ننگشیا میں ایک اتفاقی ملاقات، غربت سے ترقی تک ایک چینی مسلمان کی جدوجہد کی کہانی
چین کے خود مختار علاقے ننگشیا کے دارالحکومت ین چوان کے دورے کے دوران پاکستانی صحافیوں کے ایک وفد کی ملاقات ایک ایسے چینی سرکاری افسر سے ہوئی جس کی زندگی غربت، بھوک، سخت موسمی حالات اور مسلسل محنت کی ایک متاثر کن داستان ہے
ایشاق یانگ شوے ہائی ننگشیا کے خارجہ امور کے دفتر سے وابستہ ایک سرکاری افسر ہیں۔ ان کا نام منفرد محسوس ہونے پر ان کے بارے میں مزید جاننے کی کوشش کی گئی تو معلوم ہوا کہ وہ 1986 میں ایک مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے اور ان کا بچپن شمال مغربی چین کے ایک پسماندہ دیہی علاقے میں انتہائی مشکل حالات میں گزرا
ایشاق نے اپنے بچپن کو یاد کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا گھر اسکول سے تقریباً 4 کلومیٹر دور تھا۔ سردیوں میں شدید ہوائیں چلتی تھیں اور ریت و گرد کے بادل اٹھتے رہتے تھے ان کے پاس پہننے کے لیے صرف چند موٹی سوتی جیکٹیں تھیں جبکہ وہ سر پر اپنی والدہ کا شادی کے وقت استعمال کیا ہوا سبز اونی مفلر لپیٹ کر اسکول جاتے تھے
جب انہوں نے جونیئر ہائی اسکول میں داخلہ لیا تو مشکلات مزید بڑھ گئیں کیونکہ اسکول گھر سے تقریباً 20 کلومیٹر دور تھا روزانہ اتنا فاصلہ طے کرنا ممکن نہیں تھا، اس لیے انہیں اسکول کے ہاسٹل میں رہنا پڑا
ہاسٹل میں طلبہ کو عموماً اُبلے ہوئے آلو دیے جاتے جن میں تھوڑا سا تیل اور مرچ شامل ہوتی، یا زرد باجرے میں معمولی مقدار میں سفید چاول ملا کر کھانا دیا جاتا۔ غذا کم ہونے کے باعث بھوک ان کے بچپن کا مستقل حصہ بن گئی
ایشاق ہر ہفتے گھر سے بھاپ میں پکے ہوئے بن لے کر جاتے تھے سردیوں میں یہ کئی دن تک قابل استعمال رہتے، لیکن گرمیوں میں چونکہ اسکول میں فریج موجود نہیں تھا اور لکڑی کی سادہ الماریاں ہی سامان رکھنے کے لیے استعمال ہوتی تھیں، اس لیے یہ بن چند دن میں خراب ہو جاتے تھے
ان کے والدین نے غربت کے باوجود حالات کے سامنے ہمت نہیں ہاری۔ ان کے والد نے قرض لے کر ایک زرعی گاڑی خریدی اور اسے مسافروں کی آمدورفت کے لیے استعمال کرنا شروع کیا گاڑی میں مناسب حفاظتی انتظامات نہیں تھے اور سفر خطرناک بھی ہو سکتا تھا، لیکن یہی خاندان کی آمدنی کا اہم ذریعہ بن گئی
ان کی والدہ نے بھی خاندان کی کفالت کے لیے سخت محنت کی وہ تین مویشی پالتی تھیں، تقریباً ایک ہیکٹر زمین پر کاشت کاری کرتی تھیں اور صبح سے شام تک کام کرتی رہتی تھیں۔ اضافی آمدنی کے لیے خاندان ہر سال بڑے پیمانے پر خربوزے بھی کاشت کرتا تھا
ننگشیا کے خشک علاقے میں زمین کی نمی برقرار رکھنے کے لیے پلاسٹک کی تہہ استعمال کی جاتی تھی، لیکن اس کے باوجود فصلوں کے درمیان جڑی بوٹیاں اگ آتی تھیں ان کی والدہ شدید گرمی میں پلاسٹک کی تہہ کے نیچے ہاتھ ڈال کر جڑی بوٹیاں نکالتی تھیں تاکہ فصل کو پانی اور غذائی اجزا کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے
ایشاق کے مطابق وہ اپنے والدین کی مشکلات بچپن ہی سے سمجھتے تھے انہیں پتا تھا کہ دیہی خاندان میں پیدا ہونے والے بچے کے لیے تعلیم ہی بہتر مستقبل حاصل کرنے کا راستہ ہے اور مسلسل محنت ہی حالات بدلنے کا ذریعہ بن سکتی ہے
انہوں نے تعلیم پر توجہ مرکوز کی اور بہترین تعلیمی نتائج حاصل کیے۔l مسلسل محنت اور عزم کے ذریعے وہ اپنے پسماندہ دیہی ماحول سے نکل کر بہتر مستقبل کی طرف بڑھے اور بالآخر سرکاری ذمہ داریوں تک پہنچے
ایشاق نے کہا کہ وہ اپنے بچپن کے اس دور کی غربت اور مشکلات کے عینی گواہ ہیں، لیکن ساتھ ہی خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہوں نے چین کی تیز رفتار معاشی اور سماجی ترقی کو اپنی زندگی میں دیکھا
ان کی زندگی کی کہانی اس تبدیلی کی ایک مثال پیش کرتی ہے جس میں ایک غریب دیہی خاندان کا بچہ سخت حالات، بھوک اور محدود وسائل کے باوجود تعلیم اور مسلسل محنت کے ذریعے اپنی زندگی کا رخ تبدیل کرنے میں کامیاب ہوا





