بہار میں سرکاری نوکریوں اور امتحانات کے خلاف احتجاج پرتشدد، طلبہ اور پولیس میں جھڑپیں
پٹنہ: بھارت کی ریاست بہار میں سرکاری ملازمتوں اور بھرتی کے امتحانات میں شفافیت کے مطالبے کے لیے احتجاج کرنے والے طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کی پولیس کے ساتھ جھڑپیں ہو گئیں ہزاروں مظاہرین نے ریاستی دارالحکومت پٹنہ میں وزیراعلیٰ کی رہائش گاہ کی جانب مارچ کیا، جہاں پولیس نے انہیں روکنے کے لیے پانی کی توپوں کا استعمال کیا
پولیس کے مطابق چند ہزار مظاہرین نے سکیورٹی رکاوٹیں عبور کرکے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ صورتحال کشیدہ ہونے کے بعد پولیس نے پانی کی توپوں کے ذریعے مظاہرین کو منتشر کیا۔ پولیس نے بعض مظاہرین پر سکیورٹی اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے کا الزام بھی عائد کیا ہے
مظاہرین سرکاری ملازمتوں کے مواقع، بھرتی کے امتحانات میں شفافیت، ایک اہم بھرتی امتحان منسوخ کرنے اور امتحانات کے طریقہ کار میں تبدیلی کا مطالبہ کر رہے ہیں احتجاج گزشتہ ہفتے بے روزگار نوجوانوں کی جانب سے ملازمتوں کے مطالبے سے شروع ہوا تھا، تاہم بعد میں اس میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانات سے متعلق مطالبات بھی شامل ہو گئے
پٹنہ پولیس کے سربراہ کارتیکیا کے شرما نے کہا ہے کہ پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کرنے میں ملوث افراد کی شناخت کی جائے گی اور ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی احتجاج کے دوران متعدد افراد کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں
یہ احتجاج ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب گزشتہ ماہ نئی دہلی میں نوجوانوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر کیے گئے مظاہروں کے بعد بھارت کے وزیر تعلیم کو عہدے سے الگ ہونا پڑا تھا ان مظاہروں میں بھی اہم مسابقتی امتحانات کے انعقاد میں مبینہ بے ضابطگیوں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع کے خلاف آواز اٹھائی گئی تھی
بہار میں سرکاری ملازمتیں نوجوانوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہیں کیونکہ مستقل سرکاری ملازمتیں طویل مدتی روزگار اور معاشی تحفظ کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہیں۔ ریاست کی آبادی تقریباً 13 کروڑ ہے اور محدود روزگار کے مواقع کے باعث سرکاری ملازمتوں کے لیے بڑی تعداد میں نوجوان مقابلہ کرتے ہیں
بہار کے وزیراعلیٰ سمراٹ چودھری نے کہا ہے کہ حکومت ہر طالب علم کی آواز سن رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ طلبہ کے مسائل، شکایات اور تجاویز کے فوری حل کے لیے ’’طلبہ معاونت مرکز‘‘ شروع کیا جا رہا ہے، جہاں نوجوان اپنی شکایات آن لائن درج کرا سکیں گے اور ان کی درخواستوں پر ہونے والی پیش رفت بھی معلوم کر سکیں گے
دوسری جانب طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کا کہنا ہے کہ صرف شکایات درج کرنے کا نظام کافی نہیں بلکہ بھرتی کے عمل میں شفافیت، امتحانات کے منصفانہ انعقاد اور سرکاری ملازمتوں کی خالی نشستوں کے بارے میں واضح پالیسی کی ضرورت ہے
بہار میں جاری احتجاج نے ایک مرتبہ پھر نوجوانوں کے روزگار، سرکاری بھرتیوں میں شفافیت اور مسابقتی امتحانات کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں مظاہرین اپنے مطالبات کے حل تک احتجاج جاری رکھنے کا عندیہ دے رہے ہیں جبکہ حکومت نے شکایات کے ازالے کے لیے نیا نظام شروع کرنے کا اعلان کیا ہے





