کیا کینیڈا امریکا کو تیل کی سپلائی روک سکتا ہے؟ تجارتی جنگ میں توانائی کو ہتھیار بنانے کی بحث دوبارہ گرم

کیا کینیڈا امریکا کو تیل کی سپلائی روک سکتا ہے؟

تجارتی جنگ میں توانائی کو ہتھیار بنانے کی بحث دوبارہ گرم

اوٹاوا: امریکا اور کینیڈا کے درمیان بڑھتی ہوئی تجارتی جنگ نے ایک اہم سوال دوبارہ کھڑا کردیا ہے: کیا کینیڈا اپنے تیل اور دیگر توانائی کے وسائل کو امریکا پر دباؤ ڈالنے کے لیے استعمال کرسکتا ہے؟
ایک تازہ رپورٹ کے مطابق، موجودہ تجارتیکشیدگی میں کینیڈا کے توانائی کے وسائل کو امریکی پالیسی کے خلاف leverage کے طور پر استعمال کرنے کی بحث زور پکڑ رہی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا کو توانائی کی برآمدات روک دینا اتنا آسان نہیں جتنا بظاہر نظر آتا ہے
کینیڈا امریکا کے لیے خام تیل کا ایک انتہائی اہم سپلائر ہے دونوں ممالک کے درمیان توانائی کا بنیادی ڈھانچہ کئی دہائیوں میں اس طرح مربوط ہوچکا ہے کہ اچانک تیل کی سپلائی روکنے کے اثرات صرف امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ کینیڈین پیداوار، صوبائی معیشتوں اور توانائی کی کمپنیوں پر بھی اثر پڑ سکتا ہے
اسی لیے ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ توانائی کو تجارتی ہتھیار بنانے کا فیصلہ ایک دو دھاری تلوار ثابت ہوسکتا ہے
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کینیڈا نے امریکی توانائی پالیسی کے خلاف سخت قدم اٹھانے پر غور کیا ہو
1973 میں عالمی تیل کے بحران کے دوران عرب ممالک کی جانب سے امریکا کو تیل کی سپلائی روکنے کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ شدید متاثر ہوئی اسی ماحول میں کینیڈا نے بھی امریکا کو برآمد کیے جانے والے تیل پر ایکسپورٹ ٹیکس عائد کیا
بعد میں اوٹاوا نے National Energy Program متعارف کرایا، جس کا مقصد کینیڈا کی توانائی کی ضروریات کو محفوظ بنانا اور تیل کی صنعت کا امریکی سرمایہ کاری پر انحصار کم کرنا تھا
موجودہ صورتحال میں کینیڈا کے پاس کئی ممکنہ راستے موجود ہیں، جن میں امریکی مصنوعات پر مزید ٹیرف، توانائی کی پالیسی میں تبدیلی اور دیگر اہم برآمدات کوہتھیار کے طور پر استعمال کرنا شامل ہوسکتا ہے
لیکن تیل کی سپلائی مکمل طور پر بند کرنا انتہائی پیچیدہ فیصلہ ہوگا
وجہ یہ ہے کہ کینیڈا اور امریکا کی توانائی کی صنعتیں ایک دوسرے سے گہری طرح جڑی ہوئی ہیں۔ امریکا کینیڈین خام تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، جبکہ کینیڈین صنعت بھی امریکی مارکیٹ اور بنیادی ڈھانچے پر انحصار کرتی ہے
تجارتی جنگ میں کینیڈا کے پاس تیل کے علاوہ بھی اہم وسائل ہیں، جن میں بجلی، قدرتی وسائل، معدنیات اور دیگر صنعتی مصنوعات شامل ہیں
اونٹاریو کے وزیراعلیٰ ڈگ فورڈ پہلے ہی امریکا کو بجلی کی برآمدات سمیت مختلف اقدامات کو ممکنہ جوابی کارروائی کے طور پر زیرِ بحث لا چکے ہیں
تاہم وفاقی حکومت کے لیے اصل چیلنج یہ ہوگا کہ ایسا قدم کیسے اٹھایا جائے جس سے امریکی حکومت پر دباؤ بھی بڑھے لیکن کینیڈین صارفین اور صنعت کو ناقابلِ برداشت نقصان نہ پہنچے
حالیہ دنوں میں امریکا نے تقریباً 20 ارب امریکی ڈالر مالیت کی کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے ہیں، جس کے بعد اوٹاوا نے بھی جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے
یوں دونوں ملکوں کے درمیان تنازع اب صرف چند مصنوعات کے ٹیرف تک محدود نہیں رہا بلکہ توانائی، صنعت، قومی سلامتی اور اقتصادی خودمختاری تک پھیل چکا ہے
کیا کینیڈا امریکا کو یہ پیغام دینے کے لیے اپنی توانائی کی طاقت استعمال کرے گا کہ تجارتی جنگ کی بھی ایک حد ہوتی ہے؟
یا اوٹاوا ایسا راستہ اختیار کرے گا جس میں توانائی کی سپلائی جاری رکھتے ہوئے دوسرے شعبوں میں زیادہ ہدفی جوابی اقدامات کیے جائیں؟
فی الحال یہی فیصلہ کینیڈا اور امریکا کے درمیان اگلے مرحلے کی تجارتی جنگ کا رخ طے کرسکتا ہے

قومی خبریں سے مزید