کینیڈین نشریاتی ادارے کا 9/11 کو ’’دہشت گرد حملے‘‘ کہنے سے روکنے کا فیصلہ متنازعہ قرار،شدید تنقید کے بعد پالیسی تبدیل
ٹورنٹو: کینیڈین براڈکاسٹنگ کارپوریشن نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں کو ’’دہشت گرد حملے‘‘ قرار دینے سے اپنے صحافیوں اور ایڈیٹرز کو روکنے سے متعلق اندرونی ہدایت پر تنازعہ کے بعد جمعہ کو اپنی پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کر دیا
یہ معاملہ 9/11 حملوں کی 25ویں برسی سے کچھ عرصہ قبل سامنے آیا،سی بی سی نیوز کے صحافتی معیارات اور عوامی اعتماد کے سینئر ڈائریکٹر باسم بوشرا کی جانب سے جاری کیے گئے ایک اندرونی مراسلے میں عملے کو ہدایت دی گئی تھی کہ 11 ستمبر کے حملوں کو ’’دہشت گرد حملے‘‘ قرار نہ دیا جائے
مراسلے میں واضح الفاظ میں کہا گیا تھا کہ صحافی 11 ستمبر کے حملوں کے لیے ’’دہشت گرد حملے‘‘ کی اصطلاح استعمال نہ کریں
یہ ہدایت سامنے آنے کے بعد کینیڈا میں میڈیا کی آزادی، صحافتی غیر جانب داری اور دہشت گردی کی تعریف کے حوالے سے شدید بحث شروع ہو گئی،ناقدین نے سوال اٹھایا کہ ایسے حملے جن میں تقریباً 3,000 افراد ہلاک ہوئے اور جنہیں القاعدہ نے منظم کیا، انہیں دہشت گرد حملے کہنے سے گریز کیوں کیا جا رہا تھا
یہ اندرونی ہدایت پہلی مرتبہ ٹورنٹو سن کے کالم نگار وارن کنسلہ نے رپورٹ کی، جس کے بعد معاملہ وسیع پیمانے پر توجہ کا مرکز بن گیا
سی بی سی نے جمعہ کو وضاحت جاری کرتے ہوئے پالیسی میں تبدیلی کا اعلان کیا ہے، تاہم یہ تنازعہ ایک مرتبہ پھر اس سوال کو نمایاں کر رہا ہے کہ سرکاری نشریاتی اداروں کو حساس تاریخی واقعات کی رپورٹنگ میں الفاظ کے انتخاب اور صحافتی اصولوں کے درمیان توازن کس طرح قائم کرنا چاہیے





