پمز کا سانحہ: چودہ ننھی جانیں اور ہماری اجتماعی بے حسی
(تحریر ۔ خالد مسعود چوہدری)
اسلام آباد کے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز، یعنی پمز، کے مادر و طفل مرکز میں 26 اگست کی صبح لگنے والی آگ نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا۔ اس المناک واقعے میں 14 نومولود بچے جاں بحق ہوئے جبکہ ایک بچہ زندہ بچایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ تقریباً پونے سات بجے صبح لگی اور چند ہی لمحوں میں انتہائی تیزی سے پھیل گئی۔
یہ محض ایک آگ نہیں تھی۔ یہ ہمارے نظامِ صحت، ہماری انتظامی ترجیحات اور ہماری اجتماعی بے حسی پر ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جسے محض تعزیتی بیانات سے مٹایا نہیں جا سکتا۔
یہ بچے بھاگ نہیں سکتے تھے
ایک عام عمارت میں آگ لگے تو انسان اپنی جان بچانے کے لیے دروازے کی طرف دوڑ سکتا ہے۔ مگر نومولود بچے؟
وہ نہ چل سکتے ہیں، نہ چیخ کر مدد طلب کر سکتے ہیں، نہ اپنی جگہ چھوڑ سکتے ہیں۔ ان میں سے کئی انکیوبیٹرز، آکسیجن اور طبی آلات کے سہارے زندگی کی جنگ لڑ رہے تھے۔
اس لیے نومولود بچوں کے وارڈ میں آگ لگنا عام حادثہ نہیں۔ ایسے وارڈ میں آگ سے تحفظ، بروقت اطلاع، متبادل بجلی، آکسیجن نظام، تربیت یافتہ عملہ اور فوری انخلا کا نظام خود علاج کا حصہ ہوتے ہیں۔
اگر ان میں سے کوئی ایک نظام ناکام ہو تو نقصان سنگین ہو سکتا ہے؛ اگر کئی نظام بیک وقت ناکام ہوں تو سانحہ جنم لیتا ہے۔
اصل سوال آگ لگنے کا نہیں، چودہ جانیں جانے کا ہے
حکام نے ابتدائی طور پر آگ کی وجہ ایئر کنڈیشنر کے پھٹنے یا برقی خرابی کو قرار دیا ہے، جبکہ پمز کی ابتدائی رپورٹ میں چنگاری اور آکسیجن کے باعث آگ کے تیزی سے پھیلنے کا ذکر سامنے آیا ہے۔ تحقیقات ابھی جاری ہیں، اس لیے حتمی وجہ کا تعین تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی ہونا چاہیے۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے:
اگر آگ کسی برقی خرابی یا مشین کی وجہ سے لگی، تو پھر چودہ بچے کیوں نہ بچ سکے؟
یہی وہ سوال ہے جس کا جواب پوری قوم کو چاہیے۔
آگ لگ جانا ممکن ہے۔ مشین خراب ہو سکتی ہے۔ بجلی کا نظام فیل ہو سکتا ہے۔ مگر ایک بڑے سرکاری ہسپتال میں ایسا ہنگامی نظام ضرور ہونا چاہیے جو کسی ایک خرابی کو بڑے پیمانے پر جانی نقصان میں تبدیل ہونے سے روکے۔
کیا ہم صرف حادثے کا انتظار کرتے ہیں؟
ہمارے ہاں المیہ یہ ہے کہ حفاظتی اقدامات اکثر حادثے سے پہلے نہیں، حادثے کے بعد یاد آتے ہیں۔
عمارتوں کے فائر سیفٹی معائنے، بجلی کی تنصیبات کی جانچ، ہنگامی اخراج کے راستے، فائر الارم، آگ بجھانے کے آلات اور عملے کی تربیت—یہ سب چیزیں اس وقت اہم نہیں سمجھی جاتیں جب سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا ہو۔
لیکن حادثہ ہوتے ہی یہی معمولی سمجھی جانے والی چیزیں زندگی اور موت کا فیصلہ کرتی ہیں۔
پمز جیسے قومی سطح کے ہسپتال میں تو حفاظتی معیار عام عمارتوں سے کہیں بلند ہونا چاہیے۔ وہاں روزانہ ایسے مریض داخل ہوتے ہیں جو اپنی حفاظت کے لیے مکمل طور پر دوسروں پر منحصر ہوتے ہیں۔
جو ادارہ زندگی بچانے کے لیے قائم کیا گیا ہو، وہاں حفاظتی غفلت کی کوئی معمولی سطح بھی معمولی نہیں ہوتی۔
تحقیق صرف کاغذی کارروائی نہ بن جائے
وزیراعظم نے فوری تحقیقات کا حکم دیا ہے اور اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی گئی ہے۔ حکومت نے یہ بھی کہا ہے کہ ذمہ داری کا تعین کیا جائے گا۔
یہ ایک ضروری قدم ہے، مگر اصل امتحان اب شروع ہوا ہے۔
تحقیق کو صرف یہ معلوم کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے کہ آگ کہاں سے لگی۔ اسے یہ بھی معلوم کرنا ہوگا کہ:
کون ذمہ دار تھا؟
فائر سیفٹی کا ذمہ دار کون تھا؟
