میٹا اور امریکی ریاستوں میں نوجوانوں کو سوشل میڈیا سے نقصان کے مقدمے پر دورانِ سماعت سمجھوتے کی بات چیت
کیلیفورنیا: میٹا اور امریکی ریاستوں کے اٹارنی جنرلز کے درمیان نوجوانوں پر سوشل میڈیا کے مبینہ منفی اثرات سے متعلق مقدمے میں عدالت میں جاری سماعت کے دوران ممکنہ سمجھوتے پر بات چیت ہوئی ہے
رائٹرز کے مطابق بلومبرگ نیوز نے معاملے سے واقف افراد کے حوالے سے بتایا ہے کہ میٹا اور ریاستی اٹارنی جنرلز نے ممکنہ طور پر مقدمے کی سماعت مکمل ہونے سے پہلے تصفیے کے امکانات پر گفتگو کی ہے،مقدمے میں کمپنی پر الزام ہے کہ اس نے فیس بک اور انسٹاگرام کو جان بوجھ کر اس انداز میں ڈیزائن کیا کہ نوجوان صارفین ان کے عادی ہو جائیں
یہ مقدمہ کیلیفورنیا کی وفاقی عدالت میں جاری ہے اور اس میں 29 امریکی ریاستیں شامل ہیں،اسے سوشل میڈیا کمپنیوں کے خلاف نوجوانوں کو پہنچنے والے مبینہ نقصانات کے حوالے سے سب سے اہم مقدمات میں شمار کیا جا رہا ہے
مقدمے کی جیوری کے انتخاب کا عمل 12 اگست کو شروع ہوا تھا، جبکہ اس سے چند روز قبل ایک وفاقی اپیل عدالت نے مقدمے کی کارروائی روکنے کی درخواست مسترد کر دی تھی، جس کے بعد سماعت آگے بڑھ گئی
مقدمے میں ریاستوں کا مؤقف ہے کہ میٹا نے نوجوان صارفین کو زیادہ دیر تک اپنے پلیٹ فارمز پر رکھنے کے لیے ایسے ڈیزائن اور خصوصیات استعمال کیں جو ان کی عادت اور انحصار کو بڑھا سکتی ہیں
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ممکنہ سمجھوتے کی بات چیت ابھی کسی حتمی معاہدے میں تبدیل نہیں ہوئی اور مقدمے کی کارروائی جاری ہے
میٹا کے علاوہ کیلیفورنیا، کولوراڈو، کینٹکی اور نیو جرسی کے اٹارنی جنرلز نے بھی معمول کے دفتری اوقات کے علاوہ رائٹرز کی جانب سے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا





