عاصم منیر ایران امریکی نمائندے کے طور پر نہیں گئے تھے، وزارت خارجہ نے دعوے کو گمراہ کن قرار دے دیا
اسلام آباد میں وزارت خارجہ نے ان دعوؤں کو غلط اور گمراہ کن قرار دیا ہے کہ چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کا دورہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یا امریکہ کے نمائندے کے طور پر کیا تھا وزارت خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے واضح کیا کہ عاصم منیر کا تہران کا دورہ پاکستان کی جانب سے جاری سفارتی کوششوں اور ثالثی کے کردار کے تناظر میں تھا
ترجمان نے کہا کہ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے اور مذاکرات کی بحالی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے پاکستان دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت دوبارہ شروع کرانے اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے مخلصانہ سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے
وزارت خارجہ کے مطابق عاصم منیر نے 24 اگست 2026 کو تہران کا دورہ پاکستان کی اسی ثالثی کوشش کے تحت کیا ان کے دورے کا مقصد امریکہ اور ایران کے درمیان تعطل ختم کرنے، کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے راستہ تلاش کرنا تھا
ترجمان طاہر اندرابی نے کہا کہ ایرانی قیادت نے کشیدگی کم کرنے اور تنازع کے پرامن حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی اس دوران خطے کے مختلف ممالک کے حکام سے رابطے میں رہے اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو آگے بڑھاتے رہے
عاصم منیر کے دورے کے بارے میں ایرانی حکام نے بھی اس سے قبل کہا تھا کہ یہ دورہ انتہائی نتیجہ خیز رہا اور اس کے دوران اہم سفارتی پیش رفت ہوئی ایرانی صدر کے دفتر کے ایک عہدیدار نے بعض میڈیا قیاس آرائیوں کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ دورے کے نتائج آنے والے وقت میں سامنے آئیں گے
دوسری جانب، اس دورے سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان رابطے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ ایران کو دوبارہ مذاکرات کی طرف لانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرے تاہم اس رابطے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ عاصم منیر ایران میں امریکی نمائندے کی حیثیت سے گئے تھے
پاکستان نے واضح کیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے، مذاکرات کی بحالی اور ایک جامع، منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔





