نیپال کا تباہ کن سیلاب ہمالیہ اور بھارت کے لیے خطرے کی نئی گھنٹی

نیپال کا تباہ کن سیلاب ہمالیہ اور بھارت کے لیے خطرے کی نئی گھنٹی

نئی دہلی: نیپال اور چین کے درمیان ہمالیائی سرحد پر آنے والے تباہ کن اچانک سیلاب نے ایک بار پھر ہمالیہ کے تیزی سے بڑھتے قدرتی خطرات کو نمایاں کر دیا ہے،ماہرین کے مطابق یہ واقعہ صرف شدید بارش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ بلند پہاڑی علاقے میں گلیشیئر کے بڑے حصے، برف اور چٹان کے اچانک ٹوٹنے سے دریا میں ایک زبردست ملبے کا بہاؤ پیدا ہوا، جس نے چند ہی لمحوں میں نیپال کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گلیشیئر کا حصہ دریائے لینڈے میں گرا، جس سے برف اور چٹانوں کا بڑا تودہ دریا میں داخل ہوا اور پانی کا راستہ عارضی طور پر بند ہو گیا،قدرتی بند ٹوٹنے کے بعد پانی، کیچڑ، برف اور چٹانوں کا انتہائی تیز بہاؤ نیچے کی جانب آیا اور بھوٹے کوشی اور تریشولی دریاؤں میں داخل ہو گیا،نیپالی حکام کے مطابق تریشولی دریا کی سطح صرف 30 منٹ میں تقریباً 9 میٹر تک بلند ہوئی
سیلاب نے نیپال کے رسوا ضلع میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی، کئی بستیاں، سڑکیں، پل، بجلی کے منصوبے اور سرحدی تنصیبات متاثر ہوئیں،تبت میں بھی گیئرونگ کے علاقے میں بڑے پیمانے پر نقصان ہوا،تازہ اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں اور لاپتا افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ امدادی کارروائیاں دشوار پہاڑی علاقے اور تباہ شدہ بنیادی ڈھانچے کے باعث شدید مشکلات کا شکار ہیں
اس سانحے نے بھارت میں بھی تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ نیپال سے آنے والے دریائی نظام کا پانی بھارت میں داخل ہوتا ہے،تریشولی آگے چل کر ناراینی دریا میں شامل ہوتا ہے، جو بھارت کی ریاست بہار میں گنڈک کے نام سے بہتا ہے،اس لیے ہمالیائی علاقوں میں آنے والے بڑے سیلاب کا اثر سرحد پار بھارتی علاقوں تک پہنچ سکتا ہے
یہ واقعہ گزشتہ برس اتراکھنڈ کے دھرالی میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور 2013 کے کیدارناتھ سانحے کی یاد بھی تازہ کرتا ہے،بھارت میں چمولی کا 2021 کا سانحہ اور 2023 میں سکم میں برفانی جھیل پھٹنے کا واقعہ بھی اس بات کی نشاندہی کر چکے ہیں کہ ہمالیہ میں گلیشیئر، برفانی جھیلوں، لینڈ سلائیڈنگ اور اچانک سیلاب کا خطرہ بڑھ رہا ہے
ماہرین کے مطابق بڑھتا ہوا درجہ حرارت گلیشیئرز کے پگھلنے، پہاڑی برف اور مستقل منجمد زمین کے کمزور ہونے کا سبب بن رہا ہے، جس سے بلند پہاڑی علاقوں میں چٹانیں اور برفانی ڈھانچے زیادہ غیر مستحکم ہو سکتے ہیں،تاہم ماہرین نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی ایک مخصوص سانحے کو براہ راست موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ قرار دینے کے لیے مزید سائنسی تحقیق ضروری ہے
ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمالیائی ممالک کو گلیشیئرز، برفانی جھیلوں اور پہاڑی ڈھلوانوں کی مسلسل نگرانی کے ساتھ مؤثر پیشگی انتباہی نظام قائم کرنا ہوگا،نیپال کا حالیہ سانحہ اس بات کی واضح وارننگ ہے کہ ہمالیہ میں قدرتی خطرات صرف مقامی مسئلہ نہیں رہے، بلکہ ان کے اثرات سرحدیں عبور کر کے بھارت سمیت پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید