ایپل کے کیمروں والے نئے ایئرپوڈز دفاتر اور جم میں پابندی کا شکار کیوں ہو سکتے ہیں؟

ایپل کے کیمروں والے نئے ایئرپوڈز دفاتر اور جم میں پابندی کا شکار کیوں ہو سکتے ہیں؟

ایپل کے آئندہ نئے ایئرپوڈز، جن میں کیمرے شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں، ٹیکنالوجی کی دنیا میں غیر معمولی دلچسپی کے ساتھ ساتھ رازداری اور نگرانی سے متعلق بڑے سوالات بھی پیدا کر رہے ہیں،اطلاعات کے مطابق ایپل ان وائرلیس ہیڈفونز کو اپنی مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی ’’ایپل انٹیلی جنس‘‘ کے ساتھ جوڑنے کی تیاری کر رہا ہے، جس سے یہ محض موسیقی سننے والے آلات کے بجائے اردگرد کی دنیا کو سمجھنے اور اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے ذاتی معاون بن سکتے ہیں
رپورٹس کے مطابق نئے ایئرپوڈز میں لگے کیمرے مختلف اشیا کو شناخت کرنے اور ان کے بارے میں مصنوعی ذہانت کے ذریعے معلومات فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو سکتے ہیں،ایک سامنے آنے والی ویڈیو میں دکھایا گیا کہ یہ ٹیکنالوجی کسی کتاب کی تفصیلات اسکین کرکے صارف کو بعد میں اسے تلاش کرنے میں مدد دے سکتی ہے،
اگرچہ ایپل نے مبینہ طور پر رازداری کو اس ٹیکنالوجی کے ڈیزائن میں اہم ترجیح بنایا ہے، لیکن کیمروں سے لیس ایئرپوڈز کے عام استعمال نے دفاتر، جم اور دیگر نجی مقامات کے لیے نئی پیچیدگیاں پیدا کر دی ہیں،سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کسی شخص کے کانوں میں موجود ایک انتہائی چھوٹا کیمرہ کب اور کس چیز کی ریکارڈنگ کر رہا ہے، یہ اردگرد موجود دوسرے لوگوں کے لیے کیسے واضح ہوگا
دفاتر میں حساس دستاویزات، کمپیوٹر اسکرینوں اور نجی اجلاسوں کی غیر ارادی طور پر عکس بندی کا خطرہ کمپنیوں کو ایسے آلات پر پابندی عائد کرنے پر مجبور کر سکتا ہے،اسی طرح جم، لاکر رومز اور دیگر نجی نوعیت کی جگہوں پر لوگوں کی رازداری کا مسئلہ مزید سنگین ہو سکتا ہے
یہ معاملہ صرف ایپل تک محدود نہیں،پہننے والی ٹیکنالوجی میں کیمروں اور مصنوعی ذہانت کا امتزاج اس بنیادی سوال کو جنم دے رہا ہے کہ عوامی اور نجی مقامات پر ریکارڈنگ کے اصول کیسے تبدیل ہوں گے،اگر صارف کیمرہ آن کیے بغیر بھی مصنوعی ذہانت کی سہولت استعمال کر سکے تو اس ٹیکنالوجی کے عملی استعمال اور رازداری کے درمیان توازن مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے
ایپل کے لیے اصل چیلنج اس ٹیکنالوجی کو متعارف کرانا نہیں بلکہ صارفین اور کاروباری اداروں کو یہ یقین دلانا ہوگا کہ کیمروں والے ایئرپوڈز رازداری کے لیے خطرہ نہیں بنیں گے،اگر یہ اعتماد قائم نہ ہو سکا تو مستقبل کے یہ جدید ایئرپوڈز بعض دفاتر، جم اور حساس مقامات پر داخلے کی اجازت سے محروم بھی ہو سکتے ہیں

قومی خبریں سے مزید