چین کی مصنوعی ذہانت پالیسی، ماضی کے ٹیکنالوجی کریک ڈاؤن کی تلخی سے بچنے کی کوشش

چین کی مصنوعی ذہانت پالیسی، ماضی کے ٹیکنالوجی کریک ڈاؤن کی تلخی سے بچنے کی کوشش

بیجنگ: چینی سرمایہ کاروں نے 2021 میں ایک تلخ سبق سیکھا تھا کہ بیجنگ کسی تیزی سے ترقی کرتی ٹیکنالوجی کی صنعت کو اس وقت تک برداشت کر سکتا ہے جب تک حکومت یہ فیصلہ نہ کر لے کہ اس کے سماجی نقصانات بہت زیادہ ہو گئے ہیں
ویڈیو گیمز اس کی ایک بڑی مثال ہیں،چینی حکام کو کئی برس سے بچوں میں گیمز کی لت پر تشویش تھی اور انہوں نے بتدریج پابندیاں سخت کیں، تاہم 2021 میں اچانک ایک بڑی پابندی عائد کر دی گئی،نابالغوں کو جمعہ، ہفتہ، اتوار اور سرکاری تعطیلات کے دن زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ ویڈیو گیمز کھیلنے کی اجازت دی گئی،حکام کا کہنا تھا کہ گیمز کا حد سے زیادہ استعمال بچوں کی تعلیم، روزمرہ زندگی اور صحت کو متاثر کر رہا ہے
نجی ٹیوشن کے شعبے کو اس سے بھی زیادہ سخت کارروائی کا سامنا کرنا پڑا،بیجنگ کی ’’ڈبل ریڈکشن‘‘ مہم نے تقریباً 100 ارب ڈالر مالیت کی منافع بخش نجی تعلیمی صنعت کے بڑے حصے کو ختم کر دیا،اس مہم کا مقصد بچوں پر تعلیمی دباؤ اور خاندانوں کے تعلیمی اخراجات کم کرنا تھا،تعلیمی کمپنیوں کو غیر منافع بخش اداروں میں تبدیل ہونے پر مجبور کیا گیا اور انہیں اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ حاصل کرنے سے بھی روک دیا گیا،نیو اورینٹل ایجوکیشن اینڈ ٹیکنالوجی گروپ اور ٹی اے ایل ایجوکیشن گروپ سمیت متعدد کمپنیوں کی مارکیٹ مالیت میں اربوں ڈالر کی کمی آئی
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں چین نے اس کے برعکس مختلف حکمت عملی اختیار کی ہے،مصنوعی ذہانت کے شعبے کی ترقی کے ساتھ ہی حکومت نے اس کے لیے قواعد و ضوابط بنانا شروع کر دیے، بجائے اس کے کہ پہلے صنعت کو کئی سال تک تیزی سے پھیلنے دیا جائے اور بعد میں اچانک سخت پابندیاں عائد کی جائیں
چین میں الگورتھم کے ذریعے سفارشات سے متعلق قواعد مارچ 2022 میں نافذ ہوئے، جن میں صارفین میں ٹیکنالوجی کی لت، الگورتھم کے ذریعے امتیازی سلوک اور صارفین کے ڈیٹا کو مختلف قیمتیں وصول کرنے کے لیے استعمال کرنے جیسے معاملات شامل تھے
جنوری 2023 میں مصنوعی ذہانت سے تیار یا تبدیل شدہ مواد سے متعلق قواعد نافذ کیے گئے، جن میں تحریر، آواز، تصاویر اور ویڈیوز شامل تھیں
اس کے بعد چیٹ جی پی ٹی نے دنیا بھر میں تخلیقی مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی پیدا کر دی،چین نے اپریل 2023 میں تخلیقی مصنوعی ذہانت کے لیے ابتدائی قواعد کا مسودہ جاری کیا اور اسی سال اگست میں نظرثانی شدہ قواعد نافذ کر دیے،یوں بیجنگ نے ایک بڑی ملکی چیٹ بوٹ صنعت کے مکمل طور پر پھیلنے کا انتظار کرنے کے بجائے اس وقت ہی اس کے لیے حدود متعین کرنا شروع کر دیں جب مارکیٹ ابھی تشکیل پا رہی تھی
چینی پالیسی ساز اب مصنوعی ذہانت کی ضابطہ کاری کے لیے ’’چھوٹی، تیز اور لچکدار‘‘ حکمت عملی پر زور دے رہے ہیں،اس کا مطلب یہ ہے کہ نئی ٹیکنالوجیز اور ان سے پیدا ہونے والے خطرات سامنے آنے کے ساتھ ہی مخصوص قواعد تیزی سے متعارف کرائے جائیں
چین کی کابینہ کے مشیر اور سنگھوا یونیورسٹی کے مصنوعی ذہانت سے متعلق ادارے کے سربراہ شوئی لان کے مطابق یہ مستقبل کو سامنے رکھتے ہوئے بنائی جانے والی پالیسی ہے، جس میں مختصر مدت کے اندر قواعد طے کیے جاتے ہیں تاکہ ممکنہ خطرات کا پہلے سے اندازہ لگایا جا سکے
تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ بیجنگ نے مصنوعی ذہانت کے لیے نرم ضابطہ کاری اختیار کر لی ہے،مصنوعی ذہانت فراہم کرنے والی کمپنیوں کو تربیتی ڈیٹا، ذاتی معلومات، مواد اور سلامتی سے متعلق مختلف شرائط پوری کرنا ہوں گی، جبکہ سیاسی یا سماجی طور پر بااثر الگورتھمز کو رجسٹریشن اور جائزے کے مراحل سے بھی گزرنا پڑ سکتا ہے
چین میں حالیہ پالیسی مباحث میں ’’ریگولیٹری سینڈ باکس‘‘ کا تصور بھی زیادہ نمایاں ہوا ہے،ایسے محدود اور نگرانی والے ماحول میں کمپنیوں کو نئی ٹیکنالوجیز آزمانے کا موقع دیا جاتا ہے، جبکہ بعض موجودہ ضابطوں سے مناسب حد تک استثنا بھی دیا جا سکتا ہے
اس حکمت عملی سے علی بابا، ٹین سینٹ اور بائیڈو جیسی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں فائدے میں رہ سکتی ہیں کیونکہ وہ ضابطہ کاری کے اخراجات چھوٹی نئی کمپنیوں کے مقابلے میں زیادہ آسانی سے برداشت کر سکتی ہیں،تاہم اس کا ایک دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت ایسی ٹیکنالوجیز پر بھی پابندیاں عائد کر سکتی ہے جنہیں وہ ابھی پوری طرح سمجھ نہیں پائی
چین کے لیے معاملہ کم ضابطہ کاری کا نہیں بلکہ جلد ضابطہ کاری کا ہے،گیمنگ اور نجی ٹیوشن کے شعبوں کے تجربے نے سرمایہ کاروں کو دکھا دیا کہ اگر بیجنگ کسی صنعت کو غلط سمت میں بڑھتا ہوا سمجھ لے تو پالیسی میں اچانک تبدیلی سے کاروبار اور سرمایہ کاری کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے
مصنوعی ذہانت کے معاملے میں چینی حکام اس بار اتنا انتظار کرنے کے لیے تیار نہیں

قومی خبریں سے مزید