پاکستان کا خوف: بھارت کو اندرونی جاسوسی کے بڑھتے خطرے کا سامنا، انٹیلی جنس نظام میں بڑی تبدیلی کی ضرورت پر زور

پاکستان کا خوف: بھارت کو اندرونی جاسوسی کے بڑھتے خطرے کا سامنا، انٹیلی جنس نظام میں بڑی تبدیلی کی ضرورت پر زور

بھارت میں قومی سلامتی کے بڑھتے ہوئے خطرات کے پیش نظر انٹیلی جنس بیورو کی انسدادِ جاسوسی اور پیشگی معلومات حاصل کرنے کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے،بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز کے ایگزیکٹو ایڈیٹر اور قومی سلامتی کے امور کے ماہر شیشیر گپتا نے اپنے تازہ تجزیے میں خبردار کیا ہے کہ بھارت کو بیرونی خطرات کے ساتھ ساتھ اپنے حساس سول اور فوجی اداروں کے اندر ممکنہ جاسوسی، معلومات کے اخراج اور تخریبی سرگرمیوں سے بھی نمٹنا ہوگا
شیشیر گپتا کے مطابق نومبر 2025 میں لال قلعہ خودکش دھماکے کی تحقیقات، احمد آباد میں جیشِ محمد کے مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی اور پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی سے منسلک مبینہ نیٹ ورک کی حالیہ گرفتاریوں نے بھارت کے لیے آن لائن انتہا پسندی اور بیرونی عناصر کی جانب سے بھارتی شہریوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے خطرے کو نمایاں کیا ہے
تجزیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سکیورٹی اداروں کے سامنے ایسے واقعات بھی آئے ہیں جن میں حساس اداروں سے وابستہ افراد کو مبینہ طور پر مالی لالچ، نظریاتی مواد، مذہبی بنیاد پر اثرانداز ہونے یا جنسی نوعیت کے وعدوں کے ذریعے معلومات فراہم کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی
مصنف نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف تخریب کاری، سبوتاژ اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے اور بھارتی شہریوں، خصوصاً مسلمانوں، کو مذہبی اور مظلومیت کے بیانیوں کے ذریعے بنیاد پرستی کی طرف مائل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے،تاہم یہ مؤقف مصنف کا تجزیاتی دعویٰ ہے اور اسے کسی عدالتی فیصلے کے طور پر پیش نہیں کیا گیا
شیشیر گپتا کے مطابق بھارت کی انٹیلی جنس سرگرمیوں کا مرکزی محور کئی دہائیوں سے پاکستان رہا ہے، جبکہ چین اور بعض مغربی ممالک سے پیدا ہونے والے ممکنہ انٹیلی جنس خطرات پر نسبتاً کم توجہ دی گئی،ان کے بقول بھارتی اداروں کو واقعات کے بعد تجزیہ کرنے کے بجائے پیشگی معلومات حاصل کرنے اور خطرات کو وقوع پذیر ہونے سے پہلے روکنے کی صلاحیت بڑھانا ہوگی
تجزیے میں وزیر داخلہ امیت شاہ کے دور میں انٹیلی جنس بیورو کے بجٹ اور افرادی قوت میں اضافے کا بھی ذکر کیا گیا ہے،مصنف کے مطابق اس اضافی وسائل کا مقصد حساس سول اور فوجی اداروں کو اندرونی جاسوسی اور خفیہ معلومات کے اخراج سے محفوظ بنانا ہے
شیشیر گپتا نے بھارتی انٹیلی جنس کے لیے انسانی ذرائع پر مبنی معلومات کو مزید اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف تکنیکی ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر انحصار کافی نہیں،ان کے مطابق بھارت کو اپنے حساس اداروں میں موجود ممکنہ اندرونی خطرات کی شناخت، پیشگی کارروائی اور قانونی احتساب کے نظام کو بھی مؤثر بنانا ہوگا
تجزیے میں یہ مؤقف بھی اختیار کیا گیا ہے کہ بھارت کے عالمی اثر و رسوخ میں اضافے کے ساتھ اس کے خلاف انٹیلی جنس مقابلہ مزید شدید ہوگا اور نئی دہلی کو دوست ممالک اور مخالفین دونوں کی جانب سے پیدا ہونے والے ممکنہ دباؤ اور خفیہ سرگرمیوں سے نمٹنے کے لیے اپنی انسدادِ جاسوسی صلاحیتوں کو مسلسل بہتر بنانا ہوگا

قومی خبریں سے مزید