچھے ایک بڑا عالمی سوال بھی موجود ہے،روس اس وقت مغرب کے ساتھ شدید محاذ آرائی میں ہے اور چین پر اس کا معاشی انحصار بڑھ رہا ہے،دوسری طرف بھارت روس کے ساتھ اپنے پرانے تعلقات کو برقرار رکھتے ہوئے امریکا کے ساتھ بھی گہرے دفاعی اور اسٹریٹیجک تعلقات رکھتا ہے،چنانچہ مودی اور پیوٹن کی ملاقات صرف دوطرفہ تعلقات کا جائزہ نہیں بلکہ یہ بھی ظاہر کرے گی کہ نئی دہلی بدلتی ہوئی عالمی صف بندی میں ماسکو کے ساتھ کہاں کھڑا ہے
شی جن پنگ سے ملاقات: سرحد سے تجارت تک، تعلقات میں برف پگھلانے کی کوشش
شی جن پنگ کے ساتھ مودی کی ممکنہ ملاقات بشکیک اجلاس کی سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والی سفارتی سرگرمیوں میں شامل ہے،بھارت اور چین کے درمیان کئی برس کی سرحدی کشیدگی کے بعد دونوں حکومتوں نے حالیہ عرصے میں تعلقات کو معمول پر لانے کی کوششیں تیز کی ہیں
مودی اور شی کے درمیان بات چیت میں سب سے حساس معاملہ سرحدی تنازعہ اور دونوں ممالک کی فوجی موجودگی ہوگا،اس کے ساتھ تجارت، اقتصادی روابط اور دونوں ملکوں کے درمیان براہ راست رابطوں میں اضافے پر بھی گفتگو متوقع ہے
بھارت اور چین کے تعلقات میں ایک بنیادی تضاد موجود ہے،دونوں بڑی ایشیائی معیشتیں ایک دوسرے کی اہم تجارتی شراکت دار ہیں، لیکن سرحدی تنازعہ نے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے،نئی دہلی کے لیے مسئلہ یہ بھی ہے کہ چین اور پاکستان کے بڑھتے ہوئے تعلقات اس کے علاقائی خدشات میں اضافہ کرتے ہیں
تاہم مودی کے لیے شی سے بات چیت کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے،اگر بھارت اور چین سرحدی کشیدگی کم کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں تو نئی دہلی کو ایک ایسے وقت میں اپنی خارجہ پالیسی کے لیے زیادہ گنجائش مل سکتی ہے جب امریکا، روس، ایران اور چین سب اپنے اپنے مفادات کے لیے بھارت کی اہمیت کو تسلیم کر رہے ہیں
پزشکیان سے ملاقات: سب سے زیادہ حساس گفتگو ایران امریکا جنگ پر ہوگی
مودی اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی ملاقات بھی بشکیک میں طے ہے،ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق پزشکیان اجلاس کے موقع پر مودی سمیت کئی رہنماؤں سے دوطرفہ مذاکرات کریں گے
یہ ملاقات باقی دونوں ملاقاتوں سے اس لیے مختلف ہے کہ ایران اس وقت براہ راست امریکا کے ساتھ فوجی تصادم میں ہے،واشنگٹن نے ایران پر فوجی کارروائی کے ساتھ معاشی دباؤ بھی بڑھا دیا ہے، جبکہ تہران نے امریکی کارروائیوں کے جواب میں خطے میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا ہے،آبنائے ہرمز میں کشیدگی نے عالمی تیل کی تجارت اور بحری آمدورفت کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے
مودی کے لیے یہ ملاقات انتہائی نازک سفارتی توازن کا امتحان ہوگی،بھارت ایران کے ساتھ اپنے تعلقات ختم نہیں کر سکتا،ایران بھارت کے لیے خلیج، افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی کا اہم جغرافیائی راستہ ہے،چابہار بندرگاہ بھارت کے لیے خصوصی اہمیت رکھتی ہے اور ایران کے ذریعے وسطی ایشیا تک پہنچنے کی بھارتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ ہے
لیکن دوسری طرف بھارت امریکا کے ساتھ اپنے تعلقات کو بھی خطرے میں نہیں ڈالنا چاہتا،اگر ایران امریکا تنازعہ مزید پھیلتا ہے تو نئی دہلی کے لیے سب سے بڑا مسئلہ توانائی، سمندری تجارت، تیل کی قیمتیں اور ایرانی تیل سے متعلق امریکی پابندیاں بن سکتی ہیں
اسی لیے پزشکیان کے ساتھ مودی کی گفتگو میں محض دوطرفہ تعلقات نہیں بلکہ جنگ کو مزید پھیلنے سے روکنے، خطے میں استحکام، توانائی کی فراہمی اور ایران کے ساتھ بھارت کے اقتصادی منصوبوں کے معاملات بھی نمایاں رہیں گے
ایران کا بحران تینوں ملاقاتوں کو آپس میں جوڑ رہا ہے
بشکیک کی سب سے اہم حقیقت یہ ہے کہ مودی کی پیوٹن، شی اور پزشکیان سے الگ الگ ملاقاتیں دراصل ایک ہی بڑے عالمی بحران کے مختلف حصے ہیں
روس امریکا اور مغرب کے ساتھ طویل کشیدگی میں ہے،چین امریکا کے عالمی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کے لیے اپنے سفارتی اور اقتصادی اثرات بڑھا رہا ہے،ایران براہ راست امریکی فوجی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے،بھارت ان تینوں کے ساتھ تعلقات رکھتا ہے اور اسی وقت واشنگٹن کے ساتھ بھی اپنی شراکت داری کو آگے بڑھا رہا ہے
ایران امریکا کشیدگی نے اس توازن کو مزید مشکل بنا دیا ہے،امریکا ایران پر دباؤ بڑھا رہا ہے اور ایرانی معیشت، بینکاری اور توانائی کے شعبے کو نشانہ بنانے والی پابندیوں میں مزید سختی لا رہا ہے،دوسری طرف تہران یہ پیغام دے رہا ہے کہ وہ امریکی دباؤ کے سامنے جھکنے کے لیے تیار نہیں
اس صورت حال میں بھارت کی پوزیشن منفرد ہے،نئی دہلی ایران کو مکمل طور پر اپنے سے دور نہیں کر سکتا، روس کو بھی نہیں چھوڑ سکتا اور چین کے ساتھ مستقل محاذ آرائی بھی نہیں چاہتا،لیکن امریکا کے ساتھ اس کی شراکت داری بھی اس کی خارجہ پالیسی کا اہم ستون بن چکی ہے
شنگھائی تعاون تنظیم بھی اسی نئی صف بندی کا میدان بن گئی ہے
بشکیک اجلاس کا باضابطہ ایجنڈا علاقائی سلامتی، دہشت گردی، تجارت، توانائی، نقل و حمل، رابطہ کاری اور ڈیجیٹل تعاون جیسے موضوعات پر مشتمل ہے،مغربی ایشیا کی جنگ، یوکرین کی صورتحال اور افغانستان سمیت خطے کے بڑے بحران بھی رہنماؤں کی گفتگو میں نمایاں رہنے کی توقع ہے
تنظیم اپنے قیام کے 25 سال مکمل کر رہی ہے اور اس اجلاس میں چین، روس، بھارت اور ایران سمیت ایسے ممالک اکٹھے ہیں جو عالمی نظام میں امریکی بالادستی کے بارے میں مختلف درجات پر تحفظات رکھتے ہیں،تاہم یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ شنگھائی تعاون تنظیم ایک متحدہ امریکی مخالف اتحاد بن چکی ہے،تنظیم کے ارکان کے مفادات ایک دوسرے سے بھی متصادم ہیں اور بھارت کی موجودگی اس کی واضح مثال ہے
بھارت چین کا حریف بھی ہے اور اس کا تجارتی شراکت دار بھی،روس کا قریبی دوست بھی ہے اور امریکا کا اسٹریٹیجک شراکت دار بھی،ایران کے ساتھ گہرے تاریخی اور اقتصادی مفادات رکھتا ہے لیکن واشنگٹن کے ساتھ تعلقات بھی خراب نہیں کرنا چاہتا
اسی تضاد نے مودی کے بشکیک مشن کو غیر معمولی اہمیت دے دی ہے
اگر مودی پیوٹن کے ساتھ توانائی اور دفاعی تعاون آگے بڑھاتے ہیں، شی جن پنگ کے ساتھ سرحدی کشیدگی کم کرنے کا راستہ نکالتے ہیں اور پزشکیان کے ساتھ ایران امریکا بحران کے دوران بھارت کے مفادات محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ نئی دہلی کی اس خارجہ پالیسی کا واضح اظہار ہوگا جس میں بھارت کسی ایک عالمی کیمپ کا حصہ بننے کے بجائے بیک وقت کئی طاقتوں کے ساتھ اپنے مفادات کا توازن قائم کرنا چاہتا ہے
بشکیک میں اصل امتحان اسی توازن کا ہے،کیونکہ ایران امریکا کشیدگی اگر مزید بڑھی تو اس کے اثرات صرف تہران اور واشنگٹن تک محدود نہیں رہیں گے،تیل، آبنائے ہرمز، عالمی تجارت، روسی توانائی، چینی معیشت اور بھارت کی توانائی سلامتی سب ایک ہی بحران کی زنجیر میں جڑ سکتے ہیں
اور اسی لیے مودی کی بشکیک میں پیوٹن، شی جن پنگ اور پزشکیان سے ہونے والی ملاقاتیں الگ الگ سفارتی ملاقاتیں ضرور ہیں، لیکن ان کے پیچھے ایک ہی بڑا سوال کھڑا ہے،کیا بھارت بدلتی ہوئی عالمی طاقت کی کشمکش میں امریکا کے ساتھ تعلقات برقرار رکھتے ہوئے روس، چین اور ایران کے ساتھ اپنے مفادات بھی محفوظ رکھ سکتا ہے؟





