عدالتی حکم کے بعد 23 اگست کی پاکستان ڈے پریڈ کا راستہ صاف،کمیٹی کی اندرونی تقسیم اور کم ہوتی عوامی دلچسپی اپنی جگہ برقرار ، رہی سہی کسر بارش پوری کرے گی

عدالتی حکم کے بعد 23 اگست کی پاکستان ڈے پریڈ کا راستہ صاف،کمیٹی کی اندرونی تقسیم اور کم ہوتی عوامی دلچسپی اپنی جگہ برقرار ، رہی سہی کسر بارش پوری کرے گی

نیویارک میں 23 اگست کو ہونے والی پاکستان ڈے پریڈ کے انتظامی اختیار پر پاکستان ڈے پریڈ کمیٹی کے دو دھڑوں کے درمیان جاری قانونی تنازعے میں جمعہ کو مین ہٹن کی نیویارک اسٹیٹ سپریم کورٹ میں ہونے والی آن لائن سماعت کے دوران فوری طور پر کسی حتمی فیصلے کے بجائے معاملہ یکم ستمبر تک ملتوی کر دیا گیا
تنازعے میں ایک طرف وہ دھڑا ہے جو منیر لودھی اور احمد جان کی قیادت میں رواں سال کی پریڈ کے انتظامات کر رہا ہے، جبکہ دوسرے دھڑے کی نمائندگی قاسم مجید گروپ کر رہا ہے،دونوں جانب سے عدالت میں مقدمات اور دستاویزات جمع کرائے جانے کے بعد معاملات کو ایک ہی جج کے سامنے یکجا کر دیا گیا ہے
جمعہ کی سماعت میں عدالت نے 23 اگست کی پریڈ کو روکنے کا کوئی حکم جاری نہیں کیا،عدالت نے دونوں فریقوں کو ہدایت کی کہ یکم ستمبر کو ایک ایک گواہ پیش کریں تاکہ دونوں جانب کا مؤقف سننے کے بعد معاملے پر مزید کارروائی کی جا سکے،اس طرح موجودہ صورت حال میں 23 اگست کی پریڈ کے انعقاد پر عدالتی رکاوٹ سامنے نہیں آئی
قاسم مجید گروپ کی جانب سے عدالت میں دائر دستاویزات میں بنیادی مؤقف یہ اختیار کیا گیا ہے کہ کمیٹی میں باقاعدہ انتخابات ہوئے تھے اور موجودہ منتخب عہدیداروں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا،ان دستاویزات کے مطابق ستمبر 2025 میں ہونے والے انتخابی عمل میں قاسم مجید صدر، احمد خان چیئرمین اور ہارون رامے جنرل سیکریٹری منتخب ہوئے تھے،انتخابی عمل کے حوالے سے دستخط شدہ دستاویزات، لائسنس کی نقول، نوٹری شدہ کاغذات اور دیگر ریکارڈ بھی عدالت کے سامنے پیش کیے گئے ہیں،-۱اس انتخابی عمل کی آزادانہ طور پر تصدیق عدالت کے حتمی فیصلے سے پہلے نہیں ہوئی، تاہم اس کے بارے میں پہلے بھی کمیٹی کی جانب سے اعلان کیا جا چکا ہے
دوسرے فریق کی جانب سے ان انتخابات کی حیثیت اور کمیٹی کے انتظامی اختیار پر اعتراضات کیے گئے ہیں،قانونی تنازعے کا ایک اہم پہلو یہی ہے کہ پریڈ کے انتظام، تنظیمی اختیار اور مستقبل کے فیصلوں کا قانونی حق کس گروپ کے پاس ہے
