پاکستان میں بیٹریوں کا بڑھتا استعمال بجلی کے نظام کے لیے بڑی تبدیلی بن سکتا ہے
پاکستان میں شمسی توانائی کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد اب گھریلو اور کاروباری بیٹریوں کا استعمال بھی تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ بیٹریوں کی درآمدات 2024 میں 1.43 گیگا واٹ گھنٹے سے بڑھ کر 2025 میں 4.59 گیگا واٹ گھنٹے تک پہنچ گئیں، جن کی مالیت تقریباً 36 ملین ڈالر رہی
عالمی سطح پر بھی بیٹریوں کی قیمت مسلسل کم ہو رہی ہے۔ 2021 میں ایک کلو واٹ گھنٹے کی بیٹری کی قیمت تقریباً 137 ڈالر تھی جو 2026 میں کم ہو کر 105 ڈالر رہ گئی ہے۔ قیمتوں میں کمی اور شمسی بجلی کے بڑھتے استعمال سے گھروں میں بیٹریاں لگانے کا رجحان مزید تیز ہونے کا امکان ہے
گھروں میں نصب ہزاروں بیٹریوں کو ایک مربوط نظام کے ذریعے ایک بڑے بجلی گھر کی طرح استعمال کیا جا سکتا ہے دن کے وقت جب شمسی بجلی اضافی مقدار میں دستیاب ہو تو بیٹریاں چارج کی جائیں اور شام کے وقت بجلی کی طلب بڑھنے پر یہی ذخیرہ شدہ بجلی استعمال کی جائے
پاکستان میں بجلی کی سب سے زیادہ طلب گزشتہ 26 ماہ کے دوران مسلسل شام 7 بجے سے رات 11 بجے کے درمیان رہی ہے اس دوران مہنگے بجلی گھروں سے بجلی حاصل کرنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے، جس سے بجلی کی مجموعی لاگت میں بھی اضافہ ہوتا ہے
اگر گھروں اور چھوٹے کاروباروں کی بڑی تعداد اپنی بیٹریاں بجلی کے نظام سے منسلک کر دے تو شام کے اوقات میں مہنگے بجلی گھروں سے بجلی خریدنے کی ضرورت کم کی جا سکتی ہے۔ اس طرح درآمدی ایندھن پر انحصار اور بجلی کے اضافی اخراجات میں کمی ممکن ہے
تجزیے کے مطابق اگر بیٹریوں اور شمسی توانائی کے اس نظام کو مناسب انداز میں استعمال کیا جائے تو پاکستان کی توانائی کی سلامتی بھی مضبوط ہو سکتی ہے گزشتہ چھ ماہ کے دوران شمسی توانائی کے بڑھتے استعمال کے باعث تقریباً 700 ملین ڈالر مالیت کی مائع قدرتی گیس کی درآمد سے بچنے میں مدد ملی
تاہم اس نظام کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ گھروں سے بجلی یا ذخیرہ شدہ توانائی خریدنے کی قیمت منصفانہ ہو بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو بھی ایسے منصوبے شروع کرنا ہوں گے جن کے ذریعے زیادہ بیٹریاں رکھنے والے علاقوں میں اس نظام کو آزمایا جا سکے
ماہرین کے مطابق پاکستان کا موجودہ بجلی کا منصوبہ بندی کا نظام بڑے اور مرکزی بجلی گھروں کو سامنے رکھ کر بنایا گیا ہے، جبکہ اب شمسی پینل اور گھریلو بیٹریاں بجلی کی پیداوار اور ذخیرے کی صورت بدل رہی ہیں
اگر حکومت نے بروقت ایسا نظام تشکیل دے دیا جس میں گھریلو بیٹریوں کو بجلی کے قومی نظام کا حصہ بنایا جا سکے تو یہ نہ صرف صارفین کے اخراجات کم کر سکتا ہے بلکہ مہنگے درآمدی ایندھن اور اضافی بجلی پیدا کرنے کی ضرورت بھی کم کر سکتا ہے
توانائی کے شعبے میں آنے والی یہ تبدیلی اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مستقبل میں بجلی کا نظام صرف بڑے بجلی گھروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ہزاروں گھروں اور چھوٹے کاروباروں میں نصب شمسی پینل اور بیٹریاں بھی مجموعی بجلی کے نظام کا اہم حصہ بن سکتی ہیں





