بل گیٹس کی اے آئی کے بارے میں سخت وارننگ، ’’انسانیت کے پاس سست روی کی عیاشی کا وقت نہیں بچا
مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور ارب پتی انسان دوست بل گیٹس نے مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی پر خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے مزید انتظار کی متحمل نہیں ہوسکتی،ان کے مطابق مصنوعی ذہانت کا انقلاب انسانی تاریخ میں آنے والے کسی بھی سابقہ تکنیکی انقلاب سے مختلف اور کہیں زیادہ وسیع اثرات کا حامل ہوسکتا ہے
تقریباً 6,000 الفاظ پر مشتمل اپنے ایک نئے مضمون میں بل گیٹس نے لکھا کہ مصنوعی ذہانت کے اثرات صحت، تعلیم، روزگار اور معیشت سے لے کر انسانی تعلقات تک زندگی کے تقریباً ہر شعبے پر مرتب ہوں گے
گیٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت سے حاصل ہونے والے طویل مدتی فوائد بہت بڑے ہوسکتے ہیں، لیکن اگر دنیا نے آنے والے چند برسوں کے لیے مناسب حکمت عملی تیار نہ کی تو ٹیکنالوجی کے فوائد کے بجائے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سماجی، سیاسی اور معاشی افراتفری زیادہ نمایاں ہوسکتی ہے
انہوں نے مصنوعی ذہانت کے خطرات کا موازنہ ایسے عالمی مسائل سے کیا جنہیں کسی ایک ملک کے لیے اکیلے حل کرنا ممکن نہیں، جیسے موسمیاتی تبدیلی اور جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ،ان کے مطابق مصنوعی ذہانت بھی ایک ایسا عالمی مسئلہ بن چکی ہے جس کے لیے عالمی سطح پر تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے
گیٹس نے لکھا کہ چیلنج غیر معمولی طور پر بڑا ہے اور بہترین حالات میں بھی مصنوعی ذہانت کے نئے دور کی طرف منتقلی انسانی تاریخ کے انتہائی ہنگامہ خیز ادوار میں شامل ہوسکتی ہے
ان کے مطابق اصل خطرہ صرف یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت بعض ملازمتوں کو ختم یا تبدیل کردے گی،مسئلہ اس سے کہیں بڑا ہے کیونکہ یہ ٹیکنالوجی اس رفتار سے ترقی کر رہی ہے کہ حکومتوں، اداروں اور معاشروں کے لیے اس کے اثرات کے ساتھ قدم ملانا مشکل ہوسکتا ہے
صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت بیماریوں کی تشخیص، نئی ادویات کی تیاری اور طبی تحقیق کو تیز کرسکتی ہے،تعلیم میں یہ ہر طالب علم کے لیے ذاتی نوعیت کی تدریس فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے،لیکن اسی ٹیکنالوجی سے غلط معلومات کی تیاری، سیاسی اثراندازی، ملازمتوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلی اور معاشرتی عدم استحکام جیسے خطرات بھی پیدا ہوسکتے ہیں
گیٹس کے مطابق دنیا کو مصنوعی ذہانت کو روکنے کے بجائے اس کی ترقی کو ذمہ داری کے ساتھ منظم کرنے کے طریقے تلاش کرنے چاہییں،ان کے نزدیک سب سے اہم کام یہ ہے کہ حکومتیں اور ٹیکنالوجی کمپنیاں مل کر ایسے اصول وضع کریں جن کے ذریعے نئی ٹیکنالوجی کے فوائد زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکیں اور اس کے نقصانات کو محدود کیا جاسکے
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کے فوائد صرف امیر ممالک یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں تک محدود نہیں رہنے چاہییں،اگر اس ٹیکنالوجی سے دنیا بھر کے لوگوں کو فائدہ پہنچانا ہے تو ترقی پذیر ممالک کو بھی اس کے وسائل، بنیادی ڈھانچے اور مہارت تک رسائی دینا ہوگی
گیٹس کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے حوالے سے فیصلہ کن دور اب دور مستقبل میں نہیں بلکہ آنے والے چند برسوں میں شروع ہوگا،اسی لیے حکومتوں کے پاس یہ عذر نہیں ہونا چاہیے کہ وہ پہلے مزید انتظار کریں اور بعد میں قوانین اور پالیسیاں بنائیں
ان کا بنیادی پیغام واضح ہے،مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والے خطرات عالمی نوعیت کے ہیں، اس لیے ان کا مقابلہ بھی عالمی تعاون کے ذریعے کرنا ہوگا، اور انسانیت کے پاس اس کام کو بہت دیر تک مؤخر کرنے کی گنجائش نہیں