آگ بجھانے کے آلات کب آخری مرتبہ چیک ہوئے؟
برقی نظام کی آخری مکمل جانچ کب ہوئی؟
ہنگامی انخلا کا طریقہ کار کیا تھا؟
عملے کو نومولود بچوں کے فوری انخلا کی تربیت دی گئی تھی یا نہیں؟
فائر الارم اور دیگر حفاظتی نظام مکمل طور پر فعال تھے یا نہیں؟
ہسپتال میں ایسے حادثے سے نمٹنے کی باقاعدہ مشق کب ہوئی تھی؟
اور سب سے بڑھ کر، کیا پہلے سے موجود کسی حفاظتی خامی کو نظر انداز کیا گیا تھا؟
ان سوالات کے جواب صرف پمز کے لیے نہیں بلکہ ملک کے تمام سرکاری ہسپتالوں کے لیے اہم ہیں۔
صرف ایک افسر کی معطلی کافی نہیں
حادثے کے بعد کسی ایک افسر کو معطل کر دینا عوامی غصے کو وقتی طور پر ٹھنڈا کر سکتا ہے، مگر اگر مسئلہ نظامی ہو تو ایک شخص کو قربانی کا بکرا بنانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا۔
اگر تحقیقات میں کسی کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو اسے قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ادارہ جاتی سطح پر کہاں کہاں ناکامی ہوئی۔
کیونکہ ایک ہسپتال میں آگ صرف اس وقت تباہ کن بنتی ہے جب حفاظتی نظام، انتظامی نگرانی، تربیت، آلات اور ہنگامی ردعمل ایک دوسرے کا ساتھ دینے میں ناکام ہوں۔
جواب دہی فرد کی بھی ہونی چاہیے اور نظام کی بھی۔
پمز کا سانحہ ایک تنبیہ ہے
یہ پہلا موقع نہیں کہ پاکستان میں ہسپتال کی آگ نے نومولود بچوں کی جانیں لی ہوں۔ 2024 میں ساہیوال ٹیچنگ ہسپتال میں بھی آگ کے نتیجے میں بچوں کی ہلاکت نے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔
اگر ایک سانحے کے بعد دوسرا سانحہ پھر اسی نوعیت کے سوالات پیدا کرے تو مسئلہ محض حادثہ نہیں رہتا۔
پھر سوال نظام کی یادداشت کا ہوتا ہے۔
ہم کب تک حادثہ ہونے کے بعد تحقیقات کریں گے؟
کب تک رپورٹیں بنیں گی؟
کب تک ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے اعلانات ہوں گے؟
اور کب تک حفاظتی خامیاں اگلے سانحے تک زندہ رہیں گی؟
چودہ بچوں کا قرض
چودہ نومولود اس دنیا میں آئے اور چند ہی دنوں یا ہفتوں بعد ہم سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو گئے۔
ان کے والدین نے اپنے بچوں کو ہسپتال میں اس یقین کے ساتھ چھوڑا تھا کہ وہاں ان کی حفاظت ہوگی۔ وہ بچے اپنے والدین کے ہاتھوں میں نہیں بلکہ ایک ایسے ادارے میں تھے جسے زندگی بچانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔
اب ان والدین کے پاس صرف ایک سوال ہے:
میرا بچہ کیوں نہ بچ سکا؟
اس سوال کا جواب محض “اللہ کی مرضی” کہہ کر نہیں دیا جا سکتا۔ اللہ کی مرضی اپنی جگہ، مگر انسان کو اپنی ذمہ داری بھی پوری کرنا ہوتی ہے۔
اگر کوئی حفاظتی تدبیر ممکن تھی اور اسے اختیار نہیں کیا گیا، اگر کوئی خرابی پہلے سے معلوم تھی اور اسے دور نہیں کیا گیا، اگر کوئی نظام موجود تھا مگر کام نہیں کر رہا تھا، تو اس کا حساب ضرور ہونا چاہیے۔
اختتامیہ: آگ بجھ گئی، مگر سوال ابھی زندہ ہیں
پمز کی آگ بجھ چکی ہے، لیکن اس سانحے کے سوالات ابھی زندہ ہیں۔
چودہ قبریں ہمیں پکار رہی ہیں کہ اس واقعے کو چند دن کی خبر نہ بننے دیا جائے۔
حکومت کو چاہیے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد رپورٹ عوام کے سامنے لائے، ذمہ داری واضح کرے اور ملک کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں آزادانہ فائر سیفٹی آڈٹ کرائے۔
کیونکہ ہسپتال صرف علاج گاہ نہیں ہوتا؛ وہ انسان اپنی زندگی کا سب سے قیمتی اثاثہ اس کے سپرد کرتا ہے۔
اگر ایک نومولود بھی اس لیے مر جائے کہ ہمارا حفاظتی نظام ناکام تھا، تو یہ صرف ایک خاندان کا نقصان نہیں—یہ ریاست کی ذمہ داری کا سوال ہے۔
اور پمز کے چودہ معصوم بچوں کے بعد اب یہ سوال مزید مؤخر نہیں کیا جا سکتا:
ہم اپنے ہسپتالوں کو واقعی محفوظ بنائیں گے، یا اگلے سانحے کا انتظار کریں گے؟





