سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر نئی پابندیوں کی راہ ہموار کر دی، وسط مدتی انتخابات میں غیر یقینی بڑھ گئی

سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر نئی پابندیوں کی راہ ہموار کر دی، وسط مدتی انتخابات میں غیر یقینی بڑھ گئی

واشنگٹن: امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر وسیع پابندیاں عائد کرنے والے انتظامی حکم کے خلاف قانونی رکاوٹیں کم کرتے ہوئے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل انتخابی نظام میں بڑی تبدیلی کی راہ ہموار کر دی ہے، تاہم اس معاملے پر قانونی جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی۔

سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ کے اس حکم کو آگے بڑھنے کا موقع مل گیا ہے جس کے تحت امریکی پوسٹل سروس کو ایسے ووٹرز کے لیے ڈاک کے ذریعے بیلٹ بھیجنے سے روکا جا سکتا ہے جو وفاقی اداروں کی تیار کردہ امریکی شہریوں کی فہرستوں میں شامل نہ ہوں
انتظامی حکم میں ریاستوں کے لیے یہ شرط بھی عائد کی گئی ہے کہ ڈاک کے ذریعے بھیجے جانے والے انتخابی بیلٹ ایسے لفافوں میں فراہم کیے جائیں جنہیں باقاعدہ طور پر ٹریک کیا جا سکے،انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد انتخابی دھاندلی کے امکانات کو کم کرنا اور ووٹنگ کے عمل کی نگرانی کو مضبوط بنانا ہے
تاہم اس اقدام نے انتخابی عمل، وفاقی اور ریاستی اختیارات اور ووٹرز کے حق رائے دہی سے متعلق نئے قانونی سوالات پیدا کر دیے ہیں،چونکہ کئی ریاستوں میں ڈاک کے ذریعے ووٹنگ انتخابی عمل کا ایک اہم حصہ ہے، اس لیے نئے قواعد کا نفاذ 2026 کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریاستی انتخابی نظام پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے
صدر ٹرمپ طویل عرصے سے امریکی انتخابات میں غیر شہریوں کی جانب سے ووٹ ڈالنے کے دعوے کرتے رہے ہیں اور 2020 کے صدارتی انتخابات میں اپنی شکست کے حوالے سے بھی انتخابی بے ضابطگیوں کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں،تاہم دستیاب مطالعات میں غیر شہریوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر ووٹ ڈالنے کے دعوے کی تائید نہیں ہوتی اور ایسے واقعات انتہائی کم پائے گئے ہیں
سپریم کورٹ کا حالیہ فیصلہ ٹرمپ کے انتظامی حکم کو حتمی قانونی منظوری نہیں دیتا،اس معاملے پر مزید عدالتی کارروائی جاری رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹنگ کے قواعد کے بارے میں صورتحال بدستور غیر یقینی رہے گی
اگر پابندیاں مکمل طور پر نافذ ہو گئیں تو انتخابی قوانین کے ایک ایسے شعبے میں بڑی تبدیلی واقع ہو سکتی ہے جس پر ریاستوں کو طویل عرصے سے وسیع اختیار حاصل رہا ہے، جبکہ ناقدین کے مطابق اس کے نتیجے میں لاکھوں ووٹرز کے لیے بیلٹ حاصل کرنے اور ووٹ ڈالنے کے طریقۂ کار میں پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں

قومی خبریں سے مزید