ممدانی کے سرکاری گروسری اسٹورز کے خلاف نیویارک کے کاروباری مالکان کا احتجاج، 2 مقدمے دائر
نیویارک: نیویارک شہر کے کاروباری مالکان نے میئر زوہرن ممدانی کے سرکاری ملکیت میں گروسری اسٹورز قائم کرنے کے منصوبے کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سرکاری سبسڈی سے چلنے والے یہ اسٹورز پہلے سے مشکلات کا شکار مقامی کاروباروں کے لیے غیر منصفانہ مقابلہ پیدا کریں گے اور متعدد دکانیں بند ہونے پر مجبور ہوسکتی ہیں
کاروباری مالکان نے بدھ کو مجوزہ سرکاری گروسری اسٹور کے ایک مقام کے قریب احتجاج کیا،ان کا کہنا تھا کہ شہر کی جانب سے کم قیمتوں پر اشیائے خورونوش فراہم کرنے والے اسٹورز قائم کرنے سے چھوٹے کاروباروں کے لیے مقابلہ کرنا مشکل ہوجائے گا
ملٹی کلچرل بزنس کولیشن، جو مختلف ثقافتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے کاروباروں کی نمائندگی کرنے والے 50 تجارتی ایوانوں پر مشتمل ہے، نے پیر کو نیویارک کی ریاستی عدالت میں 2 مقدمات دائر کیے ہیں،مقدمات میں ممدانی انتظامیہ کے 5 سرکاری ملکیت والے گروسری اسٹورز قائم کرنے کے منصوبے کو چیلنج کیا گیا ہے
اتحادی تنظیم کا مؤقف ہے کہ شہر کے پاس سرکاری وسائل اور سبسڈی کی مدد سے نجی گروسری اسٹورز کے مقابلے میں انتہائی کم قیمتوں پر اشیا فروخت کرنے کی صلاحیت ہوگی، جس سے چھوٹے اور تارکین وطن کی ملکیت والے کاروبار شدید متاثر ہوسکتے ہیں،تنظیم نے عدالت سے مطالبہ کیا ہے کہ شہر کو منصوبے کے معاشی اثرات کا باقاعدہ جائزہ لینے کا پابند کیا جائے
ممدانی انتظامیہ نے اس منصوبے کو نیویارک کے بڑھتے ہوئے اخراجات، خصوصاً اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے سے نمٹنے کی کوشش قرار دیا ہے،منصوبے کے تحت شہر 5 گروسری اسٹورز قائم کرے گا، جن میں ہر بورو میں ایک اسٹور شامل ہوگا،مجوزہ اسٹورز میں اشیائے ضروریہ کو مارکیٹ کی قیمتوں سے تقریباً 30 فیصد کم قیمت پر فراہم کرنے کا منصوبہ ہے،اس منصوبے کے لیے شہر نے تقریباً 70 ملین ڈالر مختص کیے ہیں
کاروباری مالکان کا کہنا ہے کہ سرکاری ملکیت، کرایوں میں رعایت اور سبسڈی جیسی سہولتوں کے باعث نجی دکاندار ان اسٹورز کے ساتھ برابری کی بنیاد پر مقابلہ نہیں کرسکیں گے،ان کے مطابق چھوٹے گروسری اسٹورز پہلے ہی کم منافع اور بڑھتے ہوئے کاروباری اخراجات کا سامنا کر رہے ہیں، اس لیے سرکاری سبسڈی سے چلنے والے نئے اسٹورز ان کے لیے مزید مشکلات پیدا کریں گے
دوسری جانب ممدانی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سرکاری گروسری اسٹورز کا بنیادی مقصد نیویارک کے شہریوں کو سستی خوراک فراہم کرنا اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا بوجھ کم کرنا ہے،منصوبے کے تحت پہلا اسٹور برونکس میں 2027 میں کھولنے کا ہدف ہے جبکہ دیگر اسٹورز مرحلہ وار 2029 تک قائم کیے جانے کا منصوبہ ہے
مقدمات نے ممدانی انتظامیہ کے اس منصوبے پر ایک بڑا قانونی اور سیاسی تنازع کھڑا کردیا ہے،کاروباری تنظیمیں اسے چھوٹے کاروباروں کے لیے خطرہ قرار دے رہی ہیں، جبکہ انتظامیہ اسے شہریوں کے لیے سستی اشیائے خورونوش کی فراہمی کا ذریعہ سمجھتی ہے





