نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پابندی کی قانون سازی

نیوزی لینڈ میں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پابندی کی قانون سازی

نیوزی لینڈ کی حکومت نے 16 سال سے کم عمر بچوں کو سماجی رابطوں کی ویب سائٹس استعمال کرنے سے روکنے کے لیے قانون سازی پارلیمنٹ میں پیش کر دی ہے۔ اس اقدام کے تحت انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور دیگر بڑی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر کم عمر افراد کے اکاؤنٹس روکنے کی ذمہ داری متعلقہ کمپنیوں پر عائد کی جائے گی
وزیراعظم کرسٹوفر لکسون کا کہنا ہے کہ بچوں کو نقصان دہ مواد، عادت بنانے والی ٹیکنالوجی اور آن لائن دباؤ سے تحفظ دینا ضروری ہے ان کے مطابق سماجی رابطوں کی ویب سائٹس بچوں کی خاندانی زندگی، ذہنی صحت، نیند اور تعلیم پر منفی اثرات ڈال رہی ہیں
مجوزہ قانون کے تحت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کو صارفین کی عمر کی تصدیق کے لیے مناسب اقدامات کرنا ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے موجودہ اکاؤنٹ معلومات، چہرے کی شناخت کی ٹیکنالوجی اور برقی شناختی دستاویزات جیسے طریقے استعمال کیے جا سکتے ہیں
قانون کی خلاف ورزی کرنے والی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں پر ان کی عالمی آمدنی کے 10 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔ تاہم 16 سال سے کم عمر بچوں یا ان کے والدین کے لیے جرمانے کی تجویز نہیں دی گئی
یہ قانون سازی سیاسی مشکلات سے بھی دوچار ہے وزیراعظم کی اتحادی جماعت نیوزی لینڈ فرسٹ نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے جماعت کے رہنما ونسٹن پیٹرز کا کہنا ہے کہ بچوں کے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے استعمال کی ذمہ داری والدین پر ہونی چاہیے اور آسٹریلیا کی اسی نوعیت کی پابندی کو انہوں نے ناکام قرار دیا ہے
تاہم 25 اگست 2026 کو حزب اختلاف کی بڑی جماعت لیبر پارٹی نے مجوزہ پابندی کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے، جس سے قانون سازی کی منظوری کے امکانات بہتر ہوئے ہیں
نیوزی لینڈ کا اقدام آسٹریلیا کے بعد سامنے آیا ہے، جہاں 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر پابندی دسمبر 2025 میں نافذ کی گئی تھی اب دیگر ممالک بھی بچوں کو آن لائن نقصان دہ مواد اور سماجی دباؤ سے بچانے کے لیے اسی طرح کے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

قومی خبریں سے مزید