اے آئی پر عالمی اتفاقِ رائے بن چکا، اب ’تیزی سے آگے بڑھو اور چیزیں توڑ دو‘ کا دور ختم ہونا چاہیے: صادق خان
لندن: لندن کے میئر صادق خان نے مصنوعی ذہانت کے تیزی سے پھیلاؤ اور اس کے ممکنہ خطرات پر فوری عالمی ضابطہ کاری پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اے آئی کمپنیوں کے سربراہان بھی اب انہی خدشات کا اظہار کر رہے ہیں جن کی وہ لندن کے شہریوں کی جانب سے پہلے نشاندہی کرتے رہے ہیں، جس سے اس معاملے پر عملی اقدامات کے لیے وسیع اتفاقِ رائے پیدا ہونے کے آثار نمایاں ہو گئے ہیں
صادق خان نے 14 ستمبر 2026 کو اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر جاری ایک تفصیلی بیان میں کہا کہ مصنوعی ذہانت ایک انتہائی طاقتور ٹیکنالوجی ہے اور سیاست دانوں اور ضابطہ کاروں کو اس کے مواقع اور خطرات دونوں پر مسلسل نظر رکھنا ہوگی،ان کے مطابق ذمہ دارانہ استعمال کی صورت میں اے آئی کینسر کے علاج اور موسمیاتی بحران جیسے بڑے عالمی چیلنجز سے نمٹنے میں غیر معمولی مدد دے سکتی ہے، لیکن غیر ذمہ دارانہ استعمال یا غلط ہاتھوں میں جانے کی صورت میں یہ قومی سلامتی، بچوں کی فلاح و بہبود اور خواتین و بچیوں کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے
لندن کے میئر نے کہا کہ وہ پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ مصنوعی ذہانت روزگار کے لیے ’اجتماعی تباہی کا ہتھیار‘ ثابت ہو سکتی ہے،اسی تشویش کے پیش نظر لندن حکومت نے اے آئی اور روزگار کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے لندن اے آئی اینڈ جابز ٹاسک فورس قائم کی ہے، جس کا مقصد لیبر مارکیٹ میں ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی اور کسی منفی رجحان کی صورت میں ابتدائی انتباہ فراہم کرنا ہے،ٹاسک فورس کی سربراہی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت بیرونس مارتھا لین فاکس کر رہی ہیں
صادق خان نے کہا کہ اے آئی کے ماہرین اور انجینئرز سائبر سیکیورٹی اور انٹرنیٹ کے بنیادی ڈھانچے کی سلامتی کو لاحق خطرات کے ساتھ ساتھ اس امکان پر بھی شدید تشویش رکھتے ہیں کہ بدمعاش ریاستیں یا غیر ریاستی عناصر مصنوعی ذہانت کو حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے استعمال کر سکتے ہیں
انہوں نے کہا کہ دنیا پہلے ہی سوشل میڈیا کے معاملے میں نئی ٹیکنالوجی کو مؤثر طریقے سے ضابطے میں نہ لانے کے نتائج دیکھ چکی ہے،ان کے مطابق سوشل میڈیا کو جمہوریتوں کو کمزور کرنے، معاشرتی تقسیم اور غلط معلومات پھیلانے کے لیے استعمال کیا گیا جبکہ بعض صورتوں میں اس کے نوجوانوں اور ان کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے
لندن کے میئر نے خبردار کیا کہ دنیا مصنوعی ذہانت کے معاملے میں سوشل میڈیا کی غلطیوں کو دوبارہ نہیں دہرا سکتی اور حکومتوں کو ’دیکھو اور کچھ نہ کرو‘ کی پالیسی اختیار نہیں کرنی چاہیے،انہوں نے قومی حکومتوں اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری طور پر مل کر کام کریں تاکہ مصنوعی ذہانت محفوظ انداز میں تیار اور استعمال ہو
صادق خان کے مطابق کم از کم یہ یقینی بنانا ضروری ہے کہ اے آئی پر مؤثر جمہوری نگرانی موجود ہو اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں رائج ’تیزی سے آگے بڑھو اور چیزیں توڑ دو‘ کے تصور کا فیصلہ کن خاتمہ کیا جائے،ان کا کہنا تھا کہ لندن اور یورپ زیادہ مضبوط عالمی اداروں، تیز رفتار اور مؤثر ضابطہ کاری اور ایسی پالیسی کے ذریعے قیادت کر سکتے ہیں جس میں انسان اور معاشرہ ٹیکنالوجی کو تشکیل دیں، نہ کہ ٹیکنالوجی انسانوں اور معاشروں کو اپنی مرضی سے تشکیل دے
صادق خان نے جولائی میں لندن اے آئی اینڈ جابز ٹاسک فورس کی سفارشات بھی قبول کی تھیں اور کہا تھا کہ لندن کو مصنوعی ذہانت سے پیدا ہونے والی تبدیلی کا انتظار کرنے کے بجائے اسے اپنی شرائط پر تشکیل دینا ہوگا،لندن سٹی ہال نے اس مقصد کے لیے نوجوانوں کی مہارتوں اور روزگار کی تیاری کے لیے مزید 18 ملین پاؤنڈ مختص کرنے کا اعلان بھی کیا تھا
نئے بیان میں صادق خان نے اے آئی کے خطرات کو صرف روزگار تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے سائبر سیکیورٹی، حیاتیاتی ہتھیاروں، قومی سلامتی، بچوں اور خواتین کی حفاظت اور جمہوری نظام کے لیے بھی ایک وسیع تر عالمی چیلنج قرار دیا ہے،ان کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ مصنوعی ذہانت کی رفتار کے مقابلے میں حکومتی نگرانی اور ضابطہ کاری پیچھے رہ گئی تو ٹیکنالوجی کے فوائد حاصل کرنے کے بجائے اس کے نقصانات کو روکنا کہیں زیادہ مشکل ہو سکتا ہے






