امریکہ نے اپنے شہری نہ ہونے والے 20 تارکین وطن کو لائبیریا بھیج دیا، ٹرمپ کے تیسرے ملکوں میں ملک بدری کے منصوبے پر عالمی بحث
امریکہ نے 20 ایسے تارکین وطن کو لائبیریا بھیج دیا ہے جو لائبیریا کے شہری نہیں ہیں،یہ پہلا گروپ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور لائبیریا کے درمیان نئے معاہدے کے تحت 20 اگست کو منروویا پہنچا،معاہدے کے تحت لائبیریا آئندہ 12 ماہ کے دوران امریکہ سے 1,200 تک ایسے افراد کو قبول کرے گا جن کا تعلق کسی تیسرے ملک سے ہے
یہ انتظام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تر امیگریشن پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت ایسے افراد کو ان کے آبائی ممالک کے بجائے دوسرے ممالک منتقل کیا جا رہا ہے،لائبیریا پہنچنے والے افراد میں افریقہ کے علاوہ شمالی و جنوبی امریکہ اور کیریبین کے ممالک کے شہری شامل ہیں،لائبیریا کے وزیر اطلاعات کے مطابق پہلے گروپ میں زیادہ تر افراد لاطینی امریکی ممالک، خصوصاً وینزویلا، کیوبا اور کولمبیا سے تعلق رکھتے ہیں
لائبیریا کی حکومت کا کہنا ہے کہ منتقل کیے جانے والے افراد کو پناہ کی درخواست دینے یا لائبیریا چھوڑنے کا اختیار حاصل ہوگا اور انہیں حراست میں نہیں رکھا جائے گا،حکومت نے انہیں ’’جمہوریہ کے مہمان‘‘ قرار دیا ہے۔ تاہم لائبیریا میں موجود بعض وکلا اور سیاسی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ انہیں کس قانونی حیثیت کے تحت رکھا گیا ہے اور ان کے مستقبل کے بارے میں انہیں کتنی معلومات فراہم کی گئی ہیں
یہ معاہدہ اس لیے بھی اہم ہے کہ امریکہ پہلے ہی کئی دوسرے ممالک کے ساتھ ایسے انتظامات کر چکا ہے،انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کے تیسرے ملکوں میں ملک بدری کے مختلف معاہدوں کے ذریعے 23,000 سے زیادہ افراد کو 26 ممالک منتقل کیا جا چکا ہے، جس پر انسانی حقوق، قانونی تحفظ اور پناہ گزینوں کی سلامتی کے حوالے سے شدید سوالات اٹھ رہے ہیں
لائبیریا کے معاملے نے خاص طور پر یہ بنیادی سوال اٹھایا ہے کہ کیا امریکہ کسی ایسے شخص کو، جسے اس کے اپنے ملک واپس بھیجنا قانونی یا انسانی حقوق کی وجوہات کی بنا پر مشکل ہو، کسی ایسے تیسرے ملک بھیج سکتا ہے جہاں اس کا کوئی سابقہ تعلق ہی نہ ہو؟ ناقدین اسے امریکی امیگریشن نظام میں ایک نئی اور متنازعہ سمت قرار دے رہے ہیں، جبکہ ٹرمپ انتظامیہ اسے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اپنی سخت پالیسی کا حصہ قرار دیتی ہے





