ناسا کی 4.3 ارب ڈالر کی خلائی دوربین 100,000 نئے سیارے دریافت کر سکتی ہے
ناسا کی 4.3 ارب ڈالر مالیت کی نئی خلائی دوربین ’’نینسی گریس رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ‘‘ کائنات کے بارے میں انسان کی سمجھ کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے،یہ دوربین نہ صرف کائنات کا ایک وسیع تھری ڈی نقشہ تیار کرنے میں مدد دے گی بلکہ سائنس دانوں کے مطابق ہمارے نظام شمسی سے باہر تقریباً 100,000 نئے سیاروں کی دریافت بھی کر سکتی ہے
ناسا کے مطابق رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کو 30 اگست 2026 کو فلوریڈا کے کینیڈی اسپیس سینٹر سے اسپیس ایکس کے فالکن ہیوی راکٹ کے ذریعے خلا میں بھیجنے کا منصوبہ ہے،پرواز کے لیے مقررہ وقت صبح 7 بج کر 26 منٹ مشرقی امریکی وقت ہے
یہ دوربین ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے تقریباً 2.4 میٹر قطر کے آئینے جتنے بڑے آئینے سے لیس ہے، لیکن اس کا سب سے بڑا امتیاز اس کا وسیع منظرنامہ ہے،رومن ایک ہی وقت میں ہبل کے مقابلے میں تقریباً 100 گنا زیادہ آسمانی علاقے کا مشاہدہ کر سکے گی،اس کا مقصد آسمان کے وسیع حصوں کا انتہائی تیزی سے سروے کرنا ہے، جس سے وہ ایسے مشاہدات چند سال میں کر سکے گی جن کے لیے ہبل کو کئی دہائیاں درکار ہوتیں
رومن کا ایک اہم مشن نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں، یعنی ایکسوپلینیٹس، کی تلاش ہے،ناسا کے مطابق اس مشن سے تقریباً 100,000 نئے سیاروں کی نشاندہی متوقع ہے، جو اس وقت معلوم ایکسوپلینیٹس کی تعداد کے مقابلے میں بہت بڑا اضافہ ہوگا،رومن خاص طور پر کہکشاں کے ان علاقوں کا جائزہ لے گی جہاں اب تک سیاروں کی تلاش نسبتاً کم ہوئی ہے
رومن سیاروں کی تلاش کے لیے مائیکرو لینسنگ سمیت مختلف طریقے استعمال کرے گی،اس تکنیک میں کسی دور دراز ستارے یا سیارے کی کششِ ثقل پس منظر میں موجود ستارے کی روشنی کو عارضی طور پر خم دیتی ہے، جس سے ایسے چھوٹے اور دور سیاروں کا سراغ لگایا جا سکتا ہے جنہیں دوسرے طریقوں سے تلاش کرنا مشکل ہوتا ہے
یہ دوربین صرف نئے سیارے دریافت کرنے تک محدود نہیں ہوگی،سائنس دان اس کے ذریعے اربوں کہکشاؤں کا مشاہدہ کریں گے اور کائنات کے پھیلاؤ، کہکشاؤں کی تشکیل اور اس کی بڑی ساخت کا مطالعہ کریں گے،اس مشن کا ایک بنیادی مقصد ڈارک انرجی اور ڈارک میٹر کے راز سمجھنا بھی ہے، جو کائنات کی ساخت اور اس کے پھیلاؤ کے بارے میں بنیادی سوالات سے جڑے ہوئے ہیں
رومن لاکھوں ستاروں اور اربوں کہکشاؤں سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار کے ذریعے کائنات کا ایک وسیع نقشہ تیار کرے گی،سائنس دان اس ڈیٹا سے یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ کائنات وقت کے ساتھ کس رفتار سے پھیل رہی ہے اور اس پھیلاؤ میں ڈارک انرجی کا کیا کردار ہے
رومن کو ہبل اور جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کا متبادل نہیں بلکہ ان کا تکمیلی مشن قرار دیا جا رہا ہے،ہبل زیادہ تفصیلی تصاویر کے لیے معروف ہے جبکہ جیمز ویب انتہائی دور اور قدیم کائناتی اجسام کے گہرے مشاہدات کرتا ہے،رومن کی خاص طاقت اس کا وسیع میدانِ نظر اور انتہائی تیز رفتار سروے ہوگا، جس سے سائنس دان ایک ہی وقت میں کائنات کے کہیں زیادہ بڑے حصے کا جائزہ لے سکیں گے
دلچسپ بات یہ ہے کہ رومن کی بنیادی ٹیکنالوجی کا ایک حصہ جاسوسی سیٹلائٹ پروگرام سے نکلا تھا،امریکی نیشنل ریکونیسنس آفس نے 2012 میں دو ایسے بڑے آئینے ناسا کو فراہم کیے جو اصل میں ایک خفیہ نگرانی کے پروگرام کے لیے تیار کیے گئے تھے،ناسا نے ان میں سے ایک کو سائنسی مقاصد کے لیے دوبارہ ڈیزائن کیا اور یہی ٹیکنالوجی بعد میں رومن اسپیس ٹیلی اسکوپ کی بنیاد بنی
رومن کو سورج اور زمین کے درمیان ایک ایسے مقام کی طرف بھیجا جائے گا جو زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور ہے،وہاں پہنچنے کے بعد دوربین کئی برس تک کائنات کا مسلسل سروے کرے گی،اس کا بنیادی مشن تقریباً 5 سال پر محیط ہے، تاہم اس میں اضافی ایندھن موجود ہونے کی وجہ سے مشن کو مزید کئی سال جاری رکھنے کی گنجائش بھی ہوسکتی ہے
سائنس دانوں کے لیے اس مشن کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ رومن ایک ساتھ بہت بڑے پیمانے پر کائنات کا مشاہدہ کرے گی،اگر متوقع نتائج حاصل ہوئے تو تقریباً 100,000 نئے سیاروں کی دریافت کے ساتھ یہ مشن نہ صرف دوسرے شمسی نظاموں کی تعداد کے بارے میں ہماری معلومات میں غیر معمولی اضافہ کرے گا بلکہ یہ سمجھنے میں بھی مدد دے سکتا ہے کہ سیارے کیسے بنتے ہیں، کہاں بنتے ہیں اور ہماری زمین جیسے سیاروں کی کائنات میں موجودگی کتنی عام ہے





