جے ڈی وینس ری پبلکن پارٹی کے اوباما بننے کی راہ پر، امریکی سیاست میں نئی نسل کے ابھرنے کا اشارہ

جے ڈی وینس ری پبلکن پارٹی کے اوباما بننے کی راہ پر، امریکی سیاست میں نئی نسل کے ابھرنے کا اشارہ

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس تیزی سے ری پبلکن پارٹی کے ایسے رہنما کے طور پر ابھر رہے ہیں جو پارٹی کی سیاست، اندازِ بیان اور مستقبل کی سمت پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں
وال سٹریٹ جرنل کی ایک حالیہ تجزیاتی سرخی میں جے ڈی وینس کو ری پبلکن پارٹی کا ’’اوباما‘‘ قرار دیا گیا ہے،اس تقابل کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ جس طرح باراک اوباما نے ڈیموکریٹک پارٹی میں ایک نئی سیاسی نسل اور نئے انداز کی نمائندگی کی تھی، اسی طرح وینس ری پبلکن پارٹی میں ایک نئی نسل کے نمایاں چہرے بنتے دکھائی دے رہے ہیں
وینس کی سیاسی اہمیت صرف نائب صدر کے عہدے تک محدود نہیں رہی،وہ ری پبلکن جماعت کے روایتی سیاسی مؤقف کو نئی زبان اور نئے سیاسی بیانیے کے ساتھ پیش کرنے والے نمایاں رہنماؤں میں شامل ہو چکے ہیں
ان کی مقبولیت خاص طور پر پارٹی کے قدامت پسند حلقوں میں تیزی سے بڑھی ہے، جبکہ ان کا سیاسی سفر بھی غیر معمولی رہا ہے،کبھی محنت کش طبقے کے مسائل پر کتاب لکھنے والے وینس اب امریکی سیاست کے اعلیٰ ترین منصبوں میں سے ایک پر فائز ہیں اور مستقبل کی ری پبلکن قیادت کے اہم امیدواروں میں شمار کیے جاتے ہیں
اوباما اور وینس کے سیاسی نظریات ایک دوسرے سے مختلف ہیں، اس لیے دونوں کا تقابل پالیسیوں کی مماثلت کے بجائے سیاسی اثر، نئی نسل کی نمائندگی اور اپنی جماعت کے مستقبل پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت کے حوالے سے کیا جا رہا ہے
یہی وجہ ہے کہ جے ڈی وینس کا ابھرنا امریکی سیاست میں ایک بڑے سوال کو جنم دے رہا ہے،کیا وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بعد ری پبلکن پارٹی کو اسی طرح نئی سمت دے سکتے ہیں جس طرح اوباما نے اپنی جماعت میں ایک نئے سیاسی دور کی بنیاد رکھی تھی

قومی خبریں سے مزید