ٹرمپ کی نئی دھمکی، لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے پر غور

ٹرمپ کی نئی دھمکی، لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے پر غور

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے پر غور کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات میں ایک نیا تنازع پیدا ہو گیا ہے
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ امریکہ لیک اونٹاریو کا نام تبدیل کرکے ’’لیک امریکہ‘‘ رکھنے پر سنجیدگی سے غور کر رہا ہے ان کے بقول اب اونٹاریو کے ساتھ زیادہ کاروبار کرنے کی توقع نہیں ہے۔ انہوں نے اس اعلان کے ساتھ لیک کا تبدیل شدہ نام دکھانے والا نقشہ بھی شیئر کیا
لیک اونٹاریو شمالی امریکہ کی پانچ بڑی جھیلوں میں شامل ہے اور اس کا ایک حصہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو جبکہ دوسرا حصہ امریکی ریاست نیویارک کے ساتھ واقع ہے۔ ٹورنٹو سمیت اونٹاریو کے کئی بڑے شہر اس لیک کے شمالی کنارے پر واقع ہیں
ٹرمپ کی جانب سے نام تبدیل کرنے کی تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب کینیڈا اور امریکہ کے درمیان تجارتی مذاکرات ناکام ہو چکے ہیں اور دونوں ممالک ایک دوسرے کی مصنوعات پر بھاری ٹیرف عائد کر رہے ہیں۔ امریکہ نے کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد تک نئے ٹیرف عائد کیے ہیں جبکہ کینیڈا نے بھی امریکی مصنوعات کے خلاف جوابی اقدامات کا اعلان کیا ہے
کینیڈین حکام نے ٹرمپ کی تجویز کو زیادہ اہمیت نہیں دی امریکہ کے ساتھ تجارتی معاملات کے ذمہ دار کینیڈین وزیر ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ وفاقی حکومت نے پہلے ہی فیصلہ کر رکھا ہے کہ امریکی انتظامیہ کی روزانہ کی سوشل میڈیا پوسٹس کا جواب نہیں دیا جائے گا
اونٹاریو کے پریمیئر ڈگ فورڈ نے بھی ٹرمپ کی تجویز کو محض بیان بازی قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ کینیڈا میں اس آبی گزرگاہ کا نام لیک اونٹاریو ہی رہے گا کینیڈین حکام کے مطابق امریکہ یکطرفہ طور پر اپنے سرکاری نقشوں یا دستاویزات میں کوئی نام استعمال بھی کرے تو اس سے کینیڈا میں لیک کا سرکاری نام تبدیل نہیں ہوگا
ٹرمپ کی یہ تجویز ان کے گزشتہ سال خلیج میکسیکو کا نام تبدیل کرکے ’’خلیج امریکہ‘‘ رکھنے کے اقدام سے ملتی جلتی ہے۔ تاہم لیک اونٹاریو کی صورتحال مختلف ہے کیونکہ یہ ایک مشترکہ آبی خطہ ہے جسے کینیڈا اور امریکہ دونوں استعمال کرتے ہیں
تجارتی تنازع کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور ٹیرف کے بعد اب سیاسی بیانات اور علامتی اقدامات بھی اختلافات کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔ کینیڈا کا مؤقف ہے کہ وہ اپنے معاشی مفادات اور خودمختاری کا تحفظ کرے گا جبکہ امریکی انتظامیہ تجارتی تعلقات میں مزید تبدیلیوں کی دھمکیاں دے رہی ہے

قومی خبریں سے مزید