فلسطین کی حمایت پر غیر ملکی طلبہ کی ملک بدری غیر آئینی قرار، وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا قانونی دھچکا دے دیا

فلسطین کی حمایت پر غیر ملکی طلبہ کی ملک بدری غیر آئینی قرار، وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کو بڑا قانونی دھچکا دے دیا

کیلیفورنیا کے ایک وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کی اس پالیسی کو غیر آئینی قرار دے دیا ہے جس کے تحت امریکا میں موجود غیر ملکی طلبہ کے ویزے منسوخ کرنے اور انہیں ملک بدر کرنے کے لیے ان کی فلسطین کے حق میں سرگرمیوں یا اسرائیل پر تنقید کو بنیاد بنایا جا رہا تھا
سان ہوزے کے وفاقی جج نوئل وائز نے قرار دیا کہ حکومت غیر ملکی طلبہ کے قانونی طور پر محفوظ سیاسی اظہارِ رائے کو امیگریشن قوانین کے ذریعے دبانے کے لیے استعمال نہیں کر سکتی،عدالت کے مطابق آزادیٔ اظہار کا آئینی تحفظ صرف امریکی شہریوں تک محدود نہیں بلکہ امریکا میں موجود غیر شہری بھی اس بنیادی حق سے محروم نہیں کیے جا سکتے
یہ مقدمہ دی اسٹینفورڈ ڈیلی کی جانب سے دائر کیا گیا تھا،اخبار کا مؤقف تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں نے غیر ملکی طلبہ اور طالب علم صحافیوں میں اس قدر خوف پیدا کر دیا کہ وہ فلسطین، اسرائیل اور امریکی خارجہ پالیسی پر اپنی رائے دینے سے گریز کرنے لگے تھے
جج وائز نے حکومت کے اقدامات کو آزادیٔ اظہار کو خوفزدہ اور محدود کرنے والی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ امیگریشن کا اختیار حکومت کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ کسی شخص کے قانونی سیاسی اظہار کے جواب میں اس کے ویزے یا امریکا میں قیام کا حق ختم کرے
یہ فیصلہ امریکا میں موجود غیر ملکی طلبہ، محققین، صحافیوں اور دیگر غیر شہریوں کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اس سے یہ قانونی سوال براہِ راست سامنے آیا ہے کہ حکومت امیگریشن قوانین کو سیاسی اظہارِ رائے کے خلاف کس حد تک استعمال کر سکتی ہے
یہ معاملہ اس وقت شروع ہوا جب 2025 میں ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطین کے حامی مظاہروں میں شرکت کرنے والے بعض غیر ملکی طلبہ کے خلاف کارروائی شروع کی،ان کارروائیوں میں ویزوں کی منسوخی، گرفتاری اور ملک بدری کی کوششیں شامل تھیں،عدالتی فیصلے نے ان اختیارات کے استعمال پر ایک اہم آئینی حد قائم کر دی ہے
محکمہ انصاف نے فوری طور پر اس فیصلے پر کوئی تفصیلی ردعمل نہیں دیا

دوسری خبر نمبر دو

آئی سی ای گرفتاریاں جولائی میں تقریباً 50 ہزار، ایک ماہ میں 15 فیصد اضافہ، نصف سے زیادہ گرفتار افراد کے خلاف فوجداری سزا نہیں

امریکا میں امیگریشن نافذ کرنے والے ادارے آئی سی ای نے جولائی میں 49,571 افراد کو گرفتار کیا، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت میں کسی ایک ماہ کے دوران سب سے زیادہ تعداد ہے
نئے اعداد و شمار کے مطابق جون میں 43,021 گرفتاریوں کے مقابلے میں جولائی کی تعداد تقریباً 15 فیصد زیادہ رہی، جبکہ فروری کے مقابلے میں اضافہ تقریباً 70 فیصد ہے،یہ اعداد و شمار آئی سی ای کے فراہم کردہ ریکارڈ سے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے ڈیپورٹیشن ڈیٹا پراجیکٹ نے حاصل کیے اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے ان کا تجزیہ کیا
اعداد و شمار کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ گرفتار کیے جانے والوں میں نصف سے زیادہ کے خلاف کوئی فوجداری سزا یا زیرِ التوا فوجداری مقدمہ نہیں تھا،اس سے امیگریشن نافذ کرنے کی موجودہ حکمت عملی کے بارے میں اہم سوالات پیدا ہوئے ہیں، کیونکہ انتظامیہ مسلسل یہ مؤقف پیش کرتی رہی ہے کہ کارروائی کا بنیادی ہدف خطرناک مجرم اور عوامی سلامتی کے لیے خطرہ بننے والے افراد ہیں
جولائی میں ٹیکساس اور فلوریڈا گرفتاریوں کے بڑے مراکز رہے، جہاں مجموعی طور پر تقریباً 20 ہزار گرفتاریاں ہوئیں،آئی سی ای نے اپنی کارروائیوں میں ریاستی اور مقامی پولیس کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے 287 جی پروگرام سمیت مختلف انتظامی طریقہ کار استعمال کیے ہیں
حالیہ اعداد و شمار یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ آئی سی ای کی حکمت عملی بڑے پیمانے کے نمایاں چھاپوں سے زیادہ خاموش اور مقامی سطح کی کارروائیوں کی طرف منتقل ہوئی ہے، جن میں ٹریفک روکنے، مقامی پولیس کے تعاون اور کمیونٹی کے اندر گرفتاریوں پر زیادہ توجہ شامل ہے
اس تبدیلی کا مطلب یہ ہے کہ امریکا میں موجود ایسے افراد جن کے امیگریشن معاملات ابھی عدالتوں، ویزا کارروائیوں یا دیگر قانونی مراحل میں ہیں، ان کے لیے موجودہ ماحول پہلے کے مقابلے میں زیادہ حساس ہو گیا ہے

قومی خبریں سے مزید