ایران امریکا جنگ کے چھ ماہ بعد بھی کشیدگی برقرار، سفارتی حل پر زور

ایران امریکا جنگ کے چھ ماہ بعد بھی کشیدگی برقرار، سفارتی حل پر زور

ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی جنگ کو چھ ماہ گزر چکے ہیں، لیکن خطے میں کشیدگی ختم ہونے کے بجائے دوبارہ جنگ چھڑنے کا خطرہ بدستور موجود ہے پاکستان، عمان اور قطر سمیت علاقائی ممالک کی جانب سے امن مذاکرات بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں، تاہم اب تک کوئی مستقل حل سامنے نہیں آ سکا
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کو اس کی مذہبی، سیاسی اور فوجی قیادت کی اعلیٰ سطح پر شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس کے باوجود ایرانی حکومت نے مزاحمت جاری رکھی ایران فوجی طاقت کے اعتبار سے امریکا کا مقابلہ نہیں کر سکتا، تاہم تہران نے جنگ کا سامنا کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ وہ فوری طور پر پسپائی اختیار کرنے کے لیے تیار نہیں
ایرانی قیادت کے بعض سخت گیر حلقے اب طویل جنگی اور سیاسی مقابلے کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں ان کا مؤقف ہے کہ معاشی اور فوجی دباؤ کے باوجود امریکا کے سامنے جھکنے کے بجائے طویل مدت تک مزاحمت کی جائے گی
جنگ کے عسکری مرحلے میں مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونے کے بعد امریکا نے ایران پر معاشی دباؤ مزید بڑھا دیا ہے واشنگٹن نے دوسرے ممالک کو بھی ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات سے گریز کرنے کی تنبیہ کی ہے تاہم ایران چار دہائیوں سے زیادہ عرصے سے پابندیوں کا سامنا کرتا آیا ہے اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے مطابق دباؤ مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکتا
چین نے بھی امریکا کی یک طرفہ پابندیوں کی مخالفت کی ہے چین ایران کا ایک بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور چینی وزارت خارجہ نے یک طرفہ اور غیر قانونی پابندیوں کی مخالفت کا مؤقف اختیار کیا ہے اس صورتحال کے باعث ایران پر معاشی دباؤ بڑھانے کی امریکی کوششوں کے نتائج بھی غیر یقینی دکھائی دیتے ہیں
ایران اور امریکا کے درمیان تنازع میں آبنائے ہرمز بھی انتہائی اہم حیثیت اختیار کر چکی ہے ایران کی جانب سے اس اہم بحری گزرگاہ کو دباؤ کے لیے استعمال کرنا خطے کی سلامتی اور عالمی تجارت دونوں کے لیے سنگین مسئلہ بن گیا ہے
ایران کے جوہری پروگرام کا معاملہ بھی تنازع کا مرکزی حصہ ہے، تاہم سفارتی حل کے حامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس مسئلے کو جنگ کے بجائے مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ خطے میں مزید فوجی کارروائی کے بجائے سیاسی اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے
اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کو اب بھی فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے ایک ممکنہ راستہ قرار دیا جا رہا ہے ایران کے صدر نے دوبارہ مذاکرات پر اپنے اعتماد کا اظہار کیا ہے، جبکہ امریکا سے بھی اسی طرح کے سفارتی رویے کی توقع کی جا رہی ہے
تجزیے کے مطابق امریکا کو مشرق وسطیٰ میں مسلسل فوجی مداخلت کے بجائے اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی چاہیے خطے کے ممالک، خصوصاً ایران اور عرب ریاستوں کو اپنے درمیان ایسا سلامتی کا نظام تشکیل دینے کا موقع دیا جانا چاہیے جو ان کے باہمی مفادات اور علاقائی حالات کے مطابق ہو
مستقل امن کے لیے ضروری قرار دیا جا رہا ہے کہ خطے کے ممالک اپنے تنازعات کا سیاسی حل تلاش کریں اور فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور باہمی مفاہمت کو ترجیح دی جائے

قومی خبریں سے مزید