اچھی گندم پیداوار کے باوجود پاکستان میں بحران، آٹے کی قیمتیں بڑھنے لگیں

اچھی گندم پیداوار کے باوجود پاکستان میں بحران، آٹے کی قیمتیں بڑھنے لگیں

حکومتی خریداری میں کمی، نجی ذخیرہ اندوزی اور پالیسی پر سوالات اٹھنے لگے

اسلام آباد: پاکستان ایک بار پھر گندم کے بحران کی زد میں ہے۔ 2026 میں گندم کی فصل کو مجموعی طور پر تسلی بخش قرار دیے جانے کے باوجود آٹے کی قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، جبکہ صوبائی حکومتیں طلب پوری کرنے کے حوالے سے خدشات کا اظہار کر رہی ہیں حکومت کو ممکنہ قلت پر قابو پانے کے لیے گندم درآمد کرنے کے مطالبات کا بھی سامنا ہے
تجزیے کے مطابق موجودہ صورتحال کا بنیادی مسئلہ گندم کی پیداوار سے زیادہ حکومتی پالیسی اور خریداری کے نظام سے متعلق ہے
مالی سال 2026 میں وفاقی حکومت نے گندم کی سرکاری خریداری میں نمایاں کمی کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ نجی شعبہ گندم کی خریداری اور ذخیرہ کاری زیادہ مؤثر انداز میں کر سکتا ہے
تاہم کسان پہلے ہی کھاد، ڈیزل، بجلی، آبپاشی، زرعی ادویات اور مزدوری کی بڑھتی ہوئی لاگت سے دباؤ میں تھے سرکاری خریداری کے مؤثر نظام کی عدم موجودگی میں متعدد کسانوں کو فصل کٹنے کے فوراً بعد گندم فروخت کرنا پڑی، جس سے انہیں مناسب قیمت حاصل کرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا
دوسری جانب نجی تاجروں نے کم قیمت پر گندم خرید کر اسے گوداموں میں ذخیرہ کیا۔ بعد ازاں قیمتوں میں اضافے کے ساتھ یہی گندم مارکیٹ میں فروخت کی گئی
اس صورتحال میں ایک طرف کسانوں کو کم قیمت پر فصل فروخت کرنے پر مجبور ہونا پڑا، جبکہ دوسری طرف صارفین کو مہنگا آٹا خریدنا پڑ رہا ہے
گندم کی پالیسی میں پاکستان ایگریکلچرل اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن (پاسکو) کا کردار بھی زیر بحث آگیا ہے
پاسکو ماضی میں گندم خریدنے، اسٹریٹجک ذخائر برقرار رکھنے اور قلت کے دوران مارکیٹ کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ تجزیے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ پاسکو کو ختم یا کمزور کرنے کے بجائے شفافیت اور احتساب کے ذریعے اسے مزید مؤثر بنایا جانا چاہیے
موجودہ بحران کا سب سے بڑا اثر کسان اور عام صارف دونوں پر پڑ رہا ہے کسان کو پیداواری لاگت پوری کرنے کے لیے مناسب قیمت نہیں ملتی، جبکہ بعد میں صارف کو آٹا مہنگے داموں خریدنا پڑتا ہے
ماہرین کے مطابق بنیادی غذائی اجناس کے معاملے میں صرف آزاد منڈی پر انحصار کافی نہیں، بلکہ حکومت کو اسٹریٹجک ذخائر، شفاف خریداری اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف مؤثر نگرانی کا نظام بھی برقرار رکھنا چاہیے
تجزیے کے مطابق پاکستان کا موجودہ گندم بحران محض پیداوار یا قلت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اس بنیادی سوال سے جڑا ہے کہ ملک کے غذائی نظام کو کون کنٹرول کرتا ہے اور زرعی پالیسی کے فوائد کس طبقے تک پہنچتے ہیں
مصنف نے فوڈ سکیورٹی اور فوڈ سُوورینٹی کے لیے سرکاری خریداری بحال کرنے، اسٹریٹجک گندم ذخائر برقرار رکھنے، ذخیرہ اندوزی اور قیاس آرائی کو روکنے، کسانوں کو منصفانہ قیمت دینے اور صارفین کے لیے آٹے کی مناسب قیمت یقینی بنانے پر زور دیا ہے

قومی خبریں سے مزید