پاکستان کے معدنی ذخائر 7 ٹریلین ڈالر سے زائد ہیں، منصوبہ بندی وزیر احسن اقبال کا دعویٰ
اسلام آباد: وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کے معدنی وسائل کی مجموعی مالیت کا تخمینہ 7 ٹریلین ڈالر سے زیادہ لگایا گیا ہے
احسن اقبال نے یہ بات نیویارک میں ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی جنوبی ایشیا سے متعلق اقدامات کی ڈائریکٹر فروا امین سے گفتگو کے دوران کہی،منصوبہ بندی وزارت کی جانب سے منگل کو جاری بیان کے مطابق وزیر نے کہا کہ بڑے پیمانے پر کان کنی کے منصوبوں کے لیے ابتدائی مرحلے میں بھاری سرمایہ کاری درکار ہوتی ہے جبکہ ان منصوبوں کو ثمر آور ہونے میں بھی طویل عرصہ لگتا ہے
انہوں نے کہا کہ پاکستان کا غیر مستحکم سیاسی ماحول بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور قدرتی وسائل کی ترقی کرنے والی کمپنیوں کے لیے ایک بڑی رکاوٹ رہا ہے،تاہم، معیشت میں استحکام آنے کے بعد حکومت غیر ملکی شراکت داروں، خصوصاً امریکی کمپنیوں کو پاکستان کے معدنی شعبے میں سرمایہ کاری کی طرف راغب کرنے کے لیے سرگرم ہے
احسن اقبال کے مطابق حکومت اس مقصد کے لیے مختلف طریقہ کار استعمال کر رہی ہے، جن میں امریکی ادارے اسٹریٹیجک میٹلز کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت، امریکی ایکسپورٹ امپورٹ بینک کی ممکنہ مالی معاونت اور اہم معدنیات سے متعلق وزارتی سطح کے عالمی عمل میں پاکستان کی شرکت شامل ہے
وزیر منصوبہ بندی نے بھارت کے ساتھ سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر بھی بات کی،انہوں نے کہا کہ بھارت نے یکطرفہ طور پر سندھ طاس معاہدے کو التوا میں رکھا، جو ان کے بقول جدید تاریخ میں پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پہلی مثال ہے اور پاکستان کے لیے ایک نیا سنگین سلامتی کا چیلنج پیدا کر رہی ہے
احسن اقبال نے کہا کہ تقریباً 70 سال پرانا یہ معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان متعدد جنگوں کے باوجود ناقابلِ دست اندازی سمجھا جاتا رہا، لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے
انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت پاکستان کی ضرورت کے وقت پانی روک سکتا ہے اور ایسے وقت میں پانی چھوڑ سکتا ہے جب اس کی ضرورت نہ ہو،ان کے مطابق اس صورتحال میں دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ آبی وسائل دباؤ ڈالنے کے ایک ممکنہ ذریعے میں تبدیل ہو سکتے ہیں





