امریکی ثقافت کی بااثر ترین فہرست پر تنازع، کسی کو مذہب کم نظر آیا تو کسی کو ہم جنس نمائندگی
واشنگٹن: امریکی ثقافت کی تاریخ میں سب سے زیادہ اثر رکھنے والے فنون، ادبی تخلیقات، فلموں، موسیقی، ٹیکنالوجی اور دیگر ثقافتی مظاہر کی ایک نئی فہرست نے تعریف سے زیادہ اعتراضات کو جنم دے دیا ہے ،فہرست مرتب کرنے والوں کا کہنا ہے کہ امریکا کی 250 سالہ تاریخ کو صرف 25 نمایاں ثقافتی تخلیقات کے ذریعے مکمل طور پر سمیٹنا ممکن ہی نہیں، تاہم قارئین نے ایسی متعدد اہم شخصیات، تحریکوں اور تخلیقات کی عدم موجودگی پر سوالات اٹھائے ہیں جنہیں وہ امریکی ثقافت کا بنیادی حصہ سمجھتے ہیں
فہرست میں امریکی تاریخ کی مختلف دہائیوں کے لیے ایک ایک نمایاں ثقافتی اثر منتخب کیا گیا تھا،مقصد یہ تھا کہ ایسی تخلیقات اور مظاہر سامنے لائے جائیں جنہوں نے امریکی معاشرے، طرز زندگی اور قومی ثقافت پر گہرا اثر ڈالا
لیکن فہرست سامنے آتے ہی قارئین کی جانب سے اعتراضات کا سلسلہ شروع ہو گیا،بعض نے مذہب کے امریکی معاشرے اور ثقافت پر تاریخی اثرات کو نظرانداز کرنے کی شکایت کی، جبکہ بعض قارئین نے ہم جنس اور ایل جی بی ٹی برادری کی نمائندگی کو ناکافی قرار دیا
مذہبی حلقوں کی جانب سے نشاندہی کی گئی کہ فہرست میں ایسے اہم تاریخی مذہبی متون اور دستاویزات شامل نہیں جو امریکی مذہبی اور سماجی تاریخ پر گہرے اثرات کی عکاسی کرتے ہیں،ان میں مذہبی آزادی، مسیحی تحریکوں اور امریکی معاشرے میں مذہب کے کردار سے متعلق اہم تحریریں بھی شامل ہیں
دوسری جانب بعض قارئین نے ایل جی بی ٹی ثقافت کی نمائندگی نہ ہونے پر اعتراض کیا اور کیتھ ہیرنگ، والٹ وٹ مین کی تخلیقات اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کی تحریک جیسے موضوعات کو فہرست میں شامل نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا
قارئین کی جانب سے فہرست میں امریکی ثقافت کے کئی دوسرے اہم ستونوں کی عدم موجودگی کی بھی نشاندہی کی گئی،بعض نے ویتنام جنگ کی یادگار، فرینک لائیڈ رائٹ کے فن تعمیر، مارٹن لوتھر کنگ جونیئر کی تقاریر، باب ڈیلن، ایلوس پریسلے، موٹاؤن، ’’دی وزرڈ آف اوز‘‘، ’’اسٹار وارز‘‘، ’’سیسمی اسٹریٹ‘‘، باربی، سپرمین اور آئی فون جیسے نام پیش کیے
فہرست مرتب کرنے والوں نے ان اعتراضات کو مکمل طور پر مسترد کرنے کے بجائے تسلیم کیا کہ ایسی فہرستیں اپنی نوعیت میں کبھی مکمل نہیں ہو سکتیں،امریکا کی ثقافت اتنی وسیع اور متنوع ہے کہ صرف چند نمایاں مثالوں کے ذریعے اس کی پوری تصویر پیش کرنا ممکن نہیں
اس تنازع نے ایک دلچسپ سوال بھی اٹھا دیا ہے کہ آخر امریکی ثقافت کی نمائندگی کا معیار کیا ہونا چاہیے،کیا کسی تخلیق کی اہمیت اس کے تجارتی یا عوامی اثر سے طے کی جائے، اس کی تاریخی اہمیت سے، یا اس بات سے کہ اس نے امریکی معاشرے میں کسی بڑی سماجی یا سیاسی تبدیلی کو جنم دیا؟
فہرست پر ہونے والی بحث دراصل امریکا کی اپنی بدلتی ہوئی شناخت کی عکاسی کرتی ہے، جہاں مذہب، نسل، جنسی شناخت، سیاست، تفریح، ٹیکنالوجی اور سماجی تحریکیں سب اس بات پر اثرانداز ہوتی ہیں کہ امریکی ثقافت کو کس نظر سے دیکھا جائے
فہرست کے مرتبین کے لیے سب سے بڑا مسئلہ شاید یہی ہے کہ امریکا کی 250 سالہ ثقافتی تاریخ میں اتنی زیادہ بااثر شخصیات، تحریکیں اور تخلیقات موجود ہیں کہ کسی ایک کو شامل کرنا لازماً کسی دوسرے کو نظرانداز کرنے کے مترادف بن جاتا ہے