اس تنازعے نے ایک ایسے وقت میں پاکستان ڈے پریڈ کو اپنی گرفت میں لیا ہے جب خود پریڈ کی عوامی کشش اور حجم بھی ماضی کے مقابلے میں نمایاں طور پر انتہائ کم ہوچکا ہے،تاریخی طور پر یہ تقریب نیویارک میں پاکستانی امریکی برادری کی بڑی اجتماعی سرگرمیوں میں شمار ہوتی رہی ہے،1997 تک نیویارک سٹی حکومت کے ریکارڈ میں بھی پاکستان کی آزادی کے حوالے سے سالانہ پریڈ کو باقاعدہ شہر کی اہم کمیونٹی تقریبات میں شامل کیا گیا تھا، تاہم مسلسل تنازعات اور آپس کی کشیدگی کے ساتھ عدالتی تنازع اور کم ہوتی شرکت نے پریڈ تقریباً ختم کردی ہے ، امسال پریڈ منعقد کروانے والے افراد کے ذرائع اعتراف کرتے ہیں جن حالات میں پریڈ کمیٹی کو پہنچا دیا ہے بہتر ہے پریڈ خود ملتوی کردی جائے
پریڈ کی موجودہ انتظامی صورت حال کے مطابق اس سال بھی پریڈ میں فلوٹس کی تعداد بھی ماضی کے مقابلے میں مذید کمُ ہو گئی ہے،منتظمین سے وابستہ افراد کے مطابق تقریباً 6 فلوٹس شامل ہونے کی توقع ہے، جن میں ہمیشہ کی طرح وہی چار سے پانچ مختلف کنسٹرکشن کمپنیوں کے فلوٹس، جنکے مالکان پریڈ کمیٹی کا حصہ بھی ہیں ،
اصل چیلنج صرف عدالت کا فیصلہ نہیں بلکہ پریڈ کی گرتی ہوئی عوامی کشش بھی ہے، جس کی وجہ پریڈ کمیٹی پر ایک خاص لسانی گروہ کا قبضہ جس کے کلچر میں لڑای ماردھاڑ عام روایت اور باعث فخر ہے اور جسے پاکستان میں شریکوں کی لڑائ کہا جاتا ہے ، بظاہر پاکستان کے نام سے شروع ہونے والی پریڈ کمیٹی میں نہ صرف ایک خاص لسانی گروہ کا قبضہ ہے بلکہ امریکہ میں بھی ایک مخصوص کاروبار کرنے والوں نے تین دہائیوں سے قبضہ کررکھا ہے جہاں اسی ایک خاص کاروبار تعمیراتی کاروبار سے منسلک افراد ہی پریڈ کمیٹی کا حصہ بن سکتے ہیں اسکی وجہ یقیناً یہی ہے پریڈ کمیٹی کے ممبران کا سوشل دائرہ بھی اسی کاروبار سے منسلک افراد تک محدود ہے جبکہ پریڈ کمیٹی میں ایک چوراسی سالہ ڈاکٹر کے علاوہ جبکہ منیر لودھی جو بیشتر وقت پاکستان میں گزارتا ہے اور پریڈ کے انعقاد سے پہلے امریکہ آکر ٹیکسی چلاتا ہے،
جہاں اس سال موسم پریڈ کی کامیابی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ بن سکتا ہے،23 اگست کو مین ہٹن میں دوپہر سے شام تک بارش کے پچھتر فیصد امکانات ہیں جو دن دو بجے سے رات آٹھ بجے تک جاری رہ سکتی ہے
اسی کے ساتھ ہے یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا اس سال پریڈ ایسی بڑی تفریحی یا ثقافتی شخصیت کو متوجہ کر سکے گی جو پاکستانی امریکی برادری کے علاوہ عام شہریوں کو بھی مین ہٹن کی جانب کھینچ سکے،ماضی کی بڑی تقریبات میں معروف پاکستانی فنکاروں اور گلوکاروں کی شرکت نے تقریب کی کشش میں اضافہ کیا تھا، جبکہ اس سال پریڈ ایسی کسی بڑی عوامی کشش کے حوالے سے صورتحال سے بھی انتہائ کمزور دکھائی دیتی ہے، اور بتایا جاتا ہے کوئ یوٹیوبر گلوکار مدعو کیا گیا ہے جسے امریکن پاکستانی کمیونٹی اور خصوصا نوجوان نسل کسی طور نہیں جانتی ، ادھر مئیر آفیس کے ذمہ دار زرائع نے بھی اس امر کی تصدیق کردی ہے کہ مئیر نیویارک سٹی مئیر زوہران ممدانی جو انڈین ڈے پریڈ میں موجود تھے