سوشل میڈیا کمپنی میٹا کے لیے سترہ بلین کیا معنی رکھتے ہیں ،رقم سے بڑھکر اور کیا اہم ہے ؟
میٹا کی جانب سے سوشل میڈیا کے استعمال سے بچوں اور نوجوانوں کو مبینہ طور پر پہنچنے والے نقصانات سے متعلق مقدمات میں 17.1 ارب ڈالر تک کے تصفیے پر رضامندی نے کمپنی کے لیے ایک نئے قانونی اور کاروباری مرحلے کا آغاز کردیا ہے،یہ معاملہ محض ایک بھاری مالی ادائیگی تک محدود نہیں بلکہ فیس بک اور انسٹاگرام کے نوجوان صارفین کے لیے کام کرنے کے انداز میں نمایاں تبدیلیاں بھی لائے گا
معاہدے کے تحت میٹا کم از کم 12.1 ارب ڈالر اگلے 10 برس میں ادا کرے گی، جبکہ مزید تقریباً 5 ارب ڈالر کی ادائیگی اس صورت میں ہوسکتی ہے جب دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیاں بھی نوجوانوں کے تحفظ کے لیے اسی نوعیت کے اقدامات قبول کرتی ہیں،اس طرح زیادہ سے زیادہ رقم 17.1 ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے
اگرچہ یہ رقم ٹیکنالوجی کی صنعت کے کسی ادارے کے لیے غیر معمولی طور پر بڑی ہے، لیکن میٹا کے حجم کے مقابلے میں یہ کمپنی کے وجود کے لیے فوری مالی خطرہ نہیں سمجھی جارہی،اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ تصفیے کے نتیجے میں کمپنی کو نوجوان صارفین کے لیے اپنی خدمات کے بنیادی طریقہ کار میں تبدیلیاں کرنا ہوں گی
نئے ضوابط کے تحت 18 سال سے کم عمر صارفین کے لیے فیس بک اور انسٹاگرام کے استعمال کو روزانہ 2 گھنٹے تک محدود کیا جائے گا، جبکہ رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک رسائی بند رکھنے کا نظام بھی متعارف کرایا جائے گا،اسکول کے اوقات میں اطلاعات محدود ہوں گی اور والدین کو بچوں کے استعمال پر مزید اختیار حاصل ہوگا
میٹا کو عمر کی تصدیق کے نظام کو بھی مضبوط بنانا ہوگا اور نوجوان صارفین کے لیے بعض ایسی خصوصیات محدود کرنا ہوں گی جن پر طویل عرصے سے تنقید ہوتی رہی ہے،ان میں ذاتی نوعیت کے مواد کی سفارش، پسندیدگیوں کی نمائش اور بعض ظاہری شکل تبدیل کرنے والے فلٹرز شامل ہیں۔ نوجوانوں کو غیر شخصی فیڈ کا انتخاب بھی دیا جائے گا
یہ تصفیہ میٹا کے لیے ایک اور اہم وجہ سے بھی اہم ہے،کمپنی نے کسی غلط کام کا اعتراف کیے بغیر ایک ایسے مقدمے کو ختم کیا ہے جس میں ریاستوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فیس بک اور انسٹاگرام کو نوجوانوں کو زیادہ سے زیادہ وقت پلیٹ فارمز پر رکھنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا
تاہم، 17.1 ارب ڈالر کا معاملہ صرف میٹا تک محدود نہیں رہ سکتا،تصفیے میں دیگر بڑی سوشل میڈیا کمپنیوں کے لیے بھی اسی نوعیت کے حفاظتی اقدامات کی راہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے،اگر یہ معیار ٹک ٹاک، یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز تک پھیلتا ہے تو اس کے نتیجے میں امریکی سوشل میڈیا صنعت میں بچوں اور نوجوانوں کے لیے خدمات کا پورا ڈھانچہ تبدیل ہوسکتا ہے
یوں میٹا کے لیے 17.1 ارب ڈالر کی اصل قیمت صرف ادا کی جانے والی رقم نہیں بلکہ وہ تبدیلیاں ہیں جو کمپنی کو نوجوان صارفین کو راغب کرنے، مصروف رکھنے اور ان کے سامنے مواد پیش کرنے کے طریقے میں کرنا ہوں گی،یہ تصفیہ اس بات کا بھی اشارہ ہے کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے کاروباری ماڈل پر بچوں کے تحفظ کے حوالے سے قانونی دباؤ اب پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکا ہے





