ڈکی میں پک اپ گاڑی پر ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی دھماکا، 3 بھائی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع ڈکی میں ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے نتیجے میں تین بھائی جاں بحق جبکہ ان کا ایک رشتہ دار زخمی ہوگیا
پولیس کے مطابق دھماکا اتوار کے روز لونی تحصیل کے علاقے کلی بختیار خان کے قریب ایک موسمی ندی سے گزرنے کے دوران پیش آیا۔ چاروں افراد ایک پک اپ گاڑی میں اپنی زرعی زمین کی طرف جا رہے تھے کہ راستے میں نصب دھماکا خیز ڈیوائس پھٹ گئی
ڈکی کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس منصور احمد بزدار نے بتایا کہ دھماکا نامعلوم شرپسندوں کی جانب سے نصب کیے گئے ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی کے ذریعے کیا گیا
دھماکے کے نتیجے میں تینوں بھائی موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ ان کا رشتہ دار زخمی ہوا دھماکے کی شدت سے پک اپ گاڑی بھی مکمل طور پر تباہ ہوگئی
واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور سیکیورٹی اہلکار جائے وقوعہ پر پہنچ گئے۔ جاں بحق افراد کی لاشوں اور زخمی شخص کو ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال منتقل کیا گیا
پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور واقعے کی تحقیقات شروع کردی ہیں تاحال کسی گروپ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی
یہ واقعہ بلوچستان میں بدامنی اور دہشت گردی کے مسلسل واقعات کے پس منظر میں پیش آیا ہے حالیہ ہفتوں کے دوران صوبے کے مختلف علاقوں میں سڑک کنارے نصب بموں اور دیگر حملوں میں سیکیورٹی اہلکاروں، مزدوروں اور عام شہریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے
22 اگست کو مستونگ کے کھڈ کوچہ علاقے میں سڑک کنارے بم دھماکے میں ایک سیکیورٹی اہلکار جاں بحق جبکہ 6 دیگر زخمی ہوئے تھے اس سے دو روز قبل اسی صوبے کے مستونگ علاقے میں ایک دھماکے کے نتیجے میں 4 مزدور جاں بحق اور 3 زخمی ہوگئے تھے
پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار کانفلکٹ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی ماہانہ سیکیورٹی رپورٹ کے مطابق جولائی میں بلوچستان کی سیکیورٹی صورتحال میں نمایاں بگاڑ دیکھا گیا۔ صوبے میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد جون کے 109 سے بڑھ کر جولائی میں 372 ہوگئی، جو 241 فیصد اضافہ ہے
ڈکی کا تازہ واقعہ ایک مرتبہ پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بلوچستان کے مختلف علاقوں میں عام شہریوں کے لیے سیکیورٹی صورتحال بدستور تشویشناک ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے حملوں میں ملوث عناصر کا سراغ لگانے اور مزید واقعات کی روک تھام کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں





