ایپل نے تیز رفتار میک منی اور میک اسٹوڈیو متعارف کرا دیے، مصنوعی ذہانت پر خصوصی توجہ
کیلیفورنیا: ایپل نے مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی مانگ سے فائدہ اٹھانے کے لیے میک منی اور میک اسٹوڈیو کے نئے اور زیادہ طاقتور ماڈل متعارف کرا دیے ہیں، جن میں تیز رفتار پروسیسرز اور مصنوعی ذہانت کے کاموں کے لیے بہتر صلاحیتیں شامل کی گئی ہیں
کمپنی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے میک منی میں ایپل کی جدید ایم سیریز چپ استعمال کی گئی ہے، جس کے باعث کمپیوٹنگ، گرافکس اور مصنوعی ذہانت سے متعلق کام پہلے کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے انجام دینے کی صلاحیت پیدا ہوئی ہے۔ نئے ماڈل کا مقصد عام صارفین کے ساتھ ساتھ ایسے پیشہ ور افراد کو بھی متوجہ کرنا ہے جو زیادہ طاقتور کمپیوٹنگ کی ضرورت رکھتے ہیں
نئے میک اسٹوڈیو کو بھی زیادہ طاقتور بنایا گیا ہے اور اس میں ایسے پروسیسرز شامل کیے گئے ہیں جو مصنوعی ذہانت کے ماڈلز، ویڈیو تدوین، گرافکس اور دیگر بھاری کاموں کے لیے زیادہ کارکردگی فراہم کرتے ہیں ایپل کا کہنا ہے کہ اس کے نئے کمپیوٹرز میں مصنوعی ذہانت کے کام براہ راست کمپیوٹر پر انجام دینے کی صلاحیت کو بھی بہتر بنایا گیا ہے
مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی کے باعث ٹیکنالوجی کمپنیوں کے درمیان زیادہ طاقتور چپس اور کمپیوٹرز تیار کرنے کی دوڑ تیز ہو گئی ہے۔ ایپل بھی اپنی مصنوعات میں مصنوعی ذہانت کو مرکزی حیثیت دینے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ صارفین کو زیادہ تر کام بیرونی نظاموں پر انحصار کیے بغیر اپنے آلات پر انجام دینے کی سہولت مل سکے
کمپنی کے مطابق نئے میک منی اور میک اسٹوڈیو میں مصنوعی ذہانت کے لیے خصوصی ہارڈویئر موجود ہے، جس سے تصاویر، ویڈیو، تحریر اور دیگر مواد تیار کرنے والے جدید پروگرام زیادہ تیزی سے چلائے جا سکتے ہیں
میک اسٹوڈیو خاص طور پر تخلیقی شعبوں سے وابستہ صارفین، سافٹ ویئر تیار کرنے والوں، ویڈیو ایڈیٹرز اور ایسے ماہرین کے لیے بنایا گیا ہے جنہیں مسلسل زیادہ کمپیوٹنگ طاقت درکار ہوتی ہے، جبکہ میک منی نسبتاً چھوٹے حجم کے باوجود طاقتور کارکردگی فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے
ایپل کی جانب سے نئے کمپیوٹرز متعارف کرانے کا فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی آ رہی ہے اور کمپنیوں کے لیے ایسے آلات تیار کرنا اہم ہو گیا ہے جو مصنوعی ذہانت کے پروگراموں کو زیادہ تیزی سے چلا سکیں
نئے میک منی اور میک اسٹوڈیو کے ذریعے ایپل نے واضح کیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی ضرورت کو صرف سافٹ ویئر تک محدود رکھنے کے بجائے کمپیوٹرز کے ہارڈویئر میں بھی نمایاں تبدیلیاں لانے پر توجہ دے رہا ہے، تاکہ صارفین کو زیادہ تیز رفتار اور طاقتور کمپیوٹنگ فراہم کی جا سکے