مگر پاکستانی پریڈ میں شرکت نہیں کریں، تقریب میں مئیر کی شرکت نہ کرنے کی مختلف وجوہات بتای جارہی ہے جن میں سے ایک مئیر ممدانی کا کوئ غیر ملکی دورہ بھی ایک وجہ بتایا جارہا ہے، تاہم واقفان حال کا دعوہ ہے مئیر کی عدم شرکت کی اہم ترین وجوہات میں پریڈ کمیٹی کے اراکین میں کھینچا تانی ، عدالتی تنازعہ کے ساتھ پریڈ میں کمیونٹی کی عدم دلچسپی ہے ، ادھر پریڈ کمیٹی میں منیر لودھی گروپ کے ایک رکن نے نام نہ بتانے کی شرکت پر بتایا ہے آج عدالت میں جج نے چند منٹوں کی آن لائن سماعت میں دونوں گروہوں کو مارشل کی نگرانی میں نئے انتخابات کرانے کا عندیہ دیا ہے ، ذریعہ کا کہنا ہے ، جج کے ریمارکس سے تاثر لیا گیا ہے اگر وہ دونوں طرف کی کہانی سن کر مطمئن نہ ہوا تو مارشل کی نگرانی میں انتخابات منعقد کروائے جائیں گے ، ادھر اسی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے بظاہر جج کے فیصلے کے مطابق آئندہ اتوار کو منعقد ہونے والی پریڈ میں دونوں گروہوں میں سے کسی ایک کو پریڈ کرنے کا نہ تو اختیار دیا گیا نہ کسی ایک کو روکا گیا جس کا مطلب ہے دونوں گروہ ملکر تقریب کا انعقاد کرسکتے ہیں تاہم منیر لودھی گروہ نے قاسم مجید گروہ کے پانچ سے چھ افراد کے خلاف عدالت سے Restraining Order
لے رکھے ہیں جن افراد کے نام اس آڈر میں شامل ہیں ان میں قاسم مجید احمد خان اور ہارون رامے کے نام بھی شامل ہیں ، ایسی صورت میں انکا پریڈ میں شرکت کرنا کسی حادثے کا سبب بن سکتا ہے ، اسی کے ساتھ پریڈ میں پاکستانی سفارت کاروں کی شرکت کے پس منظر میں بھی سوالات موجود ہیں آیا وہ گزشتہ سال کی طرح امسال بھی پریڈ کا بائیکاٹ کریں گے جس کی وجہ گزشتہ سال پریڈ میں تحریک انصاف کا فلوٹس اور عوام کی دلبستگی کے لیے بلایا گیا گلوکار تھا جو عمران خان کی تعریفوں پر مشتمل شاعری کو اپنی گلوکاری سے عوام میں پھیلانے کے کام پر مامور تھا ، یہاں واضع رہے پاکستان ڈے پریڈ کمیٹی میں ممبران کے قبضہ گروپ میں شامل اکثریت تحریک انصاف سے قربت رکھتی ہے جبکہ پرانے قبضہ گروپ کی نمائندگی احمد جان کرتے ہیں جنکا تعلق پاکستان مسلم لیگ ن سے ہے جس کے اراکین نے نہ صرف ایک طویل عرصہ پاکستان ڈے پریڈ کمیٹی پر قبضہ رکھا بلکہ پریڈ کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا اور اب اقتدار کے مزے لوٹنے جو نمود و نمائش سے مبینہ طور پر چند ہزار ڈالروں کے غبن تک محدود ہیں ، تحریک انصاف کے حمایتوں سے ملکر بھی اس تسلسل کو جاری رکھے ہوئے ہے ، یہاں یہ امر دلچسپی سے ہرگز خالی نہیں ، پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف دونوں کو ہی پاکستان میں اپنے اپنے طرز کی الگ جمہوریت چاہیئے مگر پاکستان ڈے پریڈ نیویارک میں یہ دونوں ملکر

قومی خبریں سے مزید