ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کراچی میں ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات کے بعد نیویارک واپس پہنچ گئے

ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کراچی میں ایم کیو ایم کے اندرونی اختلافات کے بعد نیویارک واپس پہنچ گئے

نیویارک: متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین اور وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کراچی میں پارٹی کے اندرونی اختلافات کے بعد ایک بار پھر امریکہ پہنچ گئے ہیں اور ان دنوں نیویارک میں موجود ہیں
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی چند روز قبل دبئی سے کراچی گئے تھے، جہاں انہوں نے ایم کیو ایم پاکستان کی سیاسی اور تنظیمی صورت حال کا جائزہ لیاتھا ،کراچی میں پارٹی کے مرکز بہادرآباد میں خالد مقبول صدیقی اور مصطفیٰ کمال سے وابستہ دھڑوں کے درمیان ہونے والی شدید جھڑپ کے بعد پیدا ہونے والی صورت حال بھی ان کی کراچی آمد کے پس منظر میں اہم رہی
2 اگست کو بہادرآباد مرکز میں دونوں دھڑوں کے کارکنوں کے درمیان ہاتھا پائی، فائرنگ اور پتھراؤ ہوا تھا، جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے تھے،واقعے کے بعد پارٹی کے اندر اختلافات ایک مرتبہ پھر نمایاں ہوگئے تھے
ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اب کراچی سے واپس نیویارک پہنچ چکے ہیں اور آئندہ چند روز میں واشنگٹن بھی جانے کا امکان ہے،تاہم ان کے امریکہ میں آئندہ قیام کے حوالے سے حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا امریکہ سے تعلق نیا نہیں،وہ ماضی میں طویل عرصے تک امریکہ میں مقیم رہے اور ایک بار پھر پاکستان واپس آکر دوبارہ عملی سیاست میں سرگرم ہوئے تھے،ان کے سیاسی سفر کے دوران امریکہ میں قیام، امیگریشن سے متعلق معاملات اور بعد میں پاکستان واپسی کا ذکر متعدد پرانے ریکارڈز میں ملتا ہے
اکتوبر 2000 کے ایک ریکارڈ کے مطابق امریکی امیگریشن حکام نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کو سفری دستاویزات کی جانچ کے بعد رہا کیا تھا،تاہم ان کے موجودہ امیگریشن معاملے سے متعلق دس سالہ پابندی کے خاتمے یا کسی زیرِ التوا اپیل کی موجودہ حیثیت کی آزادانہ سرکاری تصدیق دستیاب نہیں ہے
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے امریکہ میں مستقل قیام کے امکانات کے حوالے سے بھی باتیں جاری ہیں،بتایا جاتا ہے کہ ان کے اہل خانہ کا ایک حصہ امریکہ میں مقیم ہے، جبکہ ان کی اہلیہ اور بچے طویل عرصے سے پاکستان میں ان کے ساتھ رہے ہیں،ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ میں قیام سے متعلق قانونی رکاوٹ ختم ہونے کے بعد ان کی اہلیہ کی جانب سے امیگریشن کارروائی آگے بڑھائی جا سکتی ہے
تاہم اس معاملے کی حتمی قانونی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں اور نہ ہی ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی یا ان کے خاندان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان کیا گیا ہے
ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کی صحت بھی ان کے طویل سیاسی سفر کا اہم حصہ رہی ہے،انہیں ماضی میں کینسر کا سامنا رہا اور 2015 میں وہ علاج کے لیے سنگاپور گئے تھے،بعد کے برسوں میں بھی ان کے علاج اور صحت کے مسائل کا ذکر سامنے آتا رہا ہے
سیاسی طور پر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے 2016 میں الطاف حسین سے علیحدگی کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت میں مرکزی کردار ادا کیا اور فروری 2018 میں پارٹی کے کنوینر بنے،حالیہ برسوں میں پارٹی کے اندر مصطفیٰ کمال اور دیگر رہنماؤں کے ساتھ اختلافات کے باوجود وہ ایم کیو ایم پاکستان کے چیئرمین کی حیثیت سے سیاسی سرگرمیوں میں موجود رہے ہیں،حالیہ سرکاری اور سیاسی حوالوں میں بھی انہیں ایم کیو ایم پاکستان کا چیئرمین اور وفاقی وزیرِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت قرار دیا گیا ہے
اب ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کے دوبارہ نیویارک پہنچنے کے بعد سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا وہ آئندہ اپنی سیاسی سرگرمیوں کا مرکز پاکستان ہی رکھیں گے یا امریکہ میں زیادہ مستقل قیام اختیار کریں گے،فی الحال ان کے نیویارک میں موجود ہونے اور واشنگٹن کے ممکنہ دورے کی اطلاعات ذرائع کی جانب سے سامنے آئی ہیں، جبکہ امریکہ میں مستقل قیام اور امیگریشن کے معاملے سے متعلق مزید پیش رفت کا انتظار ہے

قومی خبریں سے مزید