بیجنگ میں انسان نما روبوٹس کے مقابلے، رفتار اور طاقت میں حیران کن کارکردگی

بیجنگ میں انسان نما روبوٹس کے مقابلے، رفتار اور طاقت میں حیران کن کارکردگی

بیجنگ میں جاری عالمی انسان نما روبوٹس کے مقابلوں میں 16 ممالک سے 2 ہزار سے زائد روبوٹس مختلف کھیلوں اور عملی سرگرمیوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔ پانچ روزہ مقابلوں میں دوڑ، فٹ بال، ٹیبل ٹینس، کشتی، وزن اٹھانے اور دیگر کھیلوں کے ساتھ ایسے عملی کام بھی شامل ہیں جن کا مقصد روبوٹس کو حقیقی زندگی کے حالات میں آزمانا ہے
مقابلوں میں روبوٹس نے رفتار کے میدان میں بھی غیر معمولی کارکردگی دکھائی ایک انسان نما روبوٹ نے 100 میٹر کی دوڑ صرف 9.39 سیکنڈ میں مکمل کی، جو انسانی دنیا کے ریکارڈ سے بھی تیز ہے ایک اور روبوٹ نے 100 میٹر کا فاصلہ 9.47 سیکنڈ میں طے کیا
تاہم روبوٹس کی کارکردگی ہر شعبے میں یکساں طور پر کامیاب نہیں رہی بعض روبوٹس تیز دوڑنے کے بعد رفتار کم نہ کر سکے اور حفاظتی گدوں سے جا ٹکرائے، جبکہ کچھ مقابلوں کے دوران گر بھی گئے۔ ان واقعات نے واضح کیا کہ روبوٹکس میں تیز رفتاری کے ساتھ توازن اور حرکت پر قابو پانا اب بھی ایک بڑا چیلنج ہے
ان مقابلوں میں صرف کھیلوں کی صلاحیتوں کو نہیں پرکھا جا رہا بلکہ روبوٹس کو کارخانوں، ریستورانوں، دفاتر اور ہنگامی حالات سے متعلق عملی کام بھی دیے جا رہے ہیں۔ بعض مقابلوں میں روبوٹس کو تاریں جوڑنے، اشیا کی شناخت، درست جگہ پر چیز رکھنے، برقی گاڑیوں کی چارجنگ اور دیگر پیچیدہ کام انجام دینے ہوتے ہیں
ماہرین کے مطابق روبوٹس کا تیز دوڑنا یا وزن اٹھانا متاثر کن ضرور ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت سمجھی جائے گی جب یہ مشینیں پیچیدہ عملی کام خود مختاری سے انجام دینے اور غلطی کی صورت میں اپنی حکمت عملی درست کرنے کے قابل ہوں گی
بیجنگ کے ان مقابلوں کو انسان نما روبوٹس کی موجودہ صلاحیتوں اور کمزوریوں کو جانچنے کے ایک بڑے عملی میدان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے چین ان مشینوں کو صنعتی پیداوار، خطرناک کاموں اور روزمرہ خدمات میں استعمال کے لیے تیزی سے تیار کر رہا ہے، جس سے روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں عالمی مقابلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے

قومی خبریں سے مزید