امریکا میں فلوک کیمروں کا جال پھیل گیا، نگرانی کے خلاف عوامی ردِعمل بھی تیزی سے بڑھنے لگا
واشنگٹن: امریکا میں مصنوعی ذہانت سے چلنے والے نگرانی کے کیمروں کا نیٹ ورک تیزی سے پھیل رہا ہے، لیکن جس رفتار سے یہ کیمرے سڑکوں اور شاہراہوں پر نصب کیے جا رہے ہیں، تقریباً اسی رفتار سے ان کے خلاف عوامی اور سیاسی ردِعمل بھی شدت اختیار کر رہا ہے
فلوک سیفٹی نامی کمپنی کے تیار کردہ یہ کیمرے خودکار طور پر گاڑیوں کی نمبر پلیٹیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ گاڑی کے ماڈل، رنگ اور دیگر خصوصیات کو بھی ریکارڈ کر سکتے ہیں،قانون نافذ کرنے والے ادارے انہیں چوری شدہ گاڑیوں، لاپتا افراد اور سنگین جرائم کے ملزمان کی تلاش کے لیے استعمال کرتے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکنالوجی جرائم کی تفتیش میں انتہائی مؤثر ثابت ہوئی ہے
کمپنی کے مطابق اس کا نیٹ ورک امریکا میں 120,000 سے زیادہ کیمروں تک پہنچ چکا ہے اور ہزاروں قانون نافذ کرنے والے ادارے اس ٹیکنالوجی کو استعمال کر رہے ہیں،کیمرے گاڑیوں کی نقل و حرکت سے متعلق معلومات جمع کر کے ایک ایسا ڈیٹا نیٹ ورک تشکیل دیتے ہیں جس کے ذریعے کسی گاڑی کی مختلف مقامات پر موجودگی کا سراغ لگایا جا سکتا ہے
لیکن شہری آزادیوں کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہی خصوصیت اس ٹیکنالوجی کو خطرناک بناتی ہے،ان کے مطابق کسی جرم کے شبہ کے بغیر عام شہریوں کی گاڑیوں کی نقل و حرکت ریکارڈ کرنا وسیع پیمانے پر نگرانی کے ایک ایسے نظام کو جنم دے سکتا ہے جس میں حکومت کو شہریوں کی نقل و حرکت پر غیر معمولی نظر رکھنے کی صلاحیت حاصل ہو جائے
فلوک کیمروں کے استعمال کے خلاف امریکا کی مختلف ریاستوں میں احتجاج بھی بڑھ رہا ہے،بعض مقامات پر شہریوں نے کیمروں کو ڈھانپنے یا نقصان پہنچانے کی کوششیں کی ہیں، جبکہ متعدد مقامی حکومتوں نے کمپنی کے ساتھ معاہدے ختم کرنے یا ٹیکنالوجی کے استعمال پر نظرثانی شروع کر دی ہے
مخالفت کی ایک بڑی وجہ پولیس کی جانب سے ان کیمروں سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کے مبینہ غلط استعمال کے واقعات بھی ہیں،بعض تحقیقات میں ایسے الزامات سامنے آئے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں نے سرکاری مقصد کے بجائے ذاتی معاملات میں لوگوں کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے کے لیے اس نظام کو استعمال کیا
یہ تنازع اب محض رازداری اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان بحث نہیں رہا بلکہ 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے دوران مصنوعی ذہانت، حکومتی نگرانی اور شہری آزادیوں کے بڑے سیاسی سوال میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے،دلچسپ بات یہ ہے کہ فلوک کیمروں کی مخالفت میں دائیں اور بائیں، دونوں سیاسی حلقوں کے لوگ ایک دوسرے کے قریب دکھائی دے رہے ہیں
فلوک انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ کیمروں کا مقصد شہریوں کی اجتماعی نگرانی نہیں بلکہ جرائم کی روک تھام اور تحقیقات میں پولیس کی مدد کرنا ہے،کمپنی نے بڑھتی ہوئی تنقید کے بعد ڈیٹا کے استعمال کی نگرانی اور پولیس اہلکاروں کی غیر معمولی تلاشوں کا سراغ لگانے سمیت مزید حفاظتی اقدامات متعارف کرانے کا اعلان بھی کیا ہے
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ یہ ٹیکنالوجی جرائم پکڑنے میں کتنی مؤثر ہے، بلکہ یہ ہے کہ ایک عام شہری کی گاڑی کہاں جاتی ہے، کس وقت جاتی ہے اور کتنی بار جاتی ہے، اس کی معلومات حکومت کے پاس کس حد تک ہونی چاہیے
فلوک کیمروں کے بڑھتے ہوئے پھیلاؤ نے امریکا میں ایک بنیادی بحث کو جنم دے دیا ہے،جرائم سے تحفظ کے نام پر جدید نگرانی کی ٹیکنالوجی کو کہاں تک اجازت دی جائے اور شہری کی نجی زندگی کی حد کہاں سے شروع ہوتی ہے





