دنیا کے سمندروں کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

دنیا کے سمندروں کا درجہ حرارت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

دنیا کے سمندروں کا اوسط درجہ حرارت ریکارڈ کی گئی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے، جس نے ماہرینِ موسمیات کو عالمی حدت میں مسلسل اضافے کے حوالے سے ایک بار پھر خبردار کر دیا ہے
یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق 22 اگست کو دنیا کے سمندروں کی اوسط سطحی درجہ حرارت 21.10 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا، جو 1979 میں باقاعدہ ریکارڈ شروع ہونے کے بعد سب سے زیادہ ہے
اس سے قبل سمندروں کا بلند ترین اوسط درجہ حرارت مارچ 2024 میں 21.09 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا،تازہ ترین ریکارڈ اگرچہ گزشتہ ریکارڈ سے معمولی سا زیادہ ہے، لیکن سائنس دان اسے عالمی موسمیاتی تبدیلی کے وسیع تر رجحان کی ایک اہم علامت قرار دے رہے ہیں
کلائمیٹ سینٹرل سے وابستہ ماہرِ موسمیات زیکری لیبے کے مطابق سمندروں کے درجہ حرارت میں یہ اضافہ حیران کن نہیں، کیونکہ کئی دہائیوں سے ہونے والی سائنسی تحقیق یہ ظاہر کرتی رہی ہے کہ زمین کے گرم ہونے کے ساتھ سمندروں کا درجہ حرارت بھی مسلسل بڑھ رہا ہے
ماہرین کے مطابق اس وقت ایک غیر معمولی طور پر طاقتور ال نینو موسمیاتی مرحلہ بھی عالمی درجہ حرارت میں اضافے میں کردار ادا کر رہا ہے،ال نینو کے دوران بحرالکاہل کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی طور پر بڑھ جاتا ہے، جس کے اثرات دنیا کے مختلف خطوں کے موسم پر بھی مرتب ہوتے ہیں
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اگر فوسل ایندھن کے استعمال میں خاطر خواہ کمی نہ کی گئی تو سمندروں اور زمین دونوں کا درجہ حرارت مزید بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں شدید گرمی، سمندری حیات پر دباؤ اور دیگر ماحولیاتی خطرات میں اضافہ ہو سکتا ہے
سمندروں کا نیا درجہ حرارت کا ریکارڈ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی مسلسل بڑھتی ہوئی گرمی، شدید موسمی واقعات اور ماحولیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا سامنا کر رہی ہے

قومی خبریں سے مزید