فرانزک رپورٹ نے نشہ آور اشیا کے استعمال کی تصدیق کردی، مگر تھانے میں 2 موجود پولیس کلچر کی موجودگی میں خواتین کی ہلاکت عوام کو اب بھی نہیں ہضم ہورہی

فرانزک رپورٹ نے نشہ آور اشیا کے استعمال کی تصدیق کردی، مگر تھانے میں 2 موجود پولیس کلچر کی موجودگی میں خواتین کی ہلاکت عوام کو اب بھی نہیں ہضم ہورہی

لاہور: ٹاؤن شپ تھانے میں زیر حراست 2 نوجوان خواتین کی ہلاکت کے معاملے میں پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس عبد الکریم نے دعویٰ کیا ہے کہ فرانزک رپورٹ کے مطابق دونوں خواتین نشہ آور یا ممنوعہ اشیا استعمال کرتی تھیں اور ان کی موت دل اور پھیپھڑوں کے اچانک کام چھوڑ دینے کے باعث ہوئی،تاہم اس وضاحت کے باوجود دونوں خواتین کی ایک ہی وقت میں پولیس حراست میں ہلاکت نے پولیس کے تفتیشی نظام، تھانوں میں زیر حراست افراد کے تحفظ اور سرکاری بیانات کی شفافیت سے متعلق سنگین سوالات پیدا کردیے ہیں
آئی جی پنجاب نے منگل کو لاہور میں سینئر پولیس افسران کے ہمراہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں خواتین کی فرانزک رپورٹ سینئر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ نے تیار کی،ان کے مطابق رپورٹ میں 9 اقسام کی نشہ آور اشیا کے استعمال کا انکشاف ہوا، جن کے نتیجے میں دونوں خواتین کی دوران حراست موت واقع ہوئی
پولیس سربراہ کے مطابق دونوں خواتین کی موت کی طبی وجہ کارڈیو پلمونری اریسٹ تھی، ایسی ہنگامی کیفیت جس میں دل اچانک خون پمپ کرنا اور سانس لینا بند کردیتا ہے،تاہم ایک ہی وقت میں 2 زیر حراست خواتین کی موت کے بارے میں سوال پر آئی جی نے بھی تسلیم کیا کہ دونوں اموات کا بیک وقت ہونا غیر معمولی تھا
یہاں اصل سوال صرف فرانزک رپورٹ کا نہیں بلکہ اس پورے نظام کا ہے جس میں ایک شہری پولیس کی تحویل میں جانے کے بعد ریاست کی مکمل ذمہ داری بن جاتا ہے،فرانزک رپورٹ کسی طبی وجہ کی نشاندہی کرسکتی ہے، لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ خواتین پولیس حراست میں کن حالات میں تھیں، ان سے کس انداز میں تفتیش کی گئی، انہیں کون سی طبی سہولت فراہم کی گئی اور ان کی حالت بگڑنے سے قبل پولیس نے کیا اقدامات کیے
پاکستان میں پولیس حراست میں اموات کا معاملہ نیا نہیں،پولیس کے رویے، زیر حراست افراد کے ساتھ سلوک اور تفتیش کے طریقہ کار پر برسوں سے سوالات اٹھتے رہے ہیں،ایسے میں محض یہ کہنا کہ مرنے والے افراد نشے کے عادی تھے، عوامی تشویش کو ختم نہیں کرتا،خصوصاً اس وقت جب 2 افراد ایک ہی تھانے میں ایک ہی عرصے کے دوران جان سے چلے جائیں
ایک تجربہ کار کرائم رپورٹر کی حیثیت سے پاکستان کے پولیس نظام کو قریب سے دیکھنے والے صحافیوں اور شہریوں کے مشاہدات میں یہ بات بارہا سامنے آتی رہی ہے کہ تھانوں کا ماحول انتہائی پیچیدہ ہے اور پولیس کے غیر رسمی نیٹ ورک، مخبروں اور جرائم پیشہ عناصر کے ساتھ تعلقات کے بارے میں بھی مسلسل سوالات اٹھتے رہے ہیں،تاہم ان میں سے ہر الزام کو کسی مخصوص واقعے میں ثابت شدہ حقیقت قرار دینے کے لیے آزادانہ تحقیقات اور ٹھوس شواہد ضروری ہیں
اسی لیے اس واقعے میں بنیادی ضرورت ایک ایسی غیر جانب دار تحقیقات کی ہے جو صرف خواتین کے طبی معائنے تک محدود نہ ہو بلکہ ان کی گرفتاری سے لے کر موت تک کے پورے دورانیے کا جائزہ لے،پولیس ریکارڈ، سی سی ٹی وی، تھانے میں موجود اہلکاروں کے بیانات، گرفتاری کا وقت، خواتین کی جسمانی حالت، تفتیش کے دوران موجود افراد اور انہیں فراہم کی جانے والی طبی امداد سمیت تمام پہلوؤں کی شفاف جانچ ہونی چاہیے
یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر دونوں خواتین واقعی 9 مختلف نشہ آور اشیا استعمال کرتی تھیں تو پولیس نے انہیں حراست میں لینے کے بعد ان کی طبی حالت کا باقاعدہ جائزہ کیوں نہ لیا، اور اگر ان کی حالت اتنی سنگین تھی کہ نشہ آور اشیا ان کی موت کا سبب بن سکتی تھیں تو انہیں بروقت طبی نگرانی میں کیوں نہیں رکھا گیا؟
پولیس حراست میں ہونے والی ہر موت میں ریاستی ادارے پر ثبوت کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے، کیونکہ مرنے والا شخص اپنی حفاظت کے لیے خود کوئی قدم اٹھانے کی پوزیشن میں نہیں ہوتا،اسی لیے ایسی اموات میں عوامی اعتماد بحال کرنے کا واحد راستہ مکمل شفافیت ہے، نہ کہ صرف ایک سرکاری وضاحت
پاکستان میں پولیس کے بارے میں عوامی بداعتمادی کی ایک طویل تاریخ موجود ہے،گزشتہ برسوں کے متعدد واقعات میں پولیس کے ابتدائی دعووں اور بعد میں سامنے آنے والی معلومات کے درمیان تضاد نے بھی ان خدشات کو تقویت دی ہے۔ حالیہ برسوں میں کراچی سمیت مختلف شہروں میں پولیس کارروائیوں اور زیر حراست افراد کی ہلاکتوں کے معاملات میں پوسٹ مارٹم اور تفتیشی نتائج پر سوالات اٹھتے رہے ہیں،اسی پس منظر میں ٹاؤن شپ کی 2 خواتین کی موت بھی صرف ایک فرانزک رپورٹ کے ذریعے عوامی سوالات سے ختم نہیں ہوسکتی
دوسری جانب راولپنڈی میں حنا جاوید کے قتل کے مقدمے میں پولیس نے پیش رفت کا دعویٰ کیا ہے،آئی جی پنجاب کے مطابق مقدمے کی ایف آئی آر میں 3 ملزمان کو نامزد کیا گیا تھا جن میں سے 2 کو گرفتار کرلیا گیا ہے
حنا جاوید گزشتہ جمعرات کی شام راولپنڈی کی ایک رہائشی اسکیم میں واقع اپنے اپارٹمنٹ کے واش روم میں مردہ پائی گئی تھیں،پولیس کے مطابق ان کے جسم پر تشدد کے نشانات تھے، گلے میں تار موجود تھی اور جسم کو شاور کے ڈنڈے سے باندھا گیا تھا
آئی جی نے کہا کہ راولپنڈی پولیس نے تفتیش کے دوران ثابت کیا کہ یہ خودکشی نہیں بلکہ قتل کا واقعہ تھا اور پولیس نے کیس کو پیشہ ورانہ انداز میں آگے بڑھایا
تاہم ٹاؤن شپ کی خواتین کی ہلاکت کا معاملہ اس سے کہیں بڑا سوال اٹھاتا ہے،جب شہری پولیس کی تحویل میں ہو تو اس کی جان اور صحت کی مکمل ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے؟ اگر فرانزک رپورٹ موت کی طبی وجہ بیان کرتی ہے تو اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی طے ہونا چاہیے کہ وہ حالت کیسے پیدا ہوئی اور پولیس نے اس دوران کیا کیا؟
عوام کو صرف یہ جاننے کا حق نہیں کہ زیر حراست افراد کی موت کیسے ہوئی، بلکہ یہ جاننے کا بھی حق ہے کہ وہ پولیس کی تحویل میں اس مقام تک کیسے پہنچے جہاں ان کی جان چلی گئی،یہی شفاف تحقیقات پولیس کے سرکاری دعوے اور عوام کے اعتماد کے درمیان موجود بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرسکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید