امریکا کے تمام ہوائی اڈوں پر پاسپورٹ دکھانے کا عمل ختم کرنے کی تیاری، مسافروں کی شناخت اب چہرے سے ہوگی
امریکا میں بیرونِ ملک سے آنے والے مسافروں کے لیے ہوائی اڈوں پر داخلے کا روایتی طریقہ بڑی تبدیلی کے قریب ہے امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن نے ملک کے تمام ہوائی اڈوں پر بائیومیٹرک شناخت کا نظام وسیع پیمانے پر نافذ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے، جس کے تحت مسافروں کو بارڈر کنٹرول پر جسمانی پاسپورٹ نکال کر دکھانے یا ہر بار کسی افسر کے سامنے دستاویز پیش کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی
نئے نظام میں مسافر کی شناخت اس کے چہرے کے ذریعے کی جائے گی ہوائی اڈے پر نصب کیمرا مسافر کی تصویر لے کر اسے حکومتی ریکارڈ میں موجود پاسپورٹ اور دیگر سفری معلومات سے ملائے گا اس طرح بارڈر افسر کے سامنے کاغذی دستاویز کی دستی جانچ کے بجائے چند سیکنڈ میں ڈیجیٹل شناخت کی تصدیق کی جا سکے گی
یہ نظام مکمل طور پر نیا نہیں ہے۔ امریکی کسٹمز اور بارڈر پروٹیکشن پہلے ہی متعدد امریکی ہوائی اڈوں پر چہرے کی بائیومیٹرک شناخت کے ذریعے مسافروں کی آمد کا عمل تیز کر رہا ہے۔ نئے منصوبے کا مقصد اس سہولت کو محدود ہوائی اڈوں اور مخصوص مسافروں تک رکھنے کے بجائے ملک بھر میں وسیع کرنا ہے
اس تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا میں داخلے کے لیے پاسپورٹ کی قانونی ضرورت ختم ہو رہی ہے اصل پاسپورٹ اور اس میں موجود سفری معلومات بدستور اہم رہیں گی، لیکن مسافر کو بارڈر کنٹرول کی کھڑکی پر ہر مرتبہ اپنا جسمانی پاسپورٹ نکال کر پیش کرنے کی ضرورت کم یا ختم ہو سکتی ہے۔ مسافر کی شناخت پہلے سے موجود سرکاری معلومات کے ساتھ بائیومیٹرک طریقے سے جوڑی جائے گی
نئے نظام کا سب سے بڑا مقصد امیگریشن اور کسٹمز کے مقامات پر انتظار کا وقت کم کرنا اور مسافروں کی آمد کو زیادہ تیز اور خودکار بنانا ہے۔ موجودہ نظام میں افسر پاسپورٹ، ویزا یا دیگر سفری دستاویزات کا جائزہ لے کر مسافر کی شناخت کی تصدیق کرتا ہے، جبکہ بائیومیٹرک نظام میں کیمرا مسافر کے چہرے کو سرکاری ریکارڈ سے ملاتا ہے اور شناخت کی تصدیق خودکار انداز میں کی جا سکتی ہے
چہرے کی شناخت کے استعمال سے امریکا میں ہوائی سفر کے کئی دوسرے مراحل بھی پہلے ہی تبدیل ہو رہے ہیں بعض مقامات پر بائیومیٹرک شناخت کے ذریعے مسافر کو بار بار پاسپورٹ یا بورڈنگ دستاویز دکھانے کی ضرورت نہیں رہتی اور اسی شناخت کو چیک اِن، سامان جمع کرانے، سکیورٹی اور جہاز میں سوار ہونے کے مراحل سے جوڑا جا سکتا ہے
اس تبدیلی کا ایک اہم پہلو رازداری اور ذاتی معلومات کا تحفظ بھی ہے چہرے کی شناخت کا نظام مسافر کے چہرے کو اس کی سفری شناخت سے جوڑتا ہے، اس لیے بائیومیٹرک معلومات کے استعمال، ذخیرہ کرنے اور حکومتی نگرانی کے حوالے سے سوالات بھی اٹھتے رہے ہیں تاہم حکام کے لیے بنیادی دلیل یہ ہے کہ خودکار شناخت سے انسانی غلطی کم ہو سکتی ہے، جعلی دستاویزات کی روک تھام بہتر ہو سکتی ہے اور سرحدی عمل زیادہ تیز ہو سکتا ہے
امریکا میں پہلے ہی ایسے نظام استعمال ہو رہے ہیں جن میں مسافر کا چہرہ براہ راست اس کے سفری ریکارڈ سے ملایا جاتا ہے۔ بائیومیٹرک نظام کے ذریعے شناخت کی تصدیق چند سیکنڈ میں ہونے کی وجہ سے روایتی دستاویزاتی جانچ کے مقابلے میں انتظار کا وقت کم کرنے کی توقع کی جا رہی ہے
مسافروں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ پاسپورٹ ابھی ختم نہیں ہو رہا۔ تبدیلی دراصل پاسپورٹ کو بارڈر افسر کے ہاتھ میں پیش کرنے کے طریقے میں آ رہی ہے مستقبل کے امریکی ہوائی اڈے پر مسافر کا چہرہ ہی اس کی شناخت کا بنیادی ذریعہ بن سکتا ہے، جبکہ اس کے پاسپورٹ کی معلومات پسِ پردہ حکومتی نظام میں پہلے سے موجود ہوں گی
اگر یہ منصوبہ ملک بھر میں مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو امریکا میں بین الاقوامی سفر کا وہ منظر تیزی سے تبدیل ہو جائے گا جس میں مسافر بارڈر افسر کے سامنے پاسپورٹ کھول کر کھڑا ہوتا ہے اس کی جگہ کیمرے کے سامنے چند لمحوں کی شناخت لے سکتی ہے، اور یہی تصویر مسافر کے امریکا میں داخلے کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے کافی ہو سکتی ہے





